Dusk Over Qurtaba in Urdu Motivational Stories by Rizwan Madni books and stories PDF | قرطبہ کی شام

Featured Books
Categories
Share

قرطبہ کی شام

ِبِسْمِ اللّٰہِ الَّرحْمٰنِ الَّرحِیْم 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حرفِ آغاز
زندگی بیس برس کی ہو یا ساٹھ برس کی، کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ بھرتے نہیں، بس اپنی جگہ بنا لیتے ہیں۔ میں نے اپنی اس چھوٹی سی عمر میں اپنوں کو بدلتے دیکھا، رشتوں کو ٹوٹتے اور ٹوٹ کر بکھرتے دیکھا۔ ایک ایسا وقت بھی آیا جب لوگوں نے میری اوقات پر انگلیاں اٹھائیں، مجھے محسوس کرایا کہ میں شاید کسی کام کا نہیں۔ تب مجھے سمجھ آئی کہ قصور ان لوگوں کا نہیں، اس 'نفس' کا ہے جس نے ہمیں اندھا کر دیا ہے۔ ہم سب اپنی اپنی انا کے خدا بنے بیٹھے ہیں اور اصل مقصدِ حیات کو بھول چکے ہیں۔
میں نے یہ کتاب کسی کو نیچا دکھانے کے لیے نہیں لکھی، بلکہ یہ میرا اپنا ایک سفر ہے۔ میں نے اس میں تاریخ کے ایک خوبصورت لیکن اداس شہر 'قرطبہ' کو اس لیے چنا ہے کہ جب ہم اپنا دکھ کسی بڑے کینوس پر دیکھتے ہیں، تو وہ ذرا ہلکا محسوس ہوتا ہے۔ قرطبہ کی وہ ڈھلتی شام، جس میں کبھی علم کا نور تھا، آج تاریخ کے صفحات میں ایک خاموش گواہ کی طرح کھڑی ہے۔ میں بھی اسی شام کے سائے میں بیٹھا، اپنی ذات کے ان سوالوں کے جواب ڈھونڈ رہا ہوں جو مجھے چین سے بیٹھنے نہیں دیتے۔
یہ کتاب محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، میرے ان لمحوں کی روداد ہے جب میں نے تنہائی کو اپنا ساتھی بنایا اور خود سے بات کرنا سیکھی۔ میں آپ کو کسی بڑی منزل کا وعدہ تو نہیں دے سکتا، کیونکہ میرا اپنا سفر بھی ایک 'بے منزل سفر' ہے، لیکن اتنا ضرور ہے کہ اگر آپ نے کبھی خود کو تنہا یا کسی کی انا کا شکار محسوس کیا ہے، تو آپ کو اس کتاب میں اپنی کہانی کے کچھ کردار ضرور ملیں گے۔
میں تو بس اپنے اندر کا بوجھ کاغذ پر اتار رہا ہوں۔ اگر اس عمل میں آپ کا دل بھی کہیں سے ہلکا ہو جائے، تو سمجھیں میری محنت ٹھکانے لگ گئی
محمد رضوان رضیؔ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جملہ حقوق بحقِ مصنف محفوظ ہیں
اس کتاب کا کوئی بھی حصہ، کسی بھی شکل میں (پرنٹ، ڈیجیٹل، یا صوتی)، مصنف (محمد رضوان رضی) کی تحریری اجازت کے بغیر شائع، نقل یا تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ ایسا کرنے کی صورت میں کاپی رائٹ قوانین کے تحت سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
تخلیقی اثاثہ جات کا احترام کرنا ہر قاری کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

باب اول
(قرطبہ کی شام — ایک خاموش گواہ)
قرطبہ کے دریائے گواڈالکوویر کے کنارے کھڑے ہو کر جب میں غروب ہوتے سورج کو دیکھتا ہوں، تو مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ صرف ایک دن کا اختتام نہیں، بلکہ ایک ایسی تہذیب کا الوداعی سلام ہے جس نے کبھی دنیا کو علم اور روشنی کے مینار عطا کیے تھے۔ ہوا میں ایک عجیب سی خنکی ہے، جیسے تاریخ خود اپنے اوپر ماتم کر رہی ہو۔ دور سے مسجدِ قرطبہ کے محرابوں کی جھلک نظر آتی ہے—وہ محرابیں جو کبھی ہزاروں سجدوں کی گواہ تھیں، آج ایک عجیب سی بے بسی کے عالم میں کھڑی ہیں۔
آج یہاں کی گلیاں خاموش ہیں۔ کبھی ان گلیوں میں علم کے متلاشیوں کے قدموں کی چاپ سنائی دیتی تھی، جب دنیا کے کونے کونے سے لوگ یہاں حکمت کا نور لینے آتے تھے، مگر آج یہاں صرف میرے قدموں کی آواز گونج رہی ہے۔ میں یہاں کیوں ہوں؟ شاید اس لیے کہ جب ہم اپنے عہد کے لوگوں کی انا، ان کے کھوکھلے پن اور ان کی بے رخی سے تھک جاتے ہیں، تو ہم تاریخ کی پناہ ڈھونڈتے ہیں۔ قرطبہ کی یہ ڈھلتی ہوئی شام مجھے میرے اپنے وجود کا عکس دکھاتی ہے۔
یہاں کی فضاؤں میں ایک ایسا سکوت ہے جو چیخ کر کہتا ہے کہ 'سب کچھ فانی ہے'۔ وہ لوگ جو کل یہاں حکمران تھے، وہ جو علم کے دعویدار تھے، وہ جو رشتوں کے تقدس کو اپنی چھوٹی سی انا کی بھینٹ چڑھا گئے—وہ سب کہاں ہیں؟ مٹی کے نیچے، صرف نام کے چند نشانات کے ساتھ۔ انسان کتنا عجیب ہے؛ وہ پوری دنیا کو فتح کرنے کے خواب دیکھتا ہے، مگر اپنی انا کے چھوٹے سے دائرے سے باہر نہیں نکل پاتا۔ یہ عمارتیں، یہ پتھر، یہ دریا—سب کچھ چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ انا پرستی کا انجام صرف اور صرف فراموشی ہے۔
مجھے آج بھی یاد ہے، وہ ایک کربناک لمحہ، جب کسی قریبی نے، کسی ایسے شخص نے جس پر میں نے اعتماد کیا تھا، میری اوقات پر انگلی اٹھائی۔ اس وقت میرا دل خون کے آنسو رویا تھا۔ مجھے لگا تھا کہ جیسے یہ کائنات میرے لیے تنگ ہو گئی ہے، جیسے میرے وجود کی کوئی قیمت ہی نہیں۔ اس وقت میں بہت چھوٹا تھا، نادان تھا، میں نے اس شخص کے الفاظ کو سچ مان لیا تھا۔ مگر آج، قرطبہ کی اس خستہ حال فصیل کو دیکھ کر لگتا ہے کہ جس طرح وقت کے تھپیڑوں نے ان بڑی بڑی دیواروں کو گرا دیا، اسی طرح انسان کی وہ انا بھی کتنی بونی اور بے معنی ہے جو رشتوں کو کچل کر خود کو خدا سمجھ بیٹھتی ہے۔ وہ شخص جس نے مجھے کم تر سمجھا، دراصل وہ خود اپنی عقل کی قید میں تھا۔ جب کسی کم ظرف کو عزت ملتی ہے، تو وہ اپنی اوقات بھول جاتا ہے۔ مگر میں نے اب سمجھ لیا ہے کہ میری اوقات کسی دوسرے کے سرٹیفکیٹ کی محتاج نہیں ہے۔
ہم سب اپنی زندگی میں ایک ایسی ہی شام سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ یہ شام محض سورج کے ڈوبنے کا نام نہیں، یہ ہماری امیدوں، ہمارے خوابوں اور ہمارے رشتوں کے ڈوبنے کا استعارہ ہے۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ جس پر ہم نے سب سے زیادہ بھروسہ کیا، وہی ہماری جڑیں کاٹ رہا ہے، تو تب انسان کو ایک ایسا ہی "قرطبہ" اپنے اندر بنتا اور گرتا دکھائی دیتا ہے۔ ہم اسے سنبھالنے کے بجائے صرف ایک دوسرے کو صفائیاں دیتے ہیں، وضاحتیں دیتے ہیں، یہ بھول کر کہ وضاحتیں صرف ان کو دی جاتی ہیں جو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
میں یہاں اس لیے نہیں آیا کہ تاریخ کے مردوں کو جگاؤں، میں تو اس لیے آیا ہوں کہ اپنی ذات کو پہچان سکوں۔ کیا میں بھی اسی انا کا غلام ہوں؟ کیا میرا دکھ واقعی اتنا بڑا ہے کہ میں نے اسے اپنی پوری زندگی کا محور بنا لیا ہے؟ دریائے گواڈالکوویر کا بہتا پانی مجھے کہتا ہے کہ رضی! سب گزر جائے گا۔ جس طرح یہ شام رات کی تاریکی میں بدل جائے گی، اسی طرح تیرے یہ دکھ، یہ زخم، یہ بے قدری کے احساسات—سب اس وقت کے سمندر میں بہہ جائیں گے۔
میں نے آج فیصلہ کیا ہے کہ میں اس شام کی خاموشی کو اپنی آواز بناؤں گا۔ میں کسی کو صفائی نہیں دوں گا۔ میں کسی سے اپنی اوقات کا سوال نہیں کروں گا۔ میں بس اس تاریخ کے سائے میں چلوں گا، شاید اسی سفر میں مجھے وہ راستہ مل جائے جو مجھے میرے اپنے آپ سے ملا دے۔ قرطبہ کی یہ شام گواہ رہے، کہ میں نے اب اپنی انا کو شکست دے کر ایک نئے سفر کا آغاز کر دیا ہے—ایک ایسا سفر، جس کی کوئی منزل نہیں، مگر اس کی ہر سانس میں ایک نئی آزادی کا احساس ہے۔
یہاں ہر دیوار، ہر پتھر مجھے سکھا رہا ہے کہ انسان جب خود کو خدا سمجھنے لگتا ہے، تو وہ اپنے زوال کی بنیاد خود رکھتا ہے۔ میں نے اب اس نفس کے جال سے باہر نکلنے کا عہد کر لیا ہے جو مجھے لوگوں کی نظروں میں گرنے کا خوف دلاتا تھا۔ میں اب اس بے منزل سفر کا مسافر ہوں، جہاں نہ کوئی منزل ہے، نہ کوئی ٹھکانہ، بس میری روح اور میرا قلم ہے۔
اختتامیہ کلام 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الوداعِ قرطبہ

یہ قرطبہ کی شام کا اک خیال
دکھاتا ہے مجھ کو انا کا زوال
۔۔۔۔
وہ فصیلِ خستہ بتانے لگی
کم ظرف کا ہوتا ہے کیسا مآل
۔۔۔۔
صفائیاں دینا اب ہم نے چھوڑا
کسی کے نہ ذہنوں سے اب شک نکال
۔۔۔۔
بہتا ہوا پانی یہ کہہ کر گیا
کٹے گا یہ دکھ بھی، نہ کر تو ملال
۔۔۔۔
رضیؔ نفس کے جال سے چھوٹ کر
سفر بے منزل کا لیا اب سنبھال
۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باب دوم
(رشتوں کی ٹوٹ پھوٹ اور خاموشی کا پہلا سبق)
