وحشت ہی وحشت(قسط نمبر( 4)
جب تیمور گھر میں داخل ہوا، تو ہنا نے موقع غنیمت جانا۔ اس نے اپنا بہترین لباس پہنا، خوب میک اپ کیا اور چائے کی ٹرے لے کر تیمور کے سامنے آئی۔ اس نے اپنی طرف سے بہت دلکش مسکراہٹ دی اور کہا"تیمور صاحب! آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے کل ہماری بہن کی مدد کی۔ میرا نام ہنا ہے، آپ چائے لیں گے۔"تیمور نے ایک سرد نظر ہنا پر ڈالی۔ اس کی نیلی آنکھوں میں ہنا کے لیے کوئی کشش نہیں تھی۔ اس نے چائے کو ہاتھ تک نہ لگایا اور کرخت آواز میں پوچھا:"منت کہاں ہے؟ میں نے اسے بلانے کے لیے کہا تھا۔"
ہنا کا چہرہ فق ہو گیا۔ "وہ... وہ تو کچن میں برتن دھو رہی ہوگی۔"تیمور غصے سے کھڑا ہو گیا، اس کے ڈیمپلز اب غائب ہو چکے تھے اور چہرے پر سختی آگئی تھی۔ "زران! میں نے کل کیا کہا تھا؟ کہ منت کی آنکھ میں آنسو نہیں آنا چاہیے۔ یہ لوگ اسے اب بھی ملازمہ سمجھ رہے ہیں۔"
تیمور سیدھا کچن کی طرف بڑھا۔ وہاں منت واقعی فرش صاف کر رہی تھی۔ تیمور نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے کھڑا کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"بس بہت ہو چکا منت! اب تم اس گھر میں ایک لمحہ بھی نہیں رہو گی۔ زران، اس کا سامان اٹھاؤ۔ یہ آج سے میرے 'دی ایگل ولا' (The Eagle Villa) میں رہے گی، میری حفاظت میں۔"منت نے گھبرا کر تیمور کی نیلی آنکھوں میں دیکھا۔ "لیکن میں... میں کیسے؟"تیمور نے اس کے چہرے کے قریب جھک کر دھیمے لہجے میں کہا، "تم نے کہا تھا نہ کہ تم میری منت ہو؟ اور تیمور کاظمی اپنی منتیں کبھی دوسروں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑتا۔۔۔۔۔۔۔"
تیمور کاظمی صرف استنبول کا بزنس ٹائیکون نہیں تھا، وہ موت کا دوسرا نام تھا۔ زیرِ زمین دنیا میں ایک بات مشہور تھی کہ اگر تیمور کاظمی آپ سے ناراض ہے، تو موت آپ کے لیے ایک نعمت ہوگی۔ اس کا اپنے دشمنوں کو سزا دینے کا طریقہ انتہائی ہولناک تھا۔ اسے اپنے دشمنوں کی آنکھیں نکالنا پسند تھا کیونکہ وہ کہتا تھا: "جس نے میری طرف اٹھنے والی میلی نظر دیکھی، اسے دنیا دیکھنے کا کوئی حق نہیں"۔ اور دل نکالنا اس کا وہ شوق تھا جو اس کے اس ادھورے انتقام کی تسکین کرتا جو اسے اپنی ماں کی بربادی سے ملا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منظر کشی:
ارسلان، جسے تیمور نے اسی کے ولا کے تہہ خانے میں قید کیا تھا، اب زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا۔ اندھیرے کمرے میں صرف تیمور کے بھاری بوٹوں کی آواز گونجی۔ تیمور کے ہاتھ میں ایک چمکتا ہوا جراحی کا چاقو (Scalpel) تھا اور اس کے چہرے پر وہ قاتلانہ ڈیمپلز نمایاں تھے جو اس وقت موت کا پیغام لگ رہے تھے۔۔۔۔
زران خاموشی سے ایک طرف کھڑا تھا، جیسے اسے معلوم ہو کہ اب کیا ہونے والا ہے۔تیمور... مجھے معاف کر دو! میں سب کچھ دے دوں گا!" ارسلان گڑگڑایا۔۔۔تیمور نے اس کے قریب جھک کر اس کی آنکھوں میں اپنی نیلی آنکھیں گاڑ دیں، جن میں اس وقت کوئی رحم نہ تھا۔۔۔"تم نے منت پر ہاتھ اٹھایا تھا نہ؟ ان ہاتھوں کو تو میں پہلے ہی کٹوا چکا ہوں۔ اب ان آنکھوں کی باری ہے جنہوں نے اسے ہوَس سے دیکھا تھا۔"کمرہ ارسلان کی دلدوز چیخوں سے گونج اٹھا، لیکن تیمور کے ہاتھ ذرا بھی نہ کانپے۔ چند منٹوں بعد، تیمور کمرے سے باہر نکلا، اپنے خون آلود ہاتھ سفید رومال سے صاف کرتے ہوئے۔ اس نے مقتول کی لاش کے پاس اپنا مخصوص بلیک کارڈ چھوڑ دیا، جس پر سنہری حروف میں صرف ایک لفظ لکھا تھا:
