The Bleeding Soul in Urdu Fiction Stories by Muhammad Rizwan Razzi books and stories PDF | نیم بسمل

Featured Books
Categories
Share

نیم بسمل

حرف آغاز 

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ


جب درخت سے آخری زرد پتّہ گرتا ہے، تو وہ زمین کا ماتم نہیں ہوتا بلکہ بہار کے ایک نئے عہد کا آغاز ہوتا ہے۔ ہم سب کی زندگیوں میں بھی کبھی نہ کبھی ایک ایسی خزاں آتی ہے جو ہمیں اندر سے جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ یہ صفحات کسی علم کا بلند بانگ دعویٰ نہیں ہیں، بلکہ ایک ایسے پرندے کی بکھری ہوئی اڑان ہے جس کے پر تو زخمی ہیں، مگر جس کی نظریں اب بھی آسمان کی وسعتوں پر ٹکی ہوئی ہیں۔ ہم نے اس کتاب میں اپنے دل کی خاموشیوں کو، روح کے سلگتے ہوئے چراغوں کو اور ان سچے جذبوں کو لفظوں کا روپ دیا ہے جن سے ہم اور آپ، دونوں گزرتے ہیں۔
ادب کی خوبصورتی یہی ہے کہ جب کوئی آپ کو تنہا چھوڑ جائے، تو مٹی کی پیاس کی طرح کوئی دوسرا دل آپ کے کرب کو محسوس کر سکے۔ ہمارا مقصد آپ کو الفاظ کی جادوگری دکھانا نہیں، بلکہ اداسی کے اس صحرا میں ایک ایسا سایہ دار شجر بننا ہے جہاں پہنچ کر آپ کو یہ احساس ہو کہ آپ اکیلے نہیں ہیں۔ جہاں کہانی اپنے گھائل پروں کو سمیٹے، وہاں آپ کی آنکھیں بھی نم ہوں، اور جہاں اندھیری رات کا آخری چراغ صبحِ نو کا پتہ دے، وہاں آپ کا دل بھی مسکرا اٹھے۔
ہم نے اپنے اندر کی اس ٹوٹی ہوئی لکیر کو، اپنی دعاؤں اور آہوں کو اپنے رب کے حضور ایک نذرانے کی صورت میں رکھ دیا ہے۔ اگر ان سطروں کی تپش سے کسی ایک بھی اداس دل کے زخم کو مرہم مل جائے، یا کسی بجھتے ہوئے چراغ کو امید کی نئی لو مل جائے، تو ہم سمجھیں گے کہ مٹی کے اس ڈھیر کی یہ حقیر سی کوشش قبول ہو گئی۔
آئیے، اس استعاراتی سفر کا آغاز کرتے ہیں... جہاں ہم سب "نیم بسمل" تو ہیں، مگر ہماری پرواز ابھی باقی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خاکسار 
محمد رضوان رضی 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
      باب اول 
(زرد پتوں کی چاپ)
انسان کی زندگی میں کچھ لوگ مثلِ بہار ہوتے ہیں۔ ایسے وجود جو جب ویران راستوں پر قدم رکھتے ہیں، تو صرف پھول ہی نہیں کھلاتے بلکہ مرجھائے ہوئے دلوں میں امید کے چراغ بھی روشن کر دیتے ہیں۔ ان کے آنے سے اداس شاموں کے سلیٹی کینوس پر اچانک رنگ اتر آتے ہیں، خاموش فضاؤں میں محبت کی خوشبو بولنے لگتی ہے، اور ہر سو زندگی ایک نئے ترانے میں گنگنانے لگتی ہے۔