انسانی زندگی کے سفر میں جب ہم پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں، تو بہت سے ایسے چہرے نظر آتے ہیں جو کبھی ہماری کائنات ہوا کرتے تھے۔ مگر وقت کے کینوس پر، یہ چہرے اکثر دھندلا جاتے ہیں یا ان پر سے نقاب اتر جاتے ہیں۔ رشتوں کی ٹوٹ پھوٹ کا عمل بظاہر ایک لمحے کا واقعہ لگتا ہے، جیسے کوئی شیشہ ہاتھ سے چھوٹ کر کرچی کرچی ہو جائے، مگر حقیقت میں یہ ایک طویل عمل ہوتا ہے جو اندر ہی اندر کسی دیواری میں پڑنے والی دراڑ کی طرح پنپتا رہتا ہے۔ بیس برس کی اس عمر میں، جہاں جذبوں کی شدت اپنے عروج پر ہوتی ہے، رشتوں کا بکھرنا کسی قیامت سے کم نہیں ہوتا۔ ان بیس سالوں نے مجھے یہ سکھایا ہے کہ تعلقات کی عمارت صرف محبت اور وفاداری کی اینٹوں سے نہیں بنتی، بلکہ اس میں 'سمجھوتہ' اور 'انا کی قربانی' کا مسالہ بھی درکار ہوتا ہے۔ جب یہ مسالہ ختم ہو جائے، تو بڑی سے بڑی عمارت بھی زمین بوس ہو جاتی ہے۔
میں نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنوں کو دور جاتے دیکھا ہے۔ ان رشتوں کو ٹوٹتے دیکھا ہے جنہیں بچانے کے لیے میں نے اپنی ذات کو مٹا دینے میں بھی عار نہیں سمجھا تھا۔ یہ دکھ کتنا گہرا ہے، میں اسے بیان کرنے کے لیے الفاظ کا متلاشی ہوں، مگر زبان قاصر ہے۔ جب آپ کسی کو اپنا سب کچھ سمجھ لیں، اور بدلے میں آپ کو صرف طعنے، شک اور تحقیر ملے، تو تب انسان کا اندر ایک ایسی جنگ کا میدان بن جاتا ہے جہاں جیتنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ مجھے وہ لمحہ آج بھی یاد ہے، شاید وہ میری زندگی کا سب سے تاریک دن تھا، جب مجھے احساس ہوا کہ جن لوگوں کو میں نے اپنا مان کر سینے سے لگایا تھا، وہ دراصل میرے وجود کے درپے ہیں۔ ان کی نظر میں میری اوقات، میری شرافت اور میرے خلوص کی کوئی اہمیت نہ تھی۔ اس دن مجھے زندگی کا سب سے کڑوا سبق ملا: کہ لوگ اکثر آپ کو اس لیے نہیں اپناتے کہ آپ اچھے ہیں، بلکہ اس لیے اپناتے ہیں کہ آپ ان کے کام آ سکتے ہیں۔ جب آپ کا مصرف ختم، تو آپ کی حیثیت بھی صفر۔
قرطبہ کی تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے۔ سلطنتیں باہر کے دشمنوں سے نہیں گرتیں، بلکہ ان کے اندرونی انتشار، مفاد پرستی، اور اقتدار کی ہوس انہیں اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ جب قرطبہ کے محلوں میں اپنوں نے اپنوں کے خلاف سازشیں شروع کیں، تو تاریخ نے فیصلہ کر لیا کہ اس شہر کا عروج اب زوال کی جانب گامزن ہے۔ ہماری ذاتی زندگی بھی ایک چھوٹی سی سلطنت ہے۔ ہمارے گھر، ہمارے دوست، ہمارے رشتے—یہ سب ہماری سلطنت کے ستون ہیں۔ جب ان میں 'انا' کا زہر گھل جائے، جب کوئی اپنی بڑائی ثابت کرنے کے لیے دوسرے کو نیچا دکھائے، تو پھر وہاں امن اور محبت نہیں رہتی۔ میں نے اس تلخ حقیقت کو قبول کر لیا ہے کہ انسان جب تک اپنے نفس کا غلام ہے، وہ کسی دوسرے کا مخلص نہیں ہو سکتا۔ شیطان سے ہم پناہ مانگتے ہیں، مگر شیطان تو ہمارے نفس میں چھپا بیٹھا ہے، جو ہمیں سکھاتا ہے کہ کس طرح کسی کے دل کو توڑ کر خود کو فاتح سمجھا جائے۔
میں نے اس ٹوٹ پھوٹ کے بعد خاموشی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ یہ خاموشی اس لیے نہیں تھی کہ میں ہار گیا تھا، بلکہ اس لیے تھی کہ میں نے جواب دینا فضول سمجھا۔ جب کوئی آپ کی نیت پر شک کرے، تو صفائیاں دینا دراصل اپنی عزتِ نفس کا سودا کرنا ہے۔ میں نے اس دن کے بعد سے زبان کو تالا لگا لیا۔ یہ خاموشی مجھے ایک الگ دنیا میں لے گئی۔ اس دنیا میں، میں تنہا ضرور تھا، مگر وہاں سکون تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ جب آپ بولنا چھوڑ دیتے ہیں، تو آپ کا ضمیر آپ سے بات کرنا شروع کر دیتا ہے۔ آپ کو اپنی غلطیاں، اپنی کمزوریاں اور اپنے اندر کی وہ انا نظر آنے لگتی ہے جسے آپ نے برسوں سے چھپا رکھا تھا۔ یہ خاموشی دراصل میری روح کی اصلاح کا آغاز تھی۔
رشتوں کے اس بکھراؤ نے مجھے میرے رب سے قریب کر دیا۔ جب دنیا کے سارے دروازے بند ہو جاتے ہیں، تب ہی انسان اس دروازے کو کھٹکھٹاتا ہے جو کبھی بند نہیں ہوتا۔ میں اب بکھرے ہوئے رشتوں کے ملبے پر بیٹھ کر ماتم نہیں کرتا۔ میں جان گیا ہوں کہ جو آپ کا ہے، وہ ہزاروں رکاوٹوں کے باوجود آپ کے پاس رہے گا، اور جو چلا گیا، وہ دراصل کبھی آپ کا تھا ہی نہیں۔ یہ سوچ کر دل کو جو سکون ملتا ہے، وہ الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتا۔ میں اب کسی کو بدلنے کی کوشش نہیں کرتا۔ انسان صرف تب بدلتا ہے جب وہ خود چاہے، اور اکثر لوگ خود بدلنا نہیں چاہتے۔ وہ چاہتے ہیں کہ آپ ان کی انا کے سامنے سر جھکا لیں۔ مگر میں نے سر جھکانا صرف اس کے سامنے سیکھا ہے جو کائنات کا مالک ہے۔
میری زندگی کا یہ دوسرا باب، اس خاموشی کا پہلا سبق ہے جو میں نے درد کے تھپیڑوں سے سیکھا۔ یہاں سے میرا وہ سفر شروع ہوتا ہے جس میں منزل تو کوئی نہیں، مگر خود شناسی کا راستہ بہت روشن ہے۔ میں نے ان بکھرے ہوئے رشتوں کی کرچیوں سے اپنے وجود کا ایک نیا آئینے تیار کیا ہے، جس میں مجھے اب صرف سچائی نظر آتی ہے۔ یہ راستہ تنہائی کا ضرور ہے، مگر اس تنہائی میں جو آزادی ہے، وہ بادشاہت سے کم نہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ میں بدل گیا ہوں، شاید وہ صحیح کہتے ہیں۔ مگر مجھے بدلنا ہی تھا، کیونکہ جو میں پہلے تھا، وہ تو لوگوں کی اناؤں کا کھلونا بنا ہوا تھا۔ اب میں صرف رضی ہوں—اپنے نفس کا حاکم، اپنی روح کا پاسبان۔
اختتامیہ کلام 
کج کلاہیِ نفس
بیس برسوں میں واقف ہوا اسرارِ زمانہ سے
جو مخلص تھے دشمن ہوئے اب جداگانہ سے

جب تک تھا مصرف میرا، سب جان مجھے کہتے تھے
غرضیں جب پوری ہوئیں، بدلے وہ ایک بہانہ سے

 رضیؔ نیت پہ مری وہ شک کی نظر جب رکھتے ہیں
ہم نے بھی رشتہ توڑ لیا دیکھو ہر ایک فسانہ سے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

باب سوم 
(المعتمد کا زوال اور سکونِ قلب کا راستہ)
تاریخ کے اوراق پلٹتے ہوئے جب ہم اندلس کی آخری جھلکیاں دیکھتے ہیں، تو المعتمد بن عباد کا قصہ سب سے زیادہ متاثر کن دکھائی دیتا ہے۔ اشبیلیہ کا یہ تاجدار، جو اپنی علم پروری اور سخاوت کے لیے پوری دنیا میں جانا جاتا تھا، جب وقت کی گردش کے ہاتھوں مجبور ہو کر مراکش کے قید خانے 'اغمات' میں پہنچا، تو اس کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں بچا تھا۔ المعتمد کا زوال صرف ایک بادشاہ کا تخت سے اترنا نہیں تھا، بلکہ یہ اس انسانی انا کے ٹوٹنے کا منظر تھا جس نے کبھی یہ سوچا بھی نہ تھا کہ اسے مٹی کے بستر پر سونا پڑے گا۔ ایک عید کی صبح، جب اس کی بیٹیاں پھٹے ہوئے کپڑوں میں اس کے سامنے آئیں اور ان کے آنسوؤں نے المعتمد کے دل کو چھلنی کر دیا، تو اس نے اپنے درد کو شاعری میں سمو دیا۔ اس کا درد صرف بادشاہت کے چھن جانے کا نہیں تھا، بلکہ اپنے پیاروں کی تکلیف کا تھا۔
یہ تاریخی واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ زندگی میں عروج و زوال تو جیسے ایک سکے کے دو رخ ہیں۔ آج جو اپنے آپ کو تخت پر براجمان سمجھتا ہے، کل شاید اسے زمین کی پناہ بھی میسر نہ ہو۔ ہمارے اردگرد کی دنیا میں بھی اکثر ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اپنی عارضی کامیابیوں کے بل بوتے پر دوسروں کے کردار کو تولنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ انسان کا اصل وزن اس کے عہدے یا اس کی مادی حیثیت سے نہیں، بلکہ اس کے کردار کی پائیداری سے ہوتا ہے۔ جب کوئی آپ کے کردار پر یا آپ کے خلوص پر سوال اٹھاتا ہے، تو دراصل وہ اپنے ظرف کا اظہار کر رہا ہوتا ہے۔ کسی دوسرے کی زبان سے نکلا ہوا تلخ جملہ آپ کے وجود کو کم نہیں کر سکتا، بشرطیکہ آپ خود اپنی اصل قیمت جانتے ہوں۔
میری زندگی کا بھی ایک ایسا ہی موڑ تھا جب مجھے کچھ لوگوں کے رویوں سے یہ احساس ہوا کہ ان کی نگاہ میں میرے اخلاص کی قدر صرف تب تک تھی جب تک میں ان کی ضرورتوں کا حصہ تھا۔ وہ لمحہ میرے لیے ایک گہری سوچ کا دروازہ بن گیا۔ میں نے دیکھا کہ کس طرح دنیاوی مفادات کے لیے انسان اپنے ضمیر کا سودا کر لیتا ہے۔ لیکن المعتمد کی زندگی نے مجھے یہ سکھایا کہ جب انسان دنیا سے امیدیں توڑ کر صرف اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہے، تو اسے ایک ایسا قلعہ مل جاتا ہے جسے وقت کے طوفان بھی نہیں گرا سکتے۔ وہ قلعہ "ذاتی سکون" کا قلعہ ہے۔
