وحشت ہی وحشت قسط نمبر۔(10)
ترکی کے اس پرتعیش ہال میں آج دو زندگیاں ایک نئے بندھن میں بندھنے جا رہی تھیں۔
فضا میں عود اور گلاب کی ملی جلی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔
ایک طرف زاران شاہ کی قہقہوں بھری محفل تھی،
تو دوسری طرف تیمور کاظمی کا وہ رعب تھا کہ بڑے بڑے لوگ اس کے سامنے نظر اٹھانے سے کتراتے تھے۔
جلد ہی قاضی صاحب اسٹیج کے قریب کرسی پر آ بیٹھے ۔
ہال میں موجود شور یکدم خاموشی میں بدل گیا۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم..." قاضی صاحب کی آواز گونجی۔۔۔۔
پہلے زاران اور حیا کے نکاح کا آغاز ہوا۔
"زاران شاہ! کیا آپ کو حیا علی، عوض دس لاکھ روپے حق مہر، نکاح میں قبول ہیں؟"
زاران نے ایک فاتحانہ نظر حیا پر ڈالی،
جو آج شرم سے لال ہو رہی تھی۔ "قبول ہے!"
زاران نے اتنی اونچی آواز میں کہا کہ ہال میں بیٹھے لوگ مسکرا دیے۔
تین بار ایجاب و قبول کے بعد حیا نے بھی لرزتی آواز میں دستخط کر دیے۔
اب باری تھی تیمور کاظمی اور منت کی۔
قاضی صاحب نے عینک ٹھیک کی اور بلند آواز میں کہا:
"تیمور کاظمی ولد اسد کاظمی!
کیا آپ کو منت زہرہ بنت سجاد حسین۔۔۔،
عوض پانچ کروڑ روپے نقد، استنبول کا ولا اور دس کلو سونا بطور حق مہر، اپنے نکاح میں قبول ہیں؟"
ہال میں ایک خاموشی چھا گئی۔
اتنا بھاری حق مہر تاریخ میں شاید ہی کسی نے دیکھا ہو۔
تیمور نے اپنی گہری نیلی آنکھوں سے منت کی طرف دیکھا،
جو سفید و پستئی لباس میں لپٹی کسی پتی کی طرح کانپ رہی تھی۔
"قبول ہے۔" تیمور نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔
اس کی آواز میں ایسی قوت تھی کہ دیواریں دہل جائیں۔
جب منت کی باری آئی، تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
اس کے تایا اور تائی آگے بڑھے۔
تایا نے کانپتے ہاتھوں سے منت کے سر پر ہاتھ رکھا،
جبکہ تائی نے ایک ریشمی پٹکہ (گٹھ) منت کے سر پررکھا۔
یہ ایک پرانی خاندانی روایت تھی کہ بیٹی کو رخصت کرتے وقت اسے خاندان کی عزت کی گٹھڑی سونپی جاتی ہے۔
منت بیٹی! بولو... کیا تمہیں قبول ہے؟
" تایا نے دبی آواز میں پوچھا۔
منت نے تیمور کی طرف دیکھا، جس کے چہرے پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ تھی۔
"جی... قبول ہے،" اس نے لرزتی آواز میں کہا۔
ترکی کے شاہانہ ہال میں نکاح کی کارروائی مکمل ہوتے ہی۔۔
تیمور کاظمی کے گارڈز کی فائرنگ نے پورے استنبول کو
لرزا دیا تھا۔ یہ تیمور کا اعلانِ فتح تھا۔
(دودھ پلائی اور زاران کی مستی)
نکاح کے فوراً بعد باری آئی "دودھ پلائی" کی رسم کی۔
حنا چاندی کا گلاس لیے اسٹیج پر آئی،
جہاں تیمور اور منت، اور دوسری طرف زاران اور حیا بیٹھے تھے۔
"بھائی جان! دودھ تو بہت میٹھا ہے،
لیکن اس کی قیمت کڑوی بھی ہو سکتی ہے،"
حنا نے شرارت سے تیمور کے سامنے گلاس کیا۔
تیمور نے ایک نظر منت پر ڈالی جو نظریں جھکائے بیٹھی تھی۔
اس نے خاموشی سے اپنے والٹ سے ایک بلینک چیک (Blank Check) نکال کر حنا کو دیا،
"جو رقم دل چاہے لکھ لینا، میں اپنی ملکہ کے لئے پوری
کائنات اسکے صدقت میں دے سکتا ہوں ہو یہ تو ایک معمولی رقم ہے ۔"
حال میں ایک زوردار ہوٹنگ ہوئ تیمور کے لب مسکراہٹ
میں ڈھلے۔۔ ۔
منت کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے اللہ نے اسے اتنی محبت کرنے والا شوہر دیا۔۔۔
ہنا کی آنکھیں پھیل گئیں، "واہ بھائی! آپ تو بڑے
چھپےرستم نکلے۔
دوسری طرف زاران نے خود ہی گلاس پکڑ لیا۔۔۔۔۔،
"ارے حنا! بھائی سے تو تم نے وصول کر لیا،
اب مجھ سے کیا لو گی؟ میں تو خود حیا کے ہاتھوں لٹ چکا ہوں۔"
حیا نے زاران کو کہنی ماری، "زاران! تم باز نہیں آؤ گے؟
حنا، اس سے ڈبل رقم لینا، اس نے بہت تنگ کیا ہے مجھے۔"
زاران نے ہنستے ہوئے حیا کا ہاتھ چوما۔۔۔۔۔،
"جان! جو میرا ہے وہ تمہارا ہے، تو رقم بھی تمہاری ہی ہوئی۔" ہال قہقہوں سے گونج اٹھا۔
کمرے کی چھکائی (دروازہ روکنا)
جب دلہنوں کو ان کے کمروں میں منتقل کر دیا گیا،
تو تیمور اور زاران اپنے اپنے کمروں کی طرف بڑھے۔
حیا، جو ابھی اپنی رخصتی کے بعد تھوڑی دیر کے لیے باہر آئی تھی۔۔۔۔۔،
حنا کے ساتھ مل کر منت کے کمرے کے باہر دیوار بن گئی۔
"بھائی! منت کے کمرے میں جانے کے لیے آپ کو پہلے میرا 'حق' دینا ہوگا،" حیا نے سینے پر ہاتھ باندھ کر کہا۔
تیمور نے گہرا سانس لیا، "حیا! تم ابھی تھوڑی دیر پہلے خود دلہن بنی ہو، کیا یہ سب ضروری ہے؟"
"بہت ضروری ہے بھائی!