ہم اکثر سوچتے ہیں کہ اگر ایسے مخلص لوگ کوئی موسم ہوتے، تو یقیناً بہار ہوتے۔ ایک ایسی بہار جس کے لمس سے وقت کی شاخ پر لگی ہر کلی مسکرا اٹھے، جس کی آہٹ پر روح جھومنے لگے، اور پرندے اس کے استقبال میں زندگی کی سب سے سریلی دھن چھیڑ دیں۔ ان کی ہنسی شبنم کے قطروں کی مانند نرم، ان کی باتیں تپتی دوپہر میں ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں جیسی دل آویز، اور ان کی نگاہیں مایوسی کے اندھیروں میں صبح کی پہلی کرن کی طرح روشن ہوتی ہیں۔
معاشرے کی تلخیوں سے تھکے ہوئے انسان جب ایسے مخلص وجود کے سائے میں بیٹھتے ہیں، تو خزاں اپنے زرد لباس اتار دیتی ہے۔ سوکھے ہوئے خوابوں کے شجر نئی کونپلوں سے سج جاتے ہیں، ویران راستے مانوس سے لگنے لگتے ہیں، اور ٹوٹے ہوئے دل ایک بار پھر جینے کی تمنا کرنے لگتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی موجودگی میں وقت بھی شاید کچھ دیر کو ٹھهر جاتا ہے، تاکہ ہر لمحہ اس خوبصورت احساس کا جشن منا سکے۔
مگر سچ تو یہ ہے کہ ایسے نایاب لوگ صرف بہار نہیں ہوتے، بلکہ وہ بہار کی روح ہوتے ہیں۔ ان کی مسکراہٹ میں گلاب کی لطافت، ان کی خاموشی میں چاندنی کا سکون، اور ان کے وجود میں فطرت کی سب سے حسین سچائی کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ اگر محبت کو کوئی رنگ دیا جا سکتا، تو وہ ان مخلص چہروں کی روشنی ہوتا۔ اگر دعا کو کوئی خوشبو ملتی، تو وہ ان کے وجود کے خلوص سے مہکتی۔
دنیا کا ایک پرانا دستور ہے، لوگ کہتے ہیں:
"مل جائے تو مٹی، نہ ملے تو سونا۔"
لیکن کچھ دل اور کچھ محبتیں دنیا کے ان سستے اور روایتی محاوروں کی پابند نہیں ہوتیں۔ سچا خلوص تو وہ ہے جو کسی مخلص انسان کو پا لینے کے بعد وقت کے ساتھ اور گہرا ہوتا چلا جائے، مٹی نہ بنے۔ ہمارا ماننا یہ ہے کہ زندگی کے سفر میں جب بھی آپ کو ایسے بہار جیسے لوگ میسر آئیں، انہیں سنبھال کر رکھیے۔ انہیں اپنی انا، اپنی غفلت یا معاشرتی سرد مہروں کی نذر مت ہونے دیجیے، کیونکہ بہاریں تو چند دنوں کی مہمان ہوتی ہیں، لیکن ایسے سچے لوگوں کا خلوص ہر موسم میں روح کو مہکاتا رہتا ہے۔
مگر اس حقیقت سے کیسے انکار کیا جائے کہ اس دنیا میں ہر کوئی رشتوں کی اس پاکیزگی کو نہیں سمجھ پاتا۔ کوئی اگر یہ سمجھے کہ ہمیں رشتوں کی قدر نہیں، تو یہ سوچنا بھی ناانصافی ہوگی۔ رشتوں کی قدر ہم سے زیادہ کون سمجھے گا، جنہوں نے ہمیشہ ہر تعلق کو اپنی دعا کے سائے میں رکھا اور خلوص کی آبیاری کی۔
اصل بات تو یہ ہے کہ لوگوں نے ہمیں کھو دیا۔ ہمارا وہ مخلص دل، جو ہمیشہ ان کے لیے محبت سے بھرے ایک لمس جیسا تھا، اسے انہوں نے اپنے ہی ہاتھوں سے چکنا چور کر دیا۔ جس خلوص کو زندگی کی سب سے بڑی سچائی بنا کر سنبھالنا چاہیے تھا، اسے سامنے والوں نے اپنی غفلتوں، انا اور ذاتی دشمنیوں کی نذر کر دیا۔