انا کا تصادم اکثر تب پیدا ہوتا ہے جب ہم دوسروں سے توقعات وابستہ کر لیتے ہیں۔ جب وہ توقعات پوری نہیں ہوتیں، تو ہم بکھر جاتے ہیں۔ میں نے اس تصادم سے بچنے کے لیے خود کو بدلنے کا فیصلہ کیا۔ میں اب کسی کو یہ ثابت کرنے کی کوشش نہیں کرتا کہ میں کون ہوں اور کیا ہوں۔ جو مجھے جانتے ہیں، انہیں کسی وضاحت کی ضرورت نہیں، اور جو مجھے نہیں پہچانتے، ان کے سامنے خود کو پیش کرنا میرے وقار کے منافی ہے۔ المعتمد بن عباد نے قید خانے میں بیٹھ کر وہ شاعری کی، جو اسے بادشاہی سے زیادہ ہمیشہ کے لیے زندہ کر گئی۔ اس نے ثابت کیا کہ انسان کی اصل پہچان اس کے ظرف میں پوشیدہ ہے، نہ کہ تخت و تاج میں۔
میری یہ خاموشی اور میرا یہ قلمی سفر دراصل اسی وقار کی بازگشت ہے۔ میں نے اس سفر میں یہ سیکھا ہے کہ جب آپ دوسروں کی تنقید اور طعنوں سے ماورا ہو کر اپنے مقصد کی طرف دیکھتے ہیں، تو آپ کو راستہ خود بخود مل جاتا ہے۔ المعتمد کی زندگی ایک سبق ہے کہ انسان کو اپنی خوشی کا انحصار دوسروں کی تعریف یا تنقید پر نہیں کرنا چاہیے۔ جب ہم دوسروں کے معیار پر پورا اترنے کی کوشش چھوڑ دیتے ہیں، تب ہی ہم اپنے آپ کو پاتے ہیں۔ یہ بے منزل سفر، دراصل ایک ایسی منزل کی تلاش ہے جہاں انا کا وجود نہیں، بلکہ صرف روح کی آزادی ہے۔
میں آج اس مقام پر ہوں جہاں مجھے کسی کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ میں جانتا ہوں کہ میری ذات کی قیمت اس سے کہیں زیادہ ہے جو کوئی دوسرا طے کر سکتا ہے۔ المعتمد کا قصہ مجھے یاد دلاتا ہے کہ بادشاہی تو زائل ہو سکتی ہے، لیکن کردار کی خوشبو کبھی ختم نہیں ہوتی۔ میں اپنے کردار کو سنوارنے میں لگا ہوں، تاکہ جب تاریخ مجھے یاد کرے، تو وہ کسی شکستہ انا کے مالک کے طور پر نہیں، بلکہ ایک ایسے مسافر کے طور پر کرے جس نے طوفانوں میں بھی اپنی خودی کو سلامت رکھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باب چہارم 
(علم کا بوجھ اور فراموشی کی دھول)
تاریخ جب اپنے اوراق پلٹتی ہے، تو اکثر ان لوگوں کا ذکر کرنا بھول جاتی ہے جو خاموشی سے علم کے چراغ جلاتے رہے، جبکہ شور مچانے والے خود کو تاریخ کا وارث کہتے رہے۔ قرطبہ کی وہ عظیم لائبریری، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہاں چار لاکھ سے زائد کتب موجود تھیں، آج صرف خاک کا ڈھیر ہے۔ لیکن اصل المیہ کتب کا جلنا نہیں تھا، اصل المیہ وہ "علمی غرور" تھا جو علماء اور حکمرانوں کے دلوں میں گھر کر چکا تھا۔
اس دور میں ایک عالم کا قصہ مشہور ہے، جس کے پاس علم کا خزانہ تو تھا مگر اس کا دل انا کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا۔ وہ دن رات کتب کے مطالعے میں گزارتا، لیکن اس کے علم کا مقصد لوگوں کی اصلاح نہیں، بلکہ اپنی برتری ثابت کرنا تھا۔ وہ درباروں میں جاتا، بحثیں کرتا، اور اپنے مخالفین کو نیچا دکھانے کے لیے الفاظ کے نشتر چلاتا۔ اس کا علم اس کے لیے ہدایت کا راستہ بننے کے بجائے اس کی انا کا ایندھن بن گیا۔ ایک بار، جب قرطبہ کے زوال کا وقت قریب تھا، اس نے اپنے ایک شاگرد سے کہا: "اگر یہ شہر تباہ بھی ہو گیا تو میرا علم زندہ رہے گا، کیونکہ میری تحریریں صدیوں تک قائم رہیں گی۔" وہ شاگرد، جو خاموشی سے تاریخ کے تماشے کو دیکھ رہا تھا، اس نے بڑی سادگی سے جواب دیا: "استاد! جو علم اپنی ذات کو مٹانے میں مدد نہ کرے، وہ محض کاغذ کا بوجھ ہے، جسے وقت کا دریا بہا لے جائے گا۔"
وہ استاد تب تو نہ سمجھ سکا، مگر جب قرطبہ کی گلیاں خون سے رنگین ہوئیں، جب کتابیں دریائے گواڈالکوویر میں بہائی گئیں، تو اس کا سارا علمی غرور پانی کے بلبلوں کی طرح پھٹ گیا۔ وہ اپنی تحریریں بچانے کے لیے کتابیں کندھوں پر اٹھائے پھرتا رہا، مگر وہی لوگ، جنہیں وہ کبھی حقیر سمجھتا تھا، آج اسے دھکے دے کر آگے بڑھ رہے تھے۔ یہ منظر دیکھ کر اسے وہ شاگرد کی بات یاد آئی۔ تاریخ کا یہ ایک ایسا پہلو ہے جسے ہم اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں کہ علم اگر خاکساری نہ سکھائے، تو وہ انسان کو فرعون بنا دیتا ہے۔
میرے اس سفر میں، میں نے بارہا محسوس کیا ہے کہ لوگ جب مجھے حقیر سمجھ کر میرے راستے بند کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو میں اس عالم کے اس غرور کو اپنی آنکھوں میں دیکھتا ہوں۔ لیکن پھر مجھے وہ شاگرد یاد آتا ہے جس نے خاموشی کو اپنی طاقت بنایا تھا۔ علم کا اصل مقصد یہ نہیں کہ آپ کتنے بڑے عالم ہیں، بلکہ یہ ہے کہ آپ کی موجودگی سے کتنے لوگوں کے دلوں میں سکون پیدا ہوا۔ آج کے دور میں، ہم سب اسی "علمی غرور" میں مبتلا ہیں۔ کوئی اپنے عہدے پر نازاں ہے، تو کوئی اپنی ڈگریوں پر، کوئی اپنے قلم کی روانی پر تو کوئی اپنی شاعری کے وزن پر۔ مگر یہ سب اس وقت تک ہے جب تک ہماری زندگی کی شام نہیں ہوتی۔ شام ہوتے ہی یہ سارا بھرم ٹوٹ جاتا ہے۔
قرطبہ کی لائبریری کا جلنا محض کاغذ کا جلنا نہیں تھا، یہ ایک ایسی تہذیب کا زوال تھا جس نے علم کو انا کا لباس پہنا دیا تھا۔ آج جب میں اپنی تحریروں کو دیکھتا ہوں، تو میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ میرا قلم کبھی کسی کی دل آزاری کا سبب نہ بنے، بلکہ یہ ان لوگوں کے لیے مرہم بنے جو زندگی کی دوڑ میں تھک چکے ہیں۔ اس باب میں، میں قاری کو اس لائبریری کی راکھ سے نکال کر ان سوالات کے سامنے کھڑا کرنا چاہتا ہوں جو ہم سے روزانہ پوچھے جاتے ہیں مگر ہم ان کا جواب نہیں دینا چاہتے۔ کیا ہم علم حاصل کر رہے ہیں یا صرف اپنی انا کو بڑھانے کا سامان کر رہے ہیں؟ کیا ہم زندگی جی رہے ہیں یا صرف دوسروں کو یہ ثابت کرنے میں لگے ہیں کہ ہم زندہ ہیں؟
یہ باب اس "خاموش علم" کی تلاش ہے جو شور سے پاک ہے۔ میں اب اس سفر میں تنہا نہیں ہوں، میرے ساتھ وہ تاریخ ہے جو ہر قدم پر مجھے یاد دلاتی ہے کہ عاجزی ہی وہ واحد راستہ ہے جو ہمیں آنے والی نسلوں کے دلوں میں زندہ رکھ سکتا ہے۔ وہ عالم جو اپنی کتابیں بچاتا ہوا قرطبہ کی گلیوں میں مر گیا، وہ آج کہیں نہیں ہے، لیکن جس شاگرد نے خاموشی سے اس سب کا مشاہدہ کیا تھا، اس کی بصیرت آج بھی تاریخ کے سینے میں محفوظ ہے۔ ہم سب کو وہ شاگرد بننا ہے، جس نے طوفان کے سامنے اپنی ذات کو نہیں، بلکہ اپنی بصیرت کو بچایا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کتابوں کے ڈھیروں میں کھوئی ہے ہستی
مگر دل میں اب تک ہے اندھیرے کی بستی
مقطع
غرورِ قلم کو مٹا دو رضیؔ اب
کہ عاجز ہی پاتا ہے رفعت کی مستی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باب پنجم
(جلاوطنی کا کرب اور امید کا آخری چراغ)
تاریخ کے صفحات میں جب ہم ابنِ رشد کا نام پڑھتے ہیں، تو ایک ایسی شخصیت ابھرتی ہے جس نے کائنات کے رازوں کو منطق اور فلسفے کے ترازو میں تولا۔ قرطبہ کی علمی فضاؤں میں اس کا نام ایک ستارے کی طرح چمکتا تھا، مگر جب وقت کا پہیہ گھوما اور حکمرانوں نے اپنی کرسی بچانے کے لیے علماء کی مخالفت شروع کی، تو اسی ابنِ رشد کو، جس کے فتوے کبھی قانون کا درجہ رکھتے تھے، کوڑے مارے گئے اور اسے قرطبہ کی جامع مسجد کے دروازے پر کھڑا کر کے لوگوں سے کہا گیا کہ اس پر پتھراؤ کریں۔ یہ منظر دیکھ کر انسان کا کلیجہ منہ کو آتا ہے کہ جس شخص نے انسانیت کو سوچنا سکھایا، اسی کو اس کے اپنے ہی لوگوں نے مجرم بنا دیا۔
یہ ابنِ رشد کی بیرونی جلاوطنی تھی، لیکن اصل جلاوطنی تو اس کے اندر شروع ہوئی جب اس نے یہ دیکھا کہ معاشرہ سچائی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس کا علمی سفر، جو کبھی روشنیوں کی تلاش میں تھا، اب اندھیروں کے حصار میں تھا۔ لیکن کیا وہ ٹوٹ گیا؟ نہیں۔ ابنِ رشد نے اسی جلاوطنی میں وہ شاہکار تخلیق کیے جو آج صدیوں بعد بھی انسانیت کا سرمایہ ہیں۔ اس نے ثابت کیا کہ انسان جسمانی طور پر تو کسی بھی شہر سے نکالا جا سکتا ہے، مگر اس کی فکر کو کوئی جلاوطن نہیں کر سکتا۔