"JUSTICE" (انصاف)
یہ کارڈ اس بات کی نشانی تھی کہ یہ شکار تیمور کاظمی کا ہے، اور پولیس ہو یا کوئی دوسرا گینگ، کسی کی جرات نہ تھی کہ اس کیس میں مداخلت کرے۔
(دی ایگل ولا: منت کی نئی دنیا)
جب تیمور اپنے ولا پہنچا، تو اس نے اپنے چہرے سے درندگی کے تمام اثرات مٹا دیے تھے۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ منت اس کے اس روپ سے ڈر جائے۔
ولا کے ایک وسیع کمرے میں منت کھڑی حیرت سے در و دیوار کو دیکھ رہی تھی، جہاں ہر چیز ہیرے جواہرات کی طرح چمک رہی تھی۔ تیمور اندر داخل ہوا، اب وہ ایک نہایت نفیس سفید شرٹ میں تھا جس کے اوپر کے دو بٹن کھلے تھے، جو اسے مزید پرکشش بنا رہے تھے۔"تمہیں یہ جگہ پسند آئی؟" اس نے نرمی سے پوچھا۔منت نے مڑ کر اسے دیکھا، اس کی آنکھیں ابھی بھی سہمی ہوئی تھیں۔ "آپ... آپ اتنے لوگوں کو کیوں مارتے ہیں؟ مجھے ڈر لگتا ہے آپ سے۔"
تیمور خاموشی سے اس کے قریب آیا اور اس کا چھوٹا سا ہاتھ اپنے بڑے ہاتھ میں لے لیا۔ اس نے اپنی جیب سے ایک قدیم، نایاب نیلم (Sapphire) کی انگوٹھی نکالی، جس کا رنگ بالکل تیمور کی آنکھوں جیسا تھا۔"یہ میری ماں کی آخری نشانی ہے، منت۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ اسے دینا جسے تم اپنی زندگی سونپ دو۔ آج سے یہ تمہاری حفاظت کرے گی۔ اور یاد رکھنا..." اس کا لہجہ اچانک گہرا ہو گیا، "تیمور کاظمی پوری دنیا کے لیے ایک جلاد ہو سکتا ہے، لیکن تمہارے لیے وہ صرف تمہارا محافظ ہے۔"
تیمور نے وہ انگوٹھی منت کی نازک انگلی میں پہنا دی۔ منت کو محسوس ہوا جیسے اس انگوٹھی کے لمس سے ایک عجیب سی طاقت اس کے اندر سرایت کر گئی ہو۔
✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️
(نئے سائے، پرانے بدلے)
منت نے اپنی انگلی میں چمکتے ہوئے اس نایاب نیلم کو دیکھا۔ اس کی ٹھنڈک اسے سکون نہیں، بلکہ ایک عجیب سی بے چینی دے رہی تھی۔ اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے اس انگوٹھی کے ساتھ تیمور کے سیاہ ماضی کا بوجھ بھی اس کے کمزور کندھوں پر آ گیا ہو۔
"آپ کی ماں... وہ اب کہاں ہیں؟" منت نے دبی آواز میں پوچھا۔
تیمور کی آنکھوں میں ایک لمحے کے لیے وہی سرد لہر دوڑی جو ارسلان کا دل نکالتے وقت آئی تھی، لیکن اس نے فوراً خود پر قابو پایا۔ اس نے منت کے بال اس کے کان کے پیچھے کیے اور سرگوشی کی: "وہ اب وہاں ہیں جہاں انہیں کوئی تکلیف نہیں دے سکتا۔ لیکن ان کے گناہگاروں کی فہرست ابھی ادھوری ہے۔"
(زران کی آمد۔۔۔۔۔۔۔۔۔)
اسی وقت کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی۔ زران اندر داخل ہوا، اس کے چہرے پر سنجیدگی تھی۔ وہ تیمور کا دایاں ہاتھ تھا اور صرف وہی جانتا تھا کہ استنبول کے ساحل پر ایک نئی لہر اٹھ رہی ہے۔"تیمور،'دی کونسل' کا پیغام آیا ہے...