نقصان ہمارا نہیں ہوا، نقصان تو ان کا ہوا ہے جنہوں نے اپنے ہاتھوں سے اپنے آنگن کی بہار کو رخصت کر دیا۔ کیونکہ دنیا میں ہر چیز کا نعم البدل مل سکتا ہے، لیکن ایک بار ٹوٹ جانے والا مخلص دل اور مخلص انسان دوبارہ میسر نہیں آتے۔ ہم تو آج بھی اپنی سچائی کے ساتھ ایک شجرِ قدیم کی طرح وہیں کھڑے ہیں، مگر انہوں نے اپنی غفلت سے اپنے ہی راستوں پر خزاں کے زرد پتوں کی چاپ بکھیر دی ہے۔
جب کوئی آپ کا مخلص دل توڑ کر آگے بڑھ جاتا ہے، تو وہ صرف ایک انسان کو نہیں کھوتا، بلکہ وہ اپنی زندگی سے اس سچی خیرخواہی کو منہا کر دیتا ہے جو کسی بازار میں نہیں بکتی۔ رات کے آخری پہر، جب دنیا گہری نیند کے حصار میں ہوتی ہے، تب ہماری تنہائی ہم سے سوال کرتی ہے کہ آخر خلوص کی اس بستی میں اتنی سرد مہر کیوں ہے؟ ہم نے تو کبھی کسی کے آنگن میں کانٹے بکھیرنے کا سوچا بھی نہ تھا، پھر ہمارے ہی حصے میں یہ ٹوٹی ہوئی لکیریں کیوں آئیں؟
دنیا کی نظر میں شاید وہ لوگ بہت کامیاب اور خوش نظر آتے ہوں گے جنہوں نے اپنے مفادات اور ذاتی دشمنیوں کی خاطر ایک سچے تعلق کا گلا گھونٹ دیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ضمیر کی عدالت سے کوئی بھی فرار حاصل نہیں کر سکتا۔ وقت جب اپنے پتے پلٹتا ہے، تو انسان کو احساس ہوتا ہے کہ مٹی کے کھلونوں کی خاطر اس نے ایک نایاب ہیرا گنوا دیا ہے۔
ہم کھڑکی سے باہر چاند کی دھیمی روشنی کو دیکھتے ہیں تو لگتا ہے جیسے وہ بھی کسی ادھورے خواب کی طرح آسمان کے ایک کونے میں سسک رہا ہو۔ یہ جو دل کے اندر ایک ٹیس سی اٹھتی ہے، یہ کسی انتقام یا بدلی ہوئی نیت کا نام نہیں ہے؛ یہ تو بس اس خلوص کا نوحہ ہے جسے مٹی میں رول دیا گیا۔ لیکن ہم نے اب اس اداسی کو اپنے وجود پر طاری کر کے خود کو ختم نہیں کرنا۔
اگر سامنے والوں نے اپنی غفلت سے ہمیں 'نیم بسمل' کر بھی دیا ہے، تو ہمیں یہ یاد رکھنا ہے کہ ابھی سانسوں کی ڈور ٹوٹی نہیں ہے۔ یہ زخم، یہ تنہائی اور یہ زرد پتوں کی چاپ دراصل ایک بلاوا ہے—اس ذاتِ باری تعالیٰ کی طرف جو ٹوٹے ہوئے دلوں میں ہی رہتی ہے۔ ہم اپنے اس کرب کو، اپنی اس تنہائی کو اب ایک ایسی طاقت میں بدلیں گے جو قاری کو صرف اداس نہیں کرے گی، بلکہ اسے یہ سکھائے گی کہ جب دنیا آپ کا مخلص دل توڑ دے، تب اپنے رب کے حضور کیسے مسکرا کر کھڑے ہونا ہے۔
خزاں کا یہ پہلا پڑاؤ ہمیں بہت کچھ سکھا گیا ہے۔ راستے اگرچہ دھندلے ہیں اور دل زخمی، مگر ہماری پرواز کا یہ تو بس پہلا باب ہے۔ ابھی سفر باقی ہے، اور امید کا وہ آخری چراغ بھی کہیں نہ کہیں جل رہا ہے جو اس اندھیری رات کو شکست دے کر رہے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

باب دوئم 

(کانچ کے ٹکڑے)