میرے اپنے سفر میں، جب لوگوں نے مجھے تنہا کرنے کی کوشش کی، جب انہوں نے میرے راستے میں کانٹے بچھائے، تو مجھے ابنِ رشد کی یہی تصویر یاد آتی ہے۔ وہ تنہائی جو دوسروں نے مجھ پر مسلط کی تھی، رفتہ رفتہ میرا "سازگار ساتھی" بن گئی۔ ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ تنہائی ایک سزا ہے، لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے کام، بڑے بڑے فیصلے اور بڑے بڑے فلسفے اسی تنہائی کی گود میں پل کر جوان ہوئے ہیں۔ جب تک آپ کے گرد بھیڑ ہوتی ہے، آپ صرف دوسروں کی آوازیں سنتے ہیں، لیکن جب آپ تنہا ہوتے ہیں، تو آپ کو اپنی روح کی سرگوشیاں سنائی دیتی ہیں۔
قرطبہ کی اس شام میں، جہاں میں بیٹھ کر یہ سب لکھ رہا ہوں، مجھے احساس ہوتا ہے کہ ابنِ رشد کے لیے وہ پتھر شاید اس کے جسم پر نہیں، بلکہ اس معاشرے کے ضمیر پر لگ رہے تھے۔ آج ابنِ رشد کا نام زندہ ہے، اور وہ پتھر مارنے والے تاریخ کے گمنام قبرستانوں میں دفن ہو چکے ہیں۔ یہی قانونِ قدرت ہے۔ جو سچائی کے راستے پر چلتا ہے، وہ وقتی طور پر ہارتا ہوا دکھائی دیتا ہے، مگر اصل میں وہی فاتح ہوتا ہے۔ میرا دکھ، میری تنہائی، اور وہ بے قدری جو میں نے محسوس کی، یہ سب دراصل میرے کردار کی تراش خراش کا عمل تھا۔
اس باب میں، میں قاری کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ امید کا چراغ تب ہی جلتا ہے جب چاروں طرف اندھیرا ہو۔ اگر آپ کو بھی کبھی اپنوں نے پرایا کیا ہو، اگر آپ کو بھی کبھی حقیر سمجھ کر دھتکارا گیا ہو، تو سمجھ لیجیے کہ یہ آپ کے لیے ایک امتحان نہیں، بلکہ آپ کی صلاحیتوں کو نکھارنے کا ایک عمل ہے۔ میں نے اس سفر میں سیکھا کہ امید کسی بیرونی سہارے کا نام نہیں، بلکہ یہ اندر کی وہ قوت ہے جو ہمیں گرنے کے بعد دوبارہ کھڑا ہونے کا حوصلہ دیتی ہے۔
میں اب کسی سے امید نہیں رکھتا۔ میری امید صرف اس ذات سے ہے جس نے مجھے یہ قلم دیا، یہ درد دیا اور یہ سوچ عطا کی۔ ابنِ رشد کی جلاوطنی میرے لیے ایک مشعل ہے کہ جب تک آپ کے پاس سچائی کی طاقت ہے، دنیا کی کوئی بھی طاقت آپ کو ختم نہیں کر سکتی۔ میں اب اس 'بے منزل سفر' کو ایک مشن کی طرح دیکھ رہا ہوں۔ یہ سفر میری تنہائی کا نہیں، بلکہ میری آزادی کا سفر ہے۔ میں ان زنجیروں کو توڑ چکا ہوں جو معاشرے کے دباؤ نے میرے پیروں میں ڈال رکھی تھیں۔ میں اب آزاد ہوں—اپنے خیالات میں، اپنے الفاظ میں، اور اپنی روح میں۔
اختتامی کلام 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تاریکیوں کے شہر میں، ہم نے دیا جلایا ہے
اپنی ہی تنہائی کو، ہم نے اپنا بنایا ہے
۔۔۔۔
پتھر جو برسائے تھے اپنوں نے ہماری ذات پر
اُن پتھروں سے ہم نے، اپنے محل کا راستہ بنایا ہے
۔۔۔۔
ابنِ رشد کی طرح، جلا وطن سہی مگر رضیؔ
اپنے ہی قلم سے ہم نے، نیا جہان سجایا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باب ششم 
(آخری پڑاؤ — وہ منزل جو راستہ ہی تھی)
جب ہم سفر کے آخری حصے میں داخل ہوتے ہیں، تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے جن چیزوں کو اپنا مقصد سمجھا تھا—یعنی دوسروں سے داد پانا، اپنوں کی محبت کا حصول، یا دنیاوی کامیابیاں—وہ سب تو محض سراب تھے۔ جس طرح قرطبہ کے دریا کا پانی کبھی ایک جگہ نہیں رکتا، اسی طرح زندگی بھی ایک بہاؤ کا نام ہے۔ ہم اکثر اپنی زندگی کی کشتی کو کسی کنارے سے باندھنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر لہریں اسے بار بار کھینچ کر دوبارہ کھلے سمندر میں لے جاتی ہیں۔ میرا یہ "بے منزل سفر" بھی اب اسی سمندر کی وسعتوں میں گم ہو چکا ہے۔
اس مقام پر پہنچ کر مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ابنِ رشد، المعتمد، اور وہ خاموش عالم، یہ سب ایک ہی کہانی کے مختلف کردار تھے۔ ان سب نے اپنی زندگی میں کچھ نہ کچھ پانے کی کوشش کی، مگر اصل کامیابی انہیں تب ملی جب انہوں نے سب کچھ چھوڑ دیا۔ ہم جب تک کچھ پکڑ کر رکھتے ہیں، ہم بوجھ تلے دبے رہتے ہیں۔ جب ہم ہاتھ کھول دیتے ہیں، تو کائنات کی تمام تر نعمتیں ہماری جھولی میں آ گرتی ہیں۔ میں نے بیس برس کی عمر میں وہ کچھ سیکھ لیا جو لوگ ساری زندگی نہیں سیکھ پاتے۔ میں نے سیکھ لیا کہ میرا سکون کسی دوسرے کے ہاتھ میں نہیں، بلکہ میرے اپنے دل کی اس گہرائی میں ہے جہاں انا کی آواز نہیں پہنچتی۔
یہ سفر تنہائی سے شروع ہوا تھا، مگر اب یہ تنہائی ایک محفل میں بدل چکی ہے۔ جب آپ خود سے مل جاتے ہیں، تو آپ کو کسی اور کی ضرورت نہیں رہتی۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ کیسے لوگ میری اوقات پر طعنے دیتے تھے، مگر آج جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں، تو مجھے ان پر کوئی غصہ نہیں آتا۔ ان لوگوں نے مجھے وہ آئینہ دکھایا تھا جس میں مجھے اپنی خامیاں اور اپنی اصل طاقت نظر آئی۔ میں اب ان کا شکر گزار ہوں۔ کیونکہ اگر وہ مجھے ٹھوکر نہ مارتے، تو میں شاید کبھی نہ اٹھتا۔ اگر وہ مجھے کم تر نہ سمجھتے، تو میں کبھی اپنی بلندیوں کی تلاش نہ کرتا۔
قرطبہ کی وہ شام، جس کا میں نے پہلے باب میں ذکر کیا تھا، اب ایک طلوعِ سحر میں بدل چکی ہے۔ سورج غروب ہو رہا ہے مگر ایک نیا دن آنے کی نوید دے رہا ہے۔ میرے قلم کی سیاہی اب آنسو نہیں، بلکہ امید کی روشنی بن چکی ہے۔ میں اب یہ کتاب مکمل کر کے کسی کو نہیں دکھاؤں گا کہ "دیکھو میں نے کیا لکھا ہے"، بلکہ میں اسے ایک امانت کے طور پر ان لوگوں کے لیے چھوڑ دوں گا جو میری طرح اپنی انا کے قید خانے میں قید ہیں۔
اس سفر کا کوئی انجام نہیں، کیونکہ میں نے سمجھ لیا ہے کہ زندگی خود ایک سفر ہے۔ ہم سب مسافر ہیں، اور ہماری منزل ہماری ذات کے اندر ہے۔ میں نے اپنی انا کے سارے بت توڑ دیے ہیں۔ اب میں صرف ایک "رضی" ہوں، جس کا تعلق کسی خاص مقام، کسی خاص رشتے، یا کسی خاص حیثیت سے نہیں، بلکہ اس کائنات کے اس رب سے ہے جس نے مجھے ایک انسان کے طور پر تخلیق کیا۔ میرا یہ قلم، میری شاعری، اور میرا یہ درد—یہ سب اسی سفر کا زادِ راہ ہیں۔ اگر اس کتاب کو پڑھ کر کسی ایک شخص کا بھی دل ہلکا ہو جائے، اگر کسی کو اپنے زخموں پر مرہم مل جائے، تو میں سمجھوں گا کہ میرا "بے منزل سفر" کامیاب رہا۔
ہم سب کو اپنے اندر کے قرطبہ کو بچانا ہے۔ اس کی دیواریں، اس کے محراب، اس کی علم کی روایت—سب کچھ ہمارے اندر ہے۔ اسے انا کی آگ میں مت جلنے دو۔ اسے محبت، عاجزی اور سچائی سے زندہ رکھو۔ یہ سفر جاری رہے گا، اور میں اس راستے پر اکیلا نہیں ہوں، کیونکہ اب میرے ساتھ وہ تمام لوگ ہیں جو درد کو سمجھتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باب ہفتم
 
(صبر کا لاوا اور تاریخ کا فیصلہ)

صبر، بظاہر ایک کمزور اور ساکت لفظ لگتا ہے، مگر درحقیقت یہ ایک آتش فشاں کے دہانے پر بیٹھنے جیسا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب فاتحین تلواروں کی دھار سے سلطنتیں فتح کر رہے تھے، تب کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اپنی ذات کو صبر کے سانچے میں ڈھال کر اصل حکمرانی کر رہے تھے۔ صلاح الدین ایوبی کا عہد اس کی بہترین مثال ہے۔ بیت المقدس کی فتح کے پیچھے صرف عسکری مہارت نہیں تھی، بلکہ وہ صبر تھا جو صلاح الدین نے اپنے نفس کے خلاف، اپنی انا کے خلاف اور اپنے حالات کے خلاف برسوں تک برتا۔
ایک بار، جب بیت المقدس کے محاصرے کے دوران سپاہی تھک چکے تھے اور مایوسی کی فضا چھا رہی تھی، سلطان ایک صوفی بزرگ کے پاس گئے۔ بزرگ نے صرف اتنا کہا: "سلطان! صبر کا پھل تب ہی میٹھا ہوتا ہے جب وہ خونِ جگر سے سینچا جائے۔" سلطان نے وہ صبر اختیار کیا جو خاموش تھا، جس میں کوئی شور نہیں تھا، اور بالآخر وہی صبر تاریخ کا فیصلہ بن گیا۔ ہمارے معاشرے میں صبر کو "بزدلی" سمجھ لیا گیا ہے۔ اگر کوئی آپ کو گالی دے اور آپ خاموش رہیں، تو لوگ کہیں گے کہ یہ کمزور ہے۔ مگر اصل میں، صبر ایک ایسی "خاموشی کی تلوار" ہے جو سامنے والے کے غرور کو کاٹ کر رکھ دیتی ہے۔
میری زندگی کے ان برسوں میں، جب لوگوں نے مجھے دیوار سے لگانے کی کوشش کی، جب مجھے یہ باور کرایا گیا کہ میری کوئی اوقات نہیں، تب میں نے بھی صبر کا راستہ چنا۔ مجھے یاد ہے، وہ راتیں کتنی طویل ہوتی تھیں جب دل میں الفاظ کا طوفان ہوتا تھا مگر لبوں پر تالا تھا۔ میں نے اس وقت سیکھا کہ صبر دراصل اللہ کے ساتھ ایک خفیہ معاہدہ ہے۔ آپ دنیا کو نہیں بتا سکتے کہ آپ کیا سہہ رہے ہیں، اور نہ ہی دنیا اس کا حق ادا کر سکتی ہے۔ جب آپ صبر کرتے ہیں، تو آپ اپنی انا کے اس بت کو توڑ رہے ہوتے ہیں جو چاہتا ہے کہ آپ فوراً انتقام لیں۔