کیونکہ آج سے منت میری بھابھی کم اور سہیلی زیادہ ہے،" حیا نے ضد کی۔
تیمور نے ایک قیمتی ہیروں کا بریسلیٹ نکالا اور حیا کی کلائی پر پہنا دیا،
"اب ٹھیک ہے؟" حیا نے مسکرا کر راستہ دے دیا۔
اب میں چلی اپنے روم میں۔۔۔۔۔
دوسری طرف زاران جب اپنے کمرے کے پاس پہنچا توحنانے وہاں بھی ڈیرہ ڈالا ہوا تھا۔
"اوہو حنا! تم یہاں بھی؟" زاران نے ماتھا پیٹا۔
"زاران بھائی! حیا اب میری بہترین دوست ہے،
اس کے کمرے میں جانے کی انٹری فیس لگے گی،" حنا نے ہاتھ پھیلایا۔
زاران نے جیب سے اپنی اسپورٹس کار کی چابی نکالی اور حنا کے ہاتھ پر رکھ دی،
"یہ لو! آج سے یہ گاڑی تمہاری، اب مجھے میری حیا کے پاس جانے دو!۔۔
" حنا چابی دیکھ کر اچھل پڑی اور راستہ صاف کر دیا۔
تیمور اور منت: جنون اور قربت۔۔۔۔
تیمور جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا۔۔۔۔۔،
اس نے دروازہ لاک کر دیا۔
کمرے میں مدھم موسیقی اور گلابوں کی مہک تھی۔ منت بیڈ کے کونے پر بیٹھی کانپ رہی تھی۔۔
تیمورخاموشی سے اس کے قریب آیا اور اس کا
گھونگھٹ آہستہ سے پیچھے کیا۔
منت کی بیزل گرین آنکھیں آنسوؤں سے بھیگی ہوئی تھیں۔
تیمور نے اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں کے پیالے میں بھرا۔
"تمہیں مجھ سے ڈر لگتا ہے نا منت؟"
اس کی آواز سرگوشی جیسی تھی۔ منت نے آہستہ سے سر ہلایا۔
تیمور نے اس کی پیشانی پر اپنے لب رکھ دیے،
"میرا جنون تمہیں تکلیف دینے کے لیے نہیں،
تمہیں دنیا سے چھپانے کے لیے ہے۔
تم میری وہ ملکیت ہو جس پر میں کسی کا سایہ بھی برداشت نہیں کر سکتا۔
اس نے منت کو اپنی بانہوں کے حصار میں لے لیا۔
منت کو اس کی دھڑکنوں میں ایک عجیب سی تڑپ محسوس ہوئی۔۔۔۔،
جیسے وہ وحشت نہیں بلکہ برسوں کی پیاس ہو۔
تیمور نے نرمی سےمنت کا بھاری ڈوپٹے اتار کر سائڈ پر
کیا۔۔۔۔۔
منت سوکھے پتے کی طرح کانپ رہی تھی۔۔۔
تیمور نے نرمی سے منت کی پیشانی پر بوسہ دیا۔۔۔
منت کو اپنے اندر اپنے محرم کا لمس اسے ایک سکون سرائت کر گیا ۔۔۔۔۔۔
تیمور نے منت کے لرزتے ہونٹوں کو اپنے ہاتھوں سے سہلایا اسنے منت کی طرف دیکھا جیسے وہ اجازت مانگ رہاہو ۔۔۔۔
منت نے شرماتے ہوئے رضامندی دی اپنا چہرہ تیمور کے سینے میں چھپا دیا۔۔۔۔
ارے میری ملکہ ابھی تو ساری رات باقی ہے۔۔۔۔
تیمور نے منت کا چہرہ اپنے سینے سے نکالا منت کی پلکیں لرز رہی تھیں۔۔
منت آج مجھے تمہارا ساتھ چاہیے دوگی نا میرا ساتھ منت نے شرما کر سر ہلایا۔۔۔۔۔
میں آج تمہاری قربت میں اپنی زندگی کی ساری پریشانیاں بھلا دینا چاہتا ہوں۔۔۔
تیمور کی نظر منت کے گلابی ہونٹوں پر پڑی وہ شدت
سے منت کے ہونٹوں پر جھک گیا ۔۔۔۔
اسکے ہونٹوں کو پر اپنی جنون خیزیا اتارنے لگا۔۔۔۔
کبھی اسکے اوپری ہونٹوں کو شدت سے سک کرنے لگتا
تو کبھی اسکے نیچے والے ہونٹوں کو سک کرنے لگتا ۔۔۔
منت کو اپنی سانسیں رکتی ہوئ محسوس ہوئ۔۔۔۔۔
اس نے تیمور کے بالوں کو کینچھا۔۔۔۔