زندگی کے اس سفر میں ہم اکثر ایسے موڑ پر آ کر ٹھہر جاتے ہیں جہاں ہمارے چاروں طرف رشتوں اور تعلقات کے خوبصورت دائرے بنے ہوتے ہیں۔ یہ دائرے دور سے دیکھنے میں بہت چمکدار، بہت دلکش اور محفوظ لگتے ہیں، بالکل کانچ کے بنے ہوئے ظروف کی طرح۔ لیکن المیہ تب شروع ہوتا ہے جب آپ کو یہ احساس ہو کہ یہ چمک خلوص کی نہیں، بلکہ منافقت کی ہے۔ یہ وہ دائرے ہیں جن میں رہ کر آپ سانس تو لے سکتے ہیں، مگر اپنی روح کو آزاد نہیں چھوڑ سکتے۔
معاشرے کا سب سے بڑا تضاد یہی ہے کہ یہاں لوگ آپ کے خلوص کی ترازو میں آپ کے فائدے تولتے ہیں۔ جب تک آپ ان کے معیار پر پورا اترتے رہیں، جب تک آپ کا مخلص دل ان کی غفلتوں اور انا کی تسکین کرتا رہے، آپ سے بہتر کوئی نہیں ہوتا۔ مگر جیسے ہی آپ اپنی ذات کی حرمت کا سوال اٹھاتے ہیں، یا جیسے ہی وہ آپ کے وجود سے اپنا کوئی مفاد حاصل کرنے میں ناکام ہوتے ہیں، وہی چمکدار دائرے ٹوٹ کر کرچیاں بن جاتے ہیں۔
ہم نے اکثر سوچا کہ رشتوں کا بدلنا کوئی وقتی حادثہ ہوتا ہوگا، مگر وقت نے سکھایا کہ یہ تو اس معاشرے کا مستقل مزاج ہے۔ لوگ چہروں پر خلوص کے نقاب اوڑھ کر ملتے ہیں، ان کی دھیمی باتوں میں شہد جیسی مٹھاس ہوتی ہے، مگر ان کے اندر ذاتی دشمنیوں اور حسد کے انگارے سلگ رہے ہوتے ہیں۔ ایک مخلص انسان کے لیے اس سے بڑا کرب کوئی نہیں ہو سکتا کہ وہ جس ہاتھ کو محبت سے تھامے، وہی ہاتھ بعد میں اس کے دل پر وار کرنے کے لیے اٹھ جائے۔
جب یہ کانچ کے دائرے ٹوٹتے ہیں، تو ان کی آواز باہر کی دنیا کو سنائی نہیں دیتی۔ یہ تو اندر کا ایک سناٹا ہوتا ہے جو انسان کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ آپ دنیا کی اس بھیڑ میں خود کو بالکل تنہا پاتے ہیں، بالکل اس مسافر کی طرح جو تپتے ہوئے صحرا میں سراب کے پیچھے بھاگتا رہا ہو اور آخر میں اس کے حصے میں صرف ریت کی تپش آئی ہو۔
لیکن ان ٹوٹتی ہوئی کرچیوں کے بیچ بھی، ایک نیم بسمل دل کا اصل امتحان یہی ہوتا ہے کہ وہ ان کانچ کے ٹکڑوں کو دوسروں کے راستوں میں نہیں بکھیرتا۔ ہم نے سیکھا ہے کہ اگر سامنے والے اپنی غفلتوں سے ہمارے خلوص کو چکنا چور کر بھی دیں، تو ہمیں اپنے دامن کو ان کی نفرت سے آلودہ نہیں کرنا۔ یہ کانچ کے دائرے عارضی تھے، اور ان کا ٹوٹنا دراصل اس بات کا اشارہ ہے کہ اب ہمیں کسی حقیقی اور مضبوط رشتے کی تلاش کرنی چاہیے—ایک ایسا رشتہ جو مٹی یا کانچ کا نہیں، بلکہ روح کا ہو۔