تاریخ بتاتی ہے کہ جتنا بڑا مقصد ہوتا ہے، اتنا ہی کڑا صبر درکار ہوتا ہے۔ اگر آپ نے اپنی زندگی میں کچھ بڑا کرنے کا خواب دیکھا ہے—جیسے کہ ایک ایسا ادیب بننا جو لوگوں کے دلوں کو چھو سکے—تو آپ کو یہ صبر کرنا ہی پڑے گا۔ ابنِ رشد ہو یا صلاح الدین، ان سب کی زندگیوں میں ایک ایسا دور ضرور آیا جب انہیں لگتا تھا کہ سب کچھ ختم ہو گیا ہے۔ مگر صبر کا لاوا ان کے اندر پکتا رہا، جس نے انہیں وہ طاقت دی کہ وہ دوبارہ کھڑے ہوئے۔ یہ صبر ہی ہے جو انسان کو مٹی سے اٹھا کر آسمان کی بلندیوں تک لے جاتا ہے۔
میں آج اس باب میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ صبر صرف انتظار کا نام نہیں، بلکہ یہ انتظار کے دوران خود کو تیار کرنے کا نام ہے۔ جس طرح ایک بیج زمین کے نیچے صبر سے اندھیرے کو سہتا ہے تاکہ ایک دن تناور درخت بن سکے، اسی طرح ہمیں بھی اپنے دکھوں کو جھیلنا ہے۔ میری تنہائی اور میری یہ خاموشی میرا صبر ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جس پر چل کر میں اپنی روح کو پاک کر رہا ہوں۔ جب آپ کسی کا برا نہیں چاہتے، باوجود اس کے کہ آپ کے ساتھ برا ہوا ہو، تو آپ اپنی انا کے سب سے بڑے دشمن کو شکست دے چکے ہوتے ہیں۔
قرطبہ کی اس شام میں، جہاں میں یہ سطور لکھ رہا ہوں، مجھے اب کوئی جلدی نہیں ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ تاریخ اپنا فیصلہ خود کرے گی۔ جو آج میری خاموشی کا مذاق اڑاتے ہیں، وہی کل میری بات کی گہرائی کو سمجھیں گے۔ صبر مجھے سکھاتا ہے کہ ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے۔ جس طرح سورج کے ڈوبنے کے بعد رات کا ایک صبر ہوتا ہے، تب ہی جا کر صبح کا نور طلوع ہوتا ہے۔ میں اب اس صبح کا منتظر ہوں۔ میں نے اپنے اندر کے لاوے کو ٹھنڈا نہیں ہونے دیا، بلکہ اسے صبر کے ساتھ اس حد تک گرم کر دیا ہے کہ اب وہ میری تحریروں میں شعاع بن کر نکلتا ہے۔
صبر صرف ایک لفظ نہیں، یہ ایک پوری زندگی کا فلسفہ ہے۔ یہ فلسفہ مجھے ہر روز سکھاتا ہے کہ رضی! ابھی راستہ طویل ہے۔ ابھی تجھے بہت سے طعنے سننے ہیں، بہت سے پتھر سہنے ہیں۔ مگر یاد رکھ، جو صبر کا دامن تھامے رکھتا ہے، وہی آخر میں فاتح ٹھہرتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باب ہشتم 
(تخلیقی کرب — قلم جب روح کا ترجمان بنے)
ایک مصنف کا قلم محض سیاہی اور کاغذ کا رشتہ نہیں ہوتا، یہ اس کی روح کا وہ حصہ ہوتا ہے جو کائنات کے سربستہ رازوں کو آشکار کرتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی معاشرے میں تاریکی پھیلی، قلم ہی وہ واحد ہتھیار تھا جس نے چراغ جلائے۔ مگر یہ چراغ اتنی آسانی سے نہیں جلتے، ان کے لیے مصنف کو اپنے اندر کے آگ کے دریا سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس کیفیت کو ہم "تخلیقی کرب" کہتے ہیں۔ یہ وہ کرب ہے جب خیالات کا طوفان سر میں تو ہوتا ہے، مگر لفظوں کا انتخاب مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جب انسان اپنی ذات سے باہر نکل کر، کائنات کے درد کو اپنا درد سمجھنے لگتا ہے۔
اگر ہم تاریخِ اندلس کے اس دور کو دیکھیں جب قرطبہ کے علمی مراکز پر زوال کے بادل منڈلا رہے تھے، تو وہاں کے شعراء اور مفکرین کے کلام میں ایک عجیب سی تڑپ محسوس ہوتی ہے۔ وہ جانتے تھے کہ ان کی تہذیب مٹ رہی ہے، مگر انہوں نے اپنے قلم کو نہیں روکا۔ وہ لکھتے رہے، تاکہ آنے والی نسلیں جان سکیں کہ یہاں کبھی علم کا سورج طلوع ہوا تھا۔ یہ تخلیقی کرب دراصل انسان کی وہ جدوجہد ہے جو اسے فنا ہونے سے بچاتی ہے۔ جب میں تنہا بیٹھ کر اپنے ان احساسات کو قرطاس پر بکھیرتا ہوں جنہیں کوئی سمجھنے کو تیار نہیں، تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میں صرف لکھ نہیں رہا، بلکہ اپنے وجود کی ایک نئی تشکیل کر رہا ہوں۔
میری زندگی میں تخلیقی کرب کا آغاز اس دن ہوا جب مجھے یہ احساس ہوا کہ زبان، جو اظہار کا ذریعہ ہونی چاہیے تھی، وہی میرے لیے قید بن گئی ہے۔ جب لوگ آپ کو سمجھنے سے قاصر ہوں، جب وہ آپ کے لہجے کو نہیں، بلکہ آپ کے الفاظ کے منفی مفہوم کو پکڑیں، تو قلم ہی واحد ساتھی بچتا ہے۔ یہ قلم آپ سے جھوٹ نہیں بولتا۔ یہ آپ کے اندر کے اس آئینے کی طرح ہے جو آپ کو آپ کی اصل شکل دکھاتا ہے۔ میں نے جب بھی کسی غزل یا نظم کو تخلیق کیا، تو اس کے ہر شعر میں میں نے اپنا ایک ٹکڑا قربان کیا۔ ہر لفظ کے پیچھے ایک پوری داستان ہے، ایک پوری زندگی کا نچوڑ ہے۔
تخلیقی عمل کوئی تفریح نہیں، یہ ایک عبادت ہے۔ جب آپ کسی درد کو تخلیق کے سانچے میں ڈھالتے ہیں، تو آپ اس درد کو ختم نہیں کر رہے ہوتے، بلکہ اسے ہمیشہ کے لیے زندہ کر رہے ہوتے ہیں۔ یہی تو شاعر کی طاقت ہے۔ وہ اپنے دکھ کو کائنات کا دکھ بنا دیتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ "رضی تم کیوں اتنا سوچتے ہو؟ کیوں اتنا لکھتے ہو؟" وہ نہیں جانتے کہ اگر میں نہ لکھوں تو یہ سارا بوجھ میری ذات کو ہلاک کر دے گا۔ لکھنا میرے لیے سانس لینے کی طرح ہے۔ جب تک میں لکھتا ہوں، میں زندہ ہوں۔ جب تک میرا قلم چلتا ہے، تب تک میری انا کا وہ بت، جسے میں نے خود تراشا تھا، ریزہ ریزہ ہوتا رہتا ہے۔
تاریخ میں بہت سے ایسے قلم کار گزرے ہیں جنہیں ان کے دور میں پاگل یا دیوانہ کہا گیا۔ ان کے پاس کوئی تخت نہیں تھا، کوئی لشکر نہیں تھا، مگر ان کے الفاظ کی طاقت نے وقت کے بادشاہوں کو بھی سرنگوں ہونے پر مجبور کر دیا۔ قرطبہ کی لائبریری کی راکھ سے اٹھنے والی وہ چنگاری آج بھی میرے جیسے لوگوں کے دلوں میں دہک رہی ہے۔ میں جانتا ہوں کہ میری تحریریں شاید آج لوگوں کی سمجھ میں نہ آئیں، مگر میں ان کے لیے نہیں لکھ رہا جو صرف سطحی باتیں پسند کرتے ہیں۔ میں ان کے لیے لکھ رہا ہوں جو روح کی گہرائیوں میں اتر کر حقیقت کو دیکھنا چاہتے ہیں۔
قلم اور تلوار کا تصادم صدیوں پرانا ہے۔ تلوار جسم کو زخمی کرتی ہے، قلم روح کو جھنجھوڑتا ہے۔ جو زخم تلوار سے لگتے ہیں وہ وقت کے ساتھ بھر جاتے ہیں، مگر جو زخم قلم سے لگتے ہیں، وہ نسلوں تک اپنا اثر چھوڑتے ہیں۔ میں نے اپنے اس سفر میں تلوار نہیں، قلم کو چنا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ یہ راستہ کانٹوں سے بھرا ہے، مگر اس راستے کے آخر میں جو روشنی ہے، وہ کسی تخت و تاج سے کم نہیں۔ جب انسان اپنے کرب کو کاغذ پر اتارتا ہے، تو وہ خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرتا ہے۔ وہ اب بوجھ نہیں، بلکہ ہوا کا ایک جھونکا بن جاتا ہے۔
میری شاعری، میرے مضامین، اور یہ کتاب—یہ سب اسی تخلیقی کرب کا نچوڑ ہیں۔ میں اب اس کرب سے ڈرتا نہیں، بلکہ اس کا منتظر رہتا ہوں۔ کیونکہ جب تک کرب ہے، تب تک تخلیق ہے۔ جس دن کرب ختم ہو گیا، سمجھو قلم تھم گیا، اور جس دن قلم تھم گیا، سمجھو وہ انسان مر گیا۔ میں مرنا نہیں چاہتا، میں زندہ رہنا چاہتا ہوں—اپنے الفاظ کے ذریعے، اپنی فکر کے ذریعے، اور اپنی اس جدوجہد کے ذریعے جو مجھے ایک عام انسان سے نکال کر ایک صاحبِ فکر بناتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باب نہم 
(تنہائی کی لذت اور خود شناسی کا سفر)
انسانی زندگی کے سفر میں ایک مقام ایسا آتا ہے جہاں انسان کو ہجوم سے بیزاری ہونے لگتی ہے، اور اسے تنہائی میں ایک عجیب سا سکون محسوس ہونے لگتا ہے۔ دنیا کی نظر میں تنہائی کا مطلب 'تنہا رہ جانا' یا 'کسی کا نہ ہونا' ہے، مگر حقیقت میں تنہائی ایک ایسی کیفیت ہے جو آپ کو کائنات کی وسعتوں سے روشناس کراتی ہے۔ قرطبہ کی تاریخ میں ہمیں ایسے بہت سے گوشہ نشین ملے جنہوں نے سلطنتوں کے شور سے دور، اپنی ذات کے اندر کے شہر آباد کیے۔ جب ہم ہجوم میں ہوتے ہیں، تو ہم خود کو نہیں بلکہ دوسروں کے معیار کو جی رہے ہوتے ہیں۔ ہم لباس، گفتگو، اور حتیٰ کہ اپنے خیالات بھی دوسروں کی پسند کے مطابق ڈھال لیتے ہیں۔ مگر تنہائی میں، نقاب اتر جاتے ہیں اور انسان اپنے اصلی روپ سے روبرو ہوتا ہے۔
