منظر ۔شهمیر نے ڈائری بند کی اور اس پر اپنا ہاتھ ہلکا سا ٹھپا ۔جیسے کسی پرانی دوست کو رُخصت کر رہا ہو ۔اُس لمحے کی یاد نے اُسے کمزور نہیں بلکہ پُراُمّید کر دیا تھا ۔اس نے محسوس کیا کے یادوں کے بند کمرے میں رے کر انسان کبھی آگے نہیں بڑھ سکتا ۔اُسنے کُرسی پیچھے ہٹھائی اور کھڑکی کے پاس جاتا کر کھڑا ہو گیا ، باہر آسمان پر ہلکی ہلکی سپیڈی نمودار ہو رہی تھی فجر کا وقت قریب تھا ۔شهمیر نے اپنا پُرانا بیگ اٹھایا اور اُس میں صرف ضرورت کا سامان رکھا ۔ اُسنے ڈائری میز