ارسلان کے قتل نے ان کے بڑے مہروں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ وہ آج رات ملاقات چاہتے ہیں،" زران نے رک کر منت کی طرف دیکھا، "اور وہ 'منت' کے بارے میں بھی سوال کر رہے ہیں۔"تیمور کا ہاتھ منت کی انگلی پر موجود انگوٹھی پر جم گیا۔ اس نے ایک لمبا سانس لیا اور منت کی طرف دیکھے بغیر زران سے مخاطب ہوا: "کونسل کو بتا دو، تیمور کاظمی اپنا حساب خود کرتا ہے۔ اگر کسی نے 'منت' کی طرف دیکھنا تو دور، اس کا ذکر بھی کیا، تو اگلا بلیک کارڈ کونسل کے ہال میں ملے گا۔"۔۔
(خوف کا سایہ)
تیمور کمرے سے باہر نکل گیا، پیچھے منت اکیلی رہ گئی۔ اس نے کھڑکی سے باہر دیکھا جہاں استنبول کی روشنیاں سمندر کے پانی میں عکس پیدا کر رہی تھیں۔ اسے احساس ہوا کہ وہ صرف ایک ولا میں نہیں، بلکہ ایک سونے کے پنجرے میں قید ہو چکی ہے، جس کا پہرہ دنیا کا سب سے خطرناک شکاری دے رہا ہے۔رات کے پچھلے پہر، جب پورا ولا خاموش تھا، منت کو اپنے کمرے کے باہر کسی کے چلنے کی آہٹ سنائی دی۔ وہ ڈر کے مارے اٹھی اور دروازے کے قریب گئی، لیکن وہاں کوئی نہ تھا۔ زمین پر اسے ایک سفید کاغذ ملا جس پر خنجر سے ایک نشان بنا ہوا تھا—ایک عقاب کا ٹوٹا ہوا پر یہ تیمور کے لیے نہیں، بلکہ منت کے لیے ایک
(Warning )
تھی ۔۔۔۔۔۔۔
دشمن کو معلوم ہو چکا تھا کہ تیمور کاظمی کی واحد
کمزوری کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
( اگلا قدم)
تیمور جب واپس لوٹا، اس کے سفید کپڑے اب دھول اور کچھ چھینٹوں سے بھرے ہوئے تھے۔ اس نے منت کو برآمدے میں سہما ہوا پایا۔۔۔۔"میں نے کہا تھا نہ کہ تم محفوظ ہو،" اس نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا۔✨️
منت نے وہ کاغذ اس کی طرف بڑھایا۔ تیمور نے جیسے ہی وہ نشان دیکھا، اس کے مکے بھینچ گئے اور ماتھے کی رگیں تن گئیں۔ اس نے غصے سے دیوار پر مکا مارا، جس سے وہاں لگا قیمتی آئینہ چکنا چور ہو گیا۔۔۔"زران!" تیمور کی دھاڑ پورے ولا میں گونجی۔ "سیکیورٹی دگنی کر دو۔ اور سنو... شہر کے تمام داخلی راستے بند کر دو۔
(شینsheen)
واپس آ گیا ہے، اور وہ اس بار میری جان لینے نہیں، میری روح چھیننے آیا ہے۔تیمور نے منت کی طرف دیکھا، اس کی نیلی آنکھیں اب کسی جلاد کی نہیں بلکہ ایک ہارے ہوئے شخص کی لگ رہی تھیں۔ "منت، شاید میں نے تمہیں یہاں لا کر سب سے بڑی غلطی کر دی ہے۔ لیکن اب تم واپس نہیں جا سکتیں۔"
✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️