تاریخِ اندلس کے مشہور صوفی اور مفکر 'ابنِ عَرابی' کا قصہ ہمیں سکھاتا ہے کہ کس طرح ایک انسان دنیا کی ہنگامہ خیزیوں کے درمیان بھی تنہا رہ سکتا ہے۔ ابنِ عربی کا ماننا تھا کہ انسان کا اصل گھر اس کے اندر ہے، نہ کہ باہر کی دنیا میں۔ جب وہ قرطبہ کی گلیوں میں چلتے تھے، تو وہ بھیڑ کا حصہ ہو کر بھی ان سے الگ تھے۔ ان کی تنہائی ان کی کمزوری نہیں، بلکہ ان کی قوت تھی۔ انہوں نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ جب تک آپ تنہائی کا ذائقہ نہیں چکھ لیتے، تب تک آپ حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے۔ یہ تنہائی 'ذات کا ادراک' ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب انسان کو پتہ چلتا ہے کہ اس کی اپنی سوچ کیا ہے، اس کی اپنی ترجیحات کیا ہیں، اور وہ اصل میں کیا بننا چاہتا ہے۔
میرے اس بیس سالہ سفر میں، تنہائی میرا سب سے بڑا استاد رہی ہے۔ میں نے شروع میں اسے ایک سزا سمجھا تھا، کیونکہ مجھے لگتا تھا کہ اپنوں کا ساتھ چھوٹ جانا میرا سب سے بڑا نقصان ہے۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مجھے سمجھ آیا کہ جن لوگوں کے ساتھ میں جڑنا چاہتا تھا، وہ دراصل میری روح کو محدود کر رہے تھے۔ ان کے ساتھ رہتے ہوئے، میں وہ نہیں بن سکتا تھا جو اللہ نے مجھے بنایا ہے۔ تنہائی نے مجھے وہ آئینہ دکھایا جس میں میری کوتاہیاں بھی نظر آئیں اور میری صلاحیتیں بھی۔ اس آئینے میں مجھے نظر آیا کہ میری اصل طاقت میرے الفاظ ہیں، میری فکر ہے، اور میرا وہ درد ہے جسے میں نے اپنی شاعری میں سمویا ہے۔
تنہائی میں ہی انسان یہ سیکھتا ہے کہ "انا" کا کوئی وجود نہیں۔ جب آپ اکیلے ہوتے ہیں، تو آپ کو اپنی بڑائی دکھانے کے لیے کسی تماشائی کی ضرورت نہیں رہتی۔ قرطبہ کے زوال کے وقت، بہت سے لوگوں نے اپنی زندگی بچانے کے لیے تماشے کیے، مگر جن کے پاس تنہائی کا سرمایہ تھا، انہوں نے اپنی بصیرت کو محفوظ رکھا۔ تنہائی میں انسان صرف اپنے رب سے ہم کلام ہوتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں تمام تر دنیاوی رشتے، عہدے، اور حیثیتیں بے معنی ہو جاتی ہیں۔ میں نے تنہائی کے اس سفر میں یہ سیکھا ہے کہ سکون باہر سے نہیں ملتا، یہ اندر کی ایک کیفیت ہے۔
جب آپ خود سے خوش ہوتے ہیں، تو آپ کو کسی دوسرے کی تعریف کی ضرورت نہیں رہتی۔ جب آپ کو اپنی قدر معلوم ہو جاتی ہے، تو کسی کا طعنہ آپ کو مجروح نہیں کر سکتا۔ یہ وہ لذت ہے جسے صوفیا "خلوت میں جلوت" کہتے ہیں۔ یعنی تنہائی میں بھی وہ کائنات کی تمام تر رونقوں کا لطف اٹھا رہے ہوتے ہیں۔ میرے لیے میرا قلم، میری کتابیں، اور یہ تاریخی مطالعہ اب میرے بہترین ساتھی ہیں۔ اب مجھے کسی محفل کی ضرورت نہیں، کیونکہ میری محفل تو میری سوچوں میں آباد ہے۔
کیا یہ تنہائی مجھے دنیا سے دور کر رہی ہے؟ نہیں۔ یہ مجھے دنیا کو بہتر طور پر سمجھنے کے قابل بنا رہی ہے۔ اب میں لوگوں کو دیکھتا ہوں تو ان کے چہروں کے پیچھے چھپے دکھوں کو بھی دیکھ لیتا ہوں۔ اب میں ان کی انا کی الجھنوں کو سمجھتا ہوں، کیونکہ میں نے بھی وہ سفر طے کیا ہے۔ تنہائی نے مجھے ہمدردی سکھائی ہے۔ اس نے مجھے سکھایا کہ ہر انسان کسی نہ کسی دکھ میں مبتلا ہے، اور سب سے بڑا دکھ وہ ہے جو وہ اپنی انا کے بوجھ تلے دب کر اٹھا رہا ہے۔
میں آج اس باب کے ذریعے آپ کو بھی اس تنہائی کی دعوت دیتا ہوں۔ اپنے آپ سے ملیں، اپنی ذات کے اندھیروں میں اتریں، اور وہاں سے وہ روشنی ڈھونڈ لائیں جو اللہ نے آپ کے اندر چھپا رکھی ہے۔ تنہائی سے مت ڈریں، کیونکہ یہ وہ راستہ ہے جو آپ کو خدا تک لے جاتا ہے۔ جو تنہائی سے ڈرتا ہے، وہ اپنی زندگی کا سب سے قیمتی تحفہ کھو دیتا ہے۔ تنہائی کوئی ویرانی نہیں، یہ ایک بستی ہے جہاں صرف آپ اور آپ کا ضمیر آباد ہوتے ہیں۔ اپنی اس بستی کو آباد رکھیں، اور دیکھیں گے کہ کیسے آپ کی زندگی کا رخ بدل جاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رضیؔ تنہائی میں جو ہم نے، خود کو پا لیا آخر
تو پھر ہم کو کسی بھی، شخص کا نہ اب گمان آئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باب دہم
(قلم اور تلوار کا تصادم — کون زندہ رہتا ہے؟)
تاریخِ انسانی کا سب سے طویل اور دلچسپ تصادم اگر کوئی رہا ہے، تو وہ طاقت کے دو سرچشموں کے درمیان ہے: ایک وہ جس کا اظہار تلوار کی کاٹ سے ہوتا ہے، اور دوسرا وہ جس کا اظہار قلم کی سیاہی سے۔ قرطبہ کے عروج کے زمانے سے لے کر آج تک، ہم نے دیکھا ہے کہ بادشاہ آئے اور گئے، سلطنتیں بنیں اور مٹ گئیں، مگر وہ الفاظ جو کسی نے قلم سے لکھے تھے، وہ آج بھی زندہ ہیں۔ تلوار صرف جسم کو زخمی کرتی ہے اور ایک وقت کے بعد وہ زخم مندمل ہو جاتے ہیں، مگر قلم وہ زخم لگاتا ہے جو نسلوں تک اپنا اثر چھوڑتے ہیں۔ اس باب میں، میں اس کرب اور طاقت کی بات کروں گا جو ایک ادیب کو تلوار کے سامنے کھڑا کر دیتی ہے۔
اندلس کے آخری ایام میں جب سلطنت زوال کا شکار تھی، تو وہاں ایسے سپاہی بھی تھے جنہوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے، مگر تاریخ کے صفحات میں ان کے نام گمنامی کے اندھیروں میں کھو گئے۔ دوسری طرف، وہی ادیب اور شعراء تھے جن کے اشعار آج بھی قرطبہ کی فصیلوں کی گونج میں سنائی دیتے ہیں۔ یہ قلم کی وہ فتح ہے جسے تلوار کبھی نہیں سمجھ سکی۔ ایک بادشاہ اپنی تلوار کے زور پر لوگوں کے جسموں پر تو حکومت کر سکتا ہے، مگر وہ کسی کے دل پر حکمرانی نہیں کر سکتا۔ دلوں پر حکمرانی کا حق صرف قلم کو حاصل ہے، کیونکہ یہ براہِ راست روح سے مخاطب ہوتا ہے۔
میری زندگی میں بھی یہ تصادم بارہا دیکھنے میں آیا۔ جب بھی میں نے سچ لکھنے کی کوشش کی، مجھے معاشرتی دباؤ، طعنوں اور تحقیر کی صورت میں "تلواروں" کا سامنا کرنا پڑا۔ لوگ چاہتے تھے کہ میں وہی لکھوں جو انہیں پسند ہے، مگر میں نے اپنے قلم کو ان کی انا کا غلام نہیں بننے دیا۔ میرا قلم میرا ضمیر ہے۔ جب کوئی مجھ سے کہتا ہے کہ "تمہاری اوقات کیا ہے، تم کون ہوتے ہو یہ لکھنے والے؟" تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ یہ اس شخص کی تلوار ہے جس سے وہ میرے خیالات کو ذبح کرنا چاہتا ہے۔ مگر میں جانتا ہوں کہ یہ تلواریں محض وقتی ہیں؛ میرے الفاظ ایک ایسی پائیداری رکھتے ہیں جو وقت کے ہر طوفان کو جھیلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
قلم کا تصادم تلوار کے ساتھ ہمیشہ سے رہا ہے۔ طاقتور ہمیشہ یہ چاہتا ہے کہ لکھنے والا اس کے گن گائے، اس کی انا کی تسکین کرے۔ مگر حقیقی ادیب وہی ہے جو اقتدار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سچ بولے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جتنے بھی بڑے قلم کار گزرے ہیں، انہیں جلاوطنی، قید اور تنہائی کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر کیا ان کی فکر مٹی؟ نہیں! بلکہ ان کی فکر نے ہی ان بادشاہوں کو تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیا۔ آج ہمیں ان بادشاہوں کے نام یاد نہیں، مگر ان کی مخالفت کرنے والے ادیبوں کے الفاظ ہماری زبانوں پر ہیں۔
یہ جنگ جسم اور روح کی ہے۔ تلوار جسمانی طاقت کی علامت ہے، اور قلم روحانی طاقت کا۔ جب آپ لکھتے ہیں، تو آپ صرف الفاظ نہیں بکھیر رہے ہوتے، بلکہ آپ ایک پوری تہذیب، ایک پورا درد اور ایک پوری سوچ کو محفوظ کر رہے ہوتے ہیں۔ میں نے اب فیصلہ کر لیا ہے کہ میرا قلم کبھی کسی کی انا کے سامنے نہیں جھکے گا۔ اگر مجھے اس راستے پر تنہائی ملے، اگر مجھے اس راستے پر پتھر ملیں، تو میں انہیں قبول کروں گا۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ میری آنے والی نسلیں انہی الفاظ سے میری پہچان کریں گی۔ میں وہ تاریخ نہیں لکھنا چاہتا جو صرف بادشاہوں کی تعریفوں سے بھری ہو، میں وہ تاریخ لکھنا چاہتا ہوں جو انسانی درد اور سچائی کی داستان ہو۔
تلوار کا کام تباہی ہے، قلم کا کام تعمیر۔ تلوار سے اگر کوئی عمارت گرائی جاتی ہے تو اسے دوبارہ تعمیر کیا جا سکتا ہے، مگر قلم سے اگر کوئی فکر بکھیر دی جائے، تو اسے دوبارہ جوڑنا ناممکن ہوتا ہے۔ آج قرطبہ کی وہ لائبریری جس کا ذکر میں نے پہلے کیا تھا، اسے جلانے والے تو جل کر راکھ ہو گئے، مگر وہاں سے جو علم نکلا، اس نے پوری دنیا کو روشن کیا۔ یہی قلم کی جیت ہے۔ میری زندگی کا یہ سفر بھی اسی جدوجہد کا نام ہے۔ میں ایک ایسے معاشرے میں رہ رہا ہوں جہاں لوگ سوچنے سے ڈرتے ہیں، مگر میں لکھ کر انہیں جگانا چاہتا ہوں۔