جب یہ چمکدار دائرے ٹوٹ کر بکھر جاتے ہیں، تو ان کے ملبے پر کھڑا انسان اپنی ہی تنہائی کے قید خانے میں ایسے سوالات کے روبرو ہوتا ہے جن کا کوئی جواب بظاہر دکھائی نہیں دیتا۔ رات کی خاموشی میں جب روح اپنے زخموں کو ٹٹولتی ہے، تو دل بار بار یہ سوال کرتا ہے کہ آخر اس مخلص پن کی سزا اتنی کڑی کیوں ہے؟ ہم نے تو ہمیشہ دوسروں کے آنگن کو ہرا بھرا دیکھنے کی دعا کی تھی، پھر ہمارے اپنے حصے میں یہ خشک اور زرد پتے کیوں آئے؟ تنہائی کے یہ سوالات کوئی عام سوال نہیں ہوتے، یہ اس درد کی پکار ہوتے ہیں جو اندر ہی اندر انسان کو پگھلاتا ہے۔
مگر اس کرب کا سب سے تلخ پہلو ان رشتوں کی بے پرواہی ہے۔ جن لوگوں کے لیے ہم نے اپنے دل کا خون بہایا، جنہیں اپنی انا اور غفلتوں کی قربانی دے کر سنبھالا، وہ آپ کو تڑپتا چھوڑ کر یوں آگے بڑھ جاتے ہیں جیسے ہمارا وجود ان کی زندگی میں کبھی تھا ہی نہیں۔ ان کی یہ بے نیازی اور سرد مہر دل پر کسی خنجر کی طرح لگتی ہے۔ وہ یہ دیکھ ہی نہیں پاتے—یا شاید دیکھنا ہی نہیں چاہتے—کہ ایک مخلص انسان کو کھو کر انہوں نے اپنے وجود کا کتنا بڑا نقصان کر لیا ہے۔ وہ اپنی مادی دنیا اور جھوٹی انا کے نشے میں اتنے مست ہوتے ہیں کہ انہیں کسی کے ٹوٹنے کی آواز تک سنائی نہیں دیتی۔
اس اندھیرے سے نکلنے کی تلاش میں، ایک سچے راستے کی جستجو میں، انسان ایک دفعہ نہیں بلکہ کئی ہزار دفعہ ٹھوکریں کھاتا ہے۔ ہر ٹھوکر پر لگتا ہے کہ شاید اب اٹھنے کی سکت نہیں رہی، ہر موڑ پر کوئی نیا کانچ کا دائرہ زخم دینے کے لیے تیار ملتا ہے۔ لیکن یہ ٹھوکریں مقدر کا لکھا نہیں، بلکہ اس راستے کی آزمائش ہیں جو ہر کسی کے حصے میں نہیں آتی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہم جیسے حساس لوگ اس بے حس دنیا میں بہت کم ہوتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو شیشے کی طرح صاف دل رکھتے ہیں، مگر دنیا ان کی نفاست کو سمجھنے سے قاصر رہتی ہے۔
اور ایسے حساس لوگوں کا ایک مزاج یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنے احوال کبھی دوسروں پر ظاہر نہیں ہونے دیتے۔ ان کے اندر چاہے کتنا ہی بڑا طوفان کیوں نہ برپا ہو، وہ دنیا کے سامنے اپنی مسکراہٹ کا بھرم قائم رکھتے ہیں۔ وہ اپنے زخموں کی نمائش نہیں کرتے، نہ ہی کسی سے ہمدردی کی بھیک مانگتے ہیں۔ وہ تنہائی پسند ہو جاتے ہیں۔ وہ دنیا کی اس شور مچاتی، خود غرض اور مطلب پرست بھیڑ سے دور، خاموشی کے کسی کونے میں اپنی ہی ایک الگ دنیا بنا لیتے ہیں اور اسی میں مست رہتے ہیں۔ ان کا یہ بھیڑ سے دور ہو جانا کوئی کمزوری نہیں، بلکہ اپنی ذات کی حرمت کو بچانے کا آخری طریقہ ہوتا ہے۔
یہ کانچ کے دائرے اگرچہ ٹوٹ چکے ہیں اور ان کی کرچیاں پیروں کو زخمی کر رہی ہیں، مگر یہی تنہائی پسند اور حساس دل جانتا ہے کہ ان ہزاروں ٹھوکروں کے بعد ہی وہ مضبوطی آتی ہے جو انسان کو مٹی سے کندن بنا دیتی ہے۔
اور اس سارے کرب کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم خود بھی کبھی کسی کے سامنے یہ تشریح (Explain) کر ہی نہیں پاتے۔ ہمارے اندر جذبات کا کتنا بڑا سمندر موجزن ہے، روح میں درد کے کتنے گہرے تلاطم ہیں، اور رشتوں کے لیے ہمارے دل میں کتنی بے پناہ وسعت ہے—یہ سب لفظوں کے سانچے میں ڈھلنے سے قاصر رہتا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ جو ہمارا سب سے عزیز ہو، جو ہمارا اپنا چاہنے والا ہو، ہم اسے بھی کبھی لفظوں میں یہ نہیں بتا پاتے کہ وہ ہماری زندگی میں کتنا اہم ہے اور اس کا وجود ہمارے لیے کیا معنی رکھتا ہے۔
یہ ایک ایسی بے بسی ہے جو انسان کو اندر ہی اندر خاموش کر دیتی ہے۔ الفاظ اتنے چھوٹے اور حقیر لگنے لگتے ہیں کہ دل کے ان گہرے اور پاکیزہ جذبوں کا وزن اٹھا ہی نہیں پاتے۔ چنانچہ، بات پھر وہیں آ کر رک جاتی ہے کہ ایک حساس انسان اپنی اس بے زباں محبت اور ان کہے درد کو سمیٹے، تنہائی کی اوٹ میں دبک جاتا ہے۔ وہ چپ چاپ ان کانچ کے دائروں کو ٹوٹتا دیکھتا ہے، اس امید پر کہ کوئی تو ہوگا جو اس کی زبان سے نکلے الفاظ کو نہیں، بلکہ اس کی خاموشی کے پیچھے چھپے اس بے پناہ خلوص اور اہمیت کو پڑھ سکے گا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

باب سوئم 

(سلگتی خاموشی)


ایک وقت ایسا آتا ہے جب انسان رشتوں کی منافقت پر حیران ہونا بھی چھوڑ دیتا ہے۔ جب سامنے والوں کی غفلتیں، ان کی ذاتی دشمنیاں اور ان کی بے پرواہی حد سے بڑھ جائے، تو مخلص دل تھک کر ایک گہرے غار میں پناہ لے لیتا ہے۔ اس غار کو ہم "خامُوشی" کہتے ہیں۔ مگر یہ خاموشی کوئی عام چپ نہیں ہوتی؛ یہ ایک سلگتی ہوئی خاموشی ہوتی ہے، جس کے اندر جذبات کا ایک پورا سمندر تڑپ رہا ہوتا ہے، لیکن باہر کی دنیا کے لیے وہاں صرف ایک ہو کا عالم ہوتا ہے۔
ہم اکثر سوچتے ہیں کہ انسان کب بولنا بند کرتا ہے؟ انسان تب نہیں روٹھتا جب وہ ناراض ہو، بلکہ وہ تب بالکل خاموش ہو جاتا ہے جب اس کے اندر یہ یقین پختہ ہو جائے کہ اب اس کے لفظ، اس کی محبت اور اس کی تڑپ سامنے والے کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتے۔ جب آپ اپنے سب سے پیارے انسان کو بھی یہ سمجھانے میں ناکام ہو جائیں کہ وہ آپ کے لیے کتنا اہم ہے، اور جب آپ کی ہزاروں سچی وضاحتیں ان کی انا کی دیوار سے ٹکرا کر واپس آ جائیں، تو پھر لبوں کو سی لینا ہی واحد راستہ بچتا ہے۔