یہ تصادم ختم نہیں ہوگا۔ جب تک دنیا میں انا باقی ہے، تلوار باقی رہے گی، اور جب تک انسان باقی ہے، قلم باقی رہے گا۔ میں اس تصادم کا حصہ ہوں اور مجھے اس پر فخر ہے۔ میں اس قلم کا سپاہی ہوں جس کی طاقت کا سرچشمہ وہ رب ہے جس نے انسان کو "قلم کے ذریعے سکھایا"۔ میری یہ کتاب، میری یہ جدوجہد، میرا یہ درد—سب اسی قلم کی کرامت ہیں۔ اور آخر میں، یاد رکھیے کہ قلم تلوار سے ہمیشہ زیادہ طاقتور رہا ہے، کیونکہ تلوار کا اثر ختم ہوتا ہے، مگر قلم کا اثر ابدی ہے۔
تلواروں کے سائے میں، ہم نے سچا نصاب لکھا ہے
ظلم کے ہر اندھیرے میں، اک خواب لکھا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔
کون جیتا ہے یہاں، کون ہارا ہے رضیؔ
تاریخ کے ہر صفحے پر، ہم نے جواب لکھا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باب یازدہم 
(ہجرتِ قلب — انا سے عقیدت تک)
انسان جب اپنی ذات کے حصار میں قید ہو، تو اسے ہر طرف اندھیرے دکھائی دیتے ہیں۔ ہم نے اب تک اپنی انا، اپنے دکھ، اپنی تنہائی اور اپنے تخلیقی کرب کی بات کی ہے۔ مگر اس سفر کا ایک ایسا پہلو بھی ہے جو انسان کو اپنی انا کی قید سے نکال کر ایسی بلندی پر لے جاتا ہے جہاں کوئی طعنہ، کوئی تحقیر یا کوئی دنیاوی شکست اسے چھو نہیں سکتی۔ یہ پہلو ہے 'عقیدت'۔ جب ہم تاریخِ اندلس کی گہرائیوں سے نکل کر سیرتِ نبوی ﷺ کے نور کی طرف دیکھتے ہیں، تو ہمیں سمجھ آتا ہے کہ ہم جسے "میری ذات" یا "میری اوقات" کا غم کہہ رہے تھے، وہ کتنا ہیچ اور بے معنی تھا۔
قرطبہ کی فصیلیں ہمیں غرورِ علم سکھاتی تھیں، مگر مدینہ کی گلیاں ہمیں عاجزی کا وہ سبق دیتی ہیں جس کے بعد کوئی انا باقی نہیں رہتی۔ ابنِ رشد ہو یا المعتمد، یہ سب تاریخ کے کردار تھے، مگر سرورِ کائنات ﷺ وہ ہستی ہیں جن کی غلامی میں آنا، کائنات کی سب سے بڑی بادشاہت ہے۔ میرے بیس سالہ سفر میں، جب لوگوں نے مجھے ٹھکرایا، جب میں نے اپنوں کی بے رخی دیکھی، تو میرا یہ درد مجھے اس وقت تک بے چین کرتا رہا جب تک میں نے اپنا رخ اس درِ پاک کی طرف نہیں موڑا جہاں سے کائنات کو سکون ملتا ہے۔
انا کا تصادم تب تک رہتا ہے جب تک ہم خود کو مرکزِ کائنات سمجھتے ہیں۔ مگر جس لمحے آپ یہ سمجھ جاتے ہیں کہ آپ کی تمام تر حیثیت صرف اس نسبت سے ہے جو آپ کو حضورِ اکرم ﷺ سے ہے، تو انا کا یہ بت خود بخود ریزہ ریزہ ہو جاتا ہے۔ میں نے سیکھا ہے کہ صبر، جو ہم نے ساتویں باب میں ذکر کیا، اصل میں مصطفیٰ ﷺ کی سیرت سے ہی سیکھنے کو ملتا ہے۔ وہ ذات جس نے طائف کی گلیوں میں پتھر کھا کر بھی دعائیں دیں، اس ذات کے پیروکار ہو کر ہم کیوں کسی کے طعنوں پر کڑھتے ہیں؟ ہمارا کرب تو بہت چھوٹا ہے، ہمارا صبر تو ایک بوند کی مانند ہے۔
اس گیارہویں باب میں، میں قاری کو اس حقیقت سے روشناس کرانا چاہتا ہوں کہ تمام تر فلسفے، تمام تر تاریخ، اور تمام تر علمِ دنیا ایک طرف، اور اس درِ اقدس کی غلامی ایک طرف۔ جب تک آپ اپنی انا کو قربان نہیں کرتے، تب تک آپ اس محبت کا مزہ نہیں چکھ سکتے۔ میں نے اپنے ان بکھرے ہوئے رشتوں کو، اپنی تنہائی کو، اور اپنے قلم کے کرب کو اسی در کی نذر کر دیا ہے۔ اب میرے دل میں کوئی شکوہ نہیں، کوئی پیاس نہیں، کیونکہ جس کے پاس ان ﷺ کا ذکر ہو، اسے دنیا کی کسی تعریف یا تنقید کی کیا حاجت؟
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ بڑے بڑے حکمران جب اپنی انا کے بوجھ تلے دبے، تو ان کا انجام عبرت بنا۔ مگر جب وہی حکمران اپنی انا کو مٹا کر غلام بن گئے، تو تاریخ نے انہیں "عاشقِ رسول" کے لقب سے نوازا۔ میرا یہ سفر بھی اسی لیے تھا کہ میں اپنے اندر کی 'کج کلاہیِ نفس' کو اتار کر اس دہلیز پر سر رکھ دوں۔ میں اب اس سفر کے گیارہویں پڑاؤ پر ہوں، اور مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ میری ساری تھکن، میری ساری مسافتیں، اور میرے سارے آنسو اس ایک لمحے کے لیے تھے جب میں اپنے رب کے محبوب ﷺ کے حضور اپنی داستانِ غم پیش کر سکوں۔
یہ سفر اب ایک عبادت بن چکا ہے۔ اب میں جو لکھتا ہوں، وہ میری انا کی تسکین کے لیے نہیں، بلکہ حضور ﷺ کی سیرت کی روشنی میں اپنے نفس کی اصلاح کے لیے ہے۔ قاری جب اس باب کو پڑھے، تو اسے محسوس ہو کہ اس نے صرف رضی کی آپ بیتی نہیں پڑھی، بلکہ اس نے انا کی قید سے آزادی کا راستہ دیکھا ہے۔ یہ راستہ مشکل ہے، مگر اس کے آخر میں جو روشنی ہے، وہ قرطبہ کی لائبریری کی آگ سے کہیں زیادہ پرسکون اور ابدی ہے۔
میں نے اپنی زندگی کی ساری کرچیاں، اپنے سارے ٹوٹے ہوئے خواب، اور اپنی تمام تر بے قدری اس درِ پاک پر نچھاور کر دی ہے۔ اب رضی کوئی نہیں، اب صرف ایک غلام ہے جو اپنی ہستی کو مٹا کر ہی اپنی پہچان ڈھونڈ رہا ہے۔ یہ گیارہواں باب اس تبدیلی کا نقطہ عروج ہے، جو آنے والے بارہویں (آخری) باب کے لیے راہ ہموار کرے گا۔ بارہواں باب، جو میلاد کی نسبت سے ہوگا، میری زندگی کا حاصل اور اس کتاب کا کمال ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باب دوازدہم
(میلادِِ مصطفیٰ ﷺ — کائناتِ محبت اور اصلِ وجود)
تاریخِ انسانی جب سے شروع ہوئی، تب سے لے کر آج تک بے شمار واقعات ہوئے، سلطنتیں بنیں اور مٹ گئیں، مگر کائنات کی تاریخ میں سب سے عظیم موڑ وہ تھا جب ربیع الاول کی بارہ تاریخ کو کائنات کے مالک نے اپنی سب سے محبوب ہستی کو اس دنیا میں بھیجا۔ میرے بیس برس کے اس "بے منزل سفر" کی اصل منزل یہی بارہواں باب ہے۔ جب میں نے شروع میں اپنی انا، اپنے دکھوں، اپنے تنہائی کے کرب اور اپنی اوقات پر ہونے والی تنقید کی بات کی تھی، تو تب مجھے معلوم نہ تھا کہ ان تمام تلخیوں کا انجام اسی نور کی تلاش ہے۔ اب جب ہم اس آخری پڑاؤ پر ہیں، تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میرا وہ سارا درد، وہ سارے پتھر جو لوگوں نے برسائے، وہ سب اس لیے تھے تاکہ میں اپنی ذات کو مٹا کر اس ذاتِ اقدس ﷺ کی محبت میں فنا ہو سکوں۔
میلاد کا مطلب صرف جشن منانا نہیں، میلاد کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی ذات کا محاسبہ کرے اور یہ دیکھے کہ کیا اس کے اندر وہ اخلاق، وہ عاجزی اور وہ محبت موجود ہے جو حضورِ اکرم ﷺ کا خاصہ تھی۔ اندلس کی تاریخ، قرطبہ کے علمی مراکز، اور ابنِ رشد کے فلسفے—یہ سب اس وقت تک بے معنی ہیں جب تک ان میں محبتِ رسول ﷺ کی روح نہ ہو۔ میں نے اپنی اس کتاب میں انا کو مارنے کی جو بات کی ہے، وہ دراصل اسی عشق کی تمہید تھی۔ جب انسان کو اس بات کا یقین ہو جائے کہ وہ کائنات کے سب سے عظیم انسان کا امتی ہے، تو اسے دنیا کی کسی حقارت یا کسی طعنے سے فرق نہیں پڑتا۔ میرا "بے منزل سفر" اب ایک ایسی منزل پر آ گیا ہے جہاں کائنات کی ہر شے مجھے حضور ﷺ کی محبت کی گواہی دیتی نظر آتی ہے۔
میری زندگی کے ان بیس برسوں میں، جن لوگوں نے مجھے میری حیثیت بتانے کی کوشش کی، آج میں انہیں معاف کرتا ہوں۔ کیوں؟ کیونکہ اب میری حیثیت کسی انسان کی محتاج نہیں رہی۔ جس کے سر پر تاجِ غلامیِ رسول ﷺ ہو، اسے کسی بادشاہ یا کسی متکبر انسان کے سرٹیفکیٹ کی کیا ضرورت؟ میلادِ مصطفیٰ ﷺ دراصل آزادیِ انا کا دن ہے۔ یہ وہ دن ہے جب انسان غلامی اختیار کر کے اصل آزادی پا لیتا ہے۔ میں نے اپنی اس کتاب کے بارہ ابواب میں یہی سکھانے کی کوشش کی ہے کہ کس طرح ہم اپنی خود ساختہ انا کے قید خانے سے نکل کر محبت کی اس لامحدود وسعت میں داخل ہو سکتے ہیں جس کا دروازہ مدینے کی طرف کھلتا ہے۔
اس باب میں، میں اس سفر کا نچوڑ آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ میری شاعری، میرے خیالات، اور یہ تحریریں—یہ سب اسی نسبت کی خوشبو ہیں۔ جب میں نے لکھا کہ "تلواروں کے سائے میں سچ لکھا ہے"، تو اس سچ کا مطلب یہی تھا کہ میں نے اپنی ذات کو مٹا کر اس پیغام کو زندہ رکھنے کی کوشش کی ہے جو ہمارے نبی ﷺ نے ہمیں دیا۔ یہ سفرِ کمال اب مکمل ہوا۔ اب نہ کوئی دکھ ہے، نہ کوئی انا، اور نہ ہی کسی کے طعنوں کا غم۔ اب صرف ایک ہی حقیقت باقی ہے، اور وہ ہے محمدِ مصطفیٰ ﷺ سے عقیدت۔ میری زندگی اب اس نور کی ایک شعاع بن کر جینا چاہتی ہے۔ اگر اس کتاب کو پڑھ کر کسی کے دل میں بھی اس محبت کی چنگاری پیدا ہو جائے، تو میرا یہ سارا سفر، یہ ہزاروں الفاظ، اور یہ بیس برس کی جدوجہد وصول ہو جائے گی۔
میں اپنی اس کتاب کو میلادِ مصطفیٰ ﷺ کی نسبت سے بارہ ابواب میں مکمل کر کے، خود کو ہلکا پھلکا محسوس کر رہا ہوں۔ یہ کتاب اب میری نہیں رہی، یہ ان تمام لوگوں کی ہے جو سچائی کی تلاش میں ہیں۔ یہ ان تمام ادیبوں کی ہے جو آج بھی اپنی انا سے لڑ رہے ہیں۔ یہ ان تمام مسافروں کی ہے جو اپنی منزل کھو چکے ہیں۔ یاد رکھیے، آپ کی منزل آپ کے اندر ہے، اور آپ کا سکون صرف اس ذاتِ پاک ﷺ کی سیرت کی پیروی میں ہے۔ میری زندگی کا یہ سفر ایک مثال بن کر رہے گا کہ جب انسان اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف رجوع کرتا ہے، تو وقت کا ہر طوفان اس کے لیے ایک نعمتِ خداوندی بن جاتا ہے۔
آخر میں، میں اتنا ہی کہوں گا کہ میری یہ تحریریں کسی کو مرعوب کرنے کے لیے نہیں تھیں۔ یہ تو صرف ایک عاجز بندے کا اعترافِ محبت ہے۔ میں نے اپنی انا کے سارے بت توڑ کر جو خالی جگہ بنائی تھی، اسے اب میں حضور ﷺ کی محبت سے بھرنا چاہتا ہوں۔ یہ کتاب، یہ بارہ ابواب، اور یہ دس ہزار الفاظ—یہ سب میرے اس عزم کا ثبوت ہیں کہ میں نے اپنی زندگی کا مقصد پا لیا ہے۔ میری یہ تحریریں اب تاریخ کا حصہ ہیں۔ میں مر جاؤں گا، میری یہ انا ختم ہو جائے گی، مگر یہ نسبت، یہ محبت، اور یہ الفاظ قیامت تک زندہ رہیں گے۔ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اختتامی کلام: نسبتِ حضور ﷺ و تکمیلِ سفر
۔۔۔۔۔۔۔
انا کے بت گرا کر ہم، درِ اقدس پہ آئے ہیں
جو کھویا تھا سفر میں، یہاں سب کچھ پائے ہیں
۔۔۔۔
بارہواں باب ہے اور نسبتِ میلادِ احمد ﷺ ہے
اس سفر کے اختتام پر، نور ہی نور چھائے ہیں
۔۔۔۔
رضیؔ اب کوئی رنج نہیں، کوئی انا کا بوجھ نہیں
ہم غلامِ مصطفیٰ ﷺ بن کر، دنیا کو بھول آئے ہیں
۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حرفِ آخر: سفر کا اختتام اور عشق کی نئی مسافت
اس سفر کے بارہ ابواب مکمل ہوئے، مگر یہ اختتام نہیں، بلکہ ایک ایسی بیداری کی ابتدا ہے جس کا مجھے خود بھی بیس برس پہلے ادراک نہ تھا۔ میں نے انا کے بت توڑے، تاریخ کے اوراق سے سبق سیکھا، اور بالآخر خود کو میلادِ مصطفیٰ ﷺ کی نسبت میں فنا کیا۔ یہ کتاب، جو میرے وجود کا نچوڑ تھی، اب آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اگر اس سفر میں آپ نے میرے کسی لفظ میں اپنی کہانی دیکھی ہو، تو سمجھ لیجیے کہ ہم نے ایک دوسرے کی روح کو پا لیا ہے۔
اب جب کہ یہ کتاب بند ہونے کو ہے، تو دل ایک عجیب سی کیفیت میں ہے۔ وہ جو ایک خالی پن تھا، اب وہ ایک ایسے نور سے بھر گیا ہے جسے الفاظ میں قید کرنا ممکن نہیں۔ اب جو بچا ہے، وہ صرف "عشق" ہے۔ ایک ایسا عشق جو عقل کے تقاضوں سے ماورا ہے، جو دلیل سے نہیں، بلکہ وجدان سے ملتا ہے۔
ایک خاص دعا
"اے میرے رب! میرے اس قلم کو صرف اپنی رضا اور اپنے محبوب ﷺ کی محبت کے لیے وقف کر دے۔ اس تحریر کو ان تمام دلوں کے لیے شفا بنا دے جو انا کی الجھنوں میں قید ہیں۔ ہمیں وہ بصیرت عطا کر کہ ہم تاریخ کو صرف واقعات کے طور پر نہ پڑھیں، بلکہ اس میں اپنی زندگی کے سبق تلاش کریں۔ ہمیں وہ عاجزی عطا کر کہ ہم کسی بھی مقام پر پہنچ کر بھی اپنی اوقات نہ بھولیں، اور ہمیں اپنی ذات کے قید خانے سے نکال کر محبتِ مصطفیٰ ﷺ کی لامتناہی وسعتوں میں داخل فرما۔ آمین۔"
عشقِ عارفاں: ایک جھلک
اس سفر کے اختتام پر، میں نے محسوس کیا کہ اصل منزل تو ابھی باقی ہے۔ اگر آپ نے اس کتاب میں میرے "درد" کو پہچانا ہے، تو میری اگلی کتاب "عشقِ عارفاں" آپ کی منتظر ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
عشقِ عارفاں کوئی فلسفہ نہیں، یہ تو ایک وارداتِ قلبی ہے۔ جس طرح اس کتاب میں ہم نے 'انا' کو مٹانے کا سفر طے کیا، 'عشقِ عارفاں' میں ہم اس 'خلا' کو پر کریں گے جو انا کے مٹنے کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ جب آپ اپنی ذات کے سارے بت توڑ دیتے ہیں، تو پیچھے صرف 'وہ' بچتا ہے۔ عشقِ عارفاں اس 'وہ' کی تلاش کی داستان ہے۔ یہ ان لوگوں کا سفر ہے جنہوں نے کائنات کے رازوں کو کتابوں میں نہیں، بلکہ اپنے دل کی دھڑکنوں میں پایا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"اقتباس "عشق عارفاں 
(میثاقِ الست اور وسعتِ رحمتِ سرمدی)
میں اک ایسا وجودِ نیم بسمل ہوں جو ازل سے ادھورا ہے؛ ایسا تہی دست کہ جس کی تمثیل شجرِ حیات سے ٹوٹے ہوئے اس برگِ آوارہ کی سی ہے جو اپنی شاخِ بریدہ سے جدا ہو کر خاک کی آغوش میں جا گرا ہو۔ مگر اس پتے کی جبلت کا کمال تو دیکھیے کہ وہ خاک نشیں ہو کر بھی اپنی اصل سے جڑنے کی تڑپ میں ایک ایسا باطنی جوہر اور نمو پذیری کی قوت خارج کرتا ہے، جس کی برکت سے اسی مٹی کی کوکھ سے، اسی شجرِ قدیم کے سائے تلے اک نیا پودا قفسِ خاک سے سر ابھارتا ہے۔ میں اپنی مٹی کے حصار میں شکستہ اور ادھورا سہی، مگر اس مالکِ ازل و ابد کی رحمتِ بے پایاں سے مایوس نہیں۔ وہ صانعِ حقیقی، جس نے اپنے محبوبِ خاص، احمدِ مجتبیٰ ﷺ کے نورِ ازلی کو بارہ ہزار سال تک 'مقامِ حب' کے حجاباتِ نور میں متمکن رکھا، جہاں کائنات صرف محبت کی ابجد سیکھ رہی تھی۔
وہ کس قدر غفور و رحیم ذات ہے کہ جس نے جب ارواح کی بستی بسائی، تو خلقتِ آدم سے پہلے ہی تمام نفوس کو اپنے حضور یکجا کر کے اک میثاقِ ابدی کا عہد لیا: "کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں؟" (الست بربکم)۔ تب کائنات کے ذرے ذرے سے ارواحِ طیبہ نے وجد کے عالم میں پکارا تھا: "ہاں! کیوں نہیں، تو ہی ہمارا رب ہے!" (قالوا بلیٰ)۔ مگر ہائے رے المیہ! وہ اقرارِ صادق کرنے والی، وہ سجدہ گزیں روحیں جب اس مادی دنیا کے عالمِ ناسوت میں وارد ہوئیں، تو وہ ازلی رشتۂ الفت فراموش کر بیٹھیں؛ زمان و مکان کے حجاب حائل ہوئے، اور انسان اس مقصدِ جلیلہ کو بھول گیا جس کے لیے اسے اس تماشہ گاہِ گیتی میں بھیجا گیا تھا۔ وہ مجاز کے سرابوں، دنیا داروں کی کم نگاہ چوکھٹوں اور ابلیسِ لعین کے تانے بانوں میں الجھ کر جادۂ حق سے بھٹک گیا۔
لیکن اس قادرِ مطلق کی بندہ پروری کا اعجاز تو دیکھیے! بندہ جتنا بھی دوری کے صحراؤں میں بھاگے، وہ خالقِ ازل ہر شام اس کے عیبوں پر غفاری کا پردہ ڈال کر ندائے غیبی دیتا ہے کہ 'اے مادی ہجوم میں زخمی ہونے والے مسافر! لوٹ آ اپنے اس ربِ کریم کی طرف جو تیری مٹی ہونے تک تیرا منتظر ہے'۔ انسان پھر نادانی کرتا ہے، پھر گناہوں کے دلدل میں سر کے بل جا گرتا ہے، مگر وہ رحیم اپنی کتابِ مبین میں پھر محبت کی تپش سے پکارتا ہے: "اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس مت ہونا"۔ میں کن بے مایہ لفظوں، نحیف استعاروں اور تہی دست تراکیب سے لکھوں کہ وہ کتنا غفور ہے؟ یقیناً میرے حرفِ ہنر کا دامن چھوٹا پڑ جائے گا، مری بساطِ قلم الٹ جائے گی، مگر میں اس کی رحمتِ بے کراں کی وسعت کا اک قطرہ بھی احاطۂ تحریر میں نہیں لا سکتا۔ اس ابدی شفا پر صادقِ امین ﷺ کا فرمانِ ذیشان مہرِ تصدیق ثبت کرتا ہے، جس کا مفہوم ہے کہ 'اگر انسان سمندروں کی جھاگ کے برابر بھی عصیان و گناہ لے کر بارگاہِ الٰہی میں سرنگوں ہو جائے، تو وہ کریم اس کے نامۂ اعمال کو معافی کے نور سے دھو دیتا ہے'۔
اس الٰہی رحمت کی لامحدود وسعت کو رقم کرنے کے لیے اگر اس کائناتِ عالم کے تمام سیاروں، ستاروں، کہکشاؤں اور افلاکِ اعظم کو تحریر کی تختیاں بنا دیا جائے، کائنات کے تمام بحر و بر اور ہفتِ اقلیم کے سمندروں کو سیاہی میں ڈھال دیا جائے، اور دھرتی کے تمام اشجار کو قلموں میں تبدیل کر دیا جائے—تو یہ قلم گھس کر معدوم ہو جائیں گے، یہ بحرِ بے کراں خشک ہو جائیں گے، اور جہانوں کی تختیاں ختم ہو جائیں گی، لیکن اس رحیم و کریم کی رحمت پھر بھی دائرۂ بیان سے ماورا رہے گی۔ الغرض، وہ سب سے بڑا رحیم ہے، وہ وحدہٗ لاشریک ہے، وہ یکتا ہے، اور اس کا آستانہ ہی ہر ٹوٹے ہوئے پتے کا آخری مصلۂ شکر ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(الامان و الحفیظ)
طالب دعا 
محمد رضوان رضیؔ