یہ سلگتی خاموشی ایک حساس انسان کا آخری بھرم ہوتی ہے۔ دنیا سمجھتی ہے کہ شاید یہ اس کی ہار ہے، یا شاید اس کے پاس اب کہنے کو کچھ باقی نہیں رہا۔ مگر کوئی یہ نہیں جان پاتا کہ اس چپ کے پیچھے درد کا کتنا بڑا نوحہ چھپا ہوا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ہم دنیا کی اس مطلب پرست بھیڑ سے دور، اپنے ہی وجود کے ایک اندھیرے کونے میں بیٹھ کر اپنے خوابوں کی تدفین کرتے ہیں۔ ہم کسی سے گلہ نہیں کرتے، کسی پر الزام نہیں دھرتے، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ جو دل خلوص کی زبان نہ پڑھ سکا، وہ الفاظ کے طومار کیا سمجھے گا۔
سلگتے ہوئے کوئلے کی طرح یہ خاموشی اندر ہی اندر روح کو پگھلاتی رہتی ہے۔ رات کے سناٹے میں جب یہ چپ اور گہری ہوتی ہے، تو کمرے کی دیواریں بھی چِلّا اٹھتی ہیں، مگر ایک حساس دل اپنی انا اور اپنی ذات کی حرمت کا پاس رکھتے ہوئے اس تپش کو چپ چاپ برداشت کرتا ہے۔ ہم نے سیکھا ہے کہ اپنے درد کو تماشہ بنانے سے بہتر ہے کہ اسے اپنے رب کے حضور ایک خاموش دعا بنا کر پیش کر دیا جائے۔ یہ خاموشی دنیا کے لیے ایک پہیلی ہو سکتی ہے، لیکن ہمارے رب کے لیے یہ ہماری روح کا وہ نذرانہ ہے جو وہ بن کہے بھی پوری طرح سنتا اور سمجھتا ہے—اور یہی ایک نیم بسمل دل کا اصل سکون ہے۔
اس سلگتی خاموشی کے دوران، جب انسان دنیا کے شور سے کٹ کر فطرت کے قریب ہوتا ہے، تو کائنات اسے کچھ ایسے حقائق سکھاتی ہے جو عام حالات میں دکھائی نہیں دیتے۔ ہم نے اکثر دیکھا ہے کہ جانوروں یا پرندوں کا کسی کے قریب آ کر پرسکون ہو جانا، اس بات کی گواہی ہے کہ آپ کے باطن میں ایک ایسی نرمی ہے جو بے زبانوں کو بھی پکارتی ہے۔ وہ آپ کو پتھر نہیں، بلکہ ایک ایسی پناہ گاہ سمجھتے ہیں جہاں ان کی جان محفوظ ہے۔ یہ ایک ایسا فخر ہے جو انسان کو اپنی انسانیت پر ناز کرنے کا حق دیتا ہے۔
مگر اسی تنہائی میں جب ہم مڑ کر معاشرے اور رشتوں کے رویوں پر غور کرتے ہیں، تو ایک گہرا تضاد کھل کر سامنے آتا ہے۔ جب کوئی ذی روح انسان آپ کی رفاقت میں خود کو سونپ دیتا ہے، آپ کے سامنے بے فکر ہو جاتا ہے اور آپ کے وجود کو اپنی پناہ سمجھ لیتا ہے، تو یہ صرف مان نہیں، ایک بہت بڑی امانت ہے۔ یہ مان، محبت کی سب سے قیمتی قیمت مانگتا ہے: خود کو بھول کر دوسرے کی حفاظت کرنا۔
لیکن اس بے حس دنیا نے اس امانت کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ کبھی سوچا ہے کہ لوگ اس مان کے بدلے میں کیا دیتے ہیں؟ کیا وہ اپنی انا کو پتھر بنا کر سامنے والے کے خوف کو دور کرتے ہیں، یا اپنی کوتاہیوں اور غفلتوں سے اُس مان کو ریت کی طرح بکھرنے دیتے ہیں؟ یہی وہ تلخ سوال ہے جو ہماری خاموشی کو اندر ہی اندر سلگاتا ہے۔ یاد رکھیں، جانور تو صرف ڈرتا ہے اور اڑ جاتا ہے، لیکن انسان جب مانوس ہو کر ٹوٹتا ہے، تو وہ منظر قیامت خیز ہوتا ہے۔ کسی کا اعتماد پا لینا تو بہت سہل ہے، مگر اُس اعتماد کی لاج رکھنا ہی عشق اور خلوص کا اصل امتحان ہے۔
افسوس کہ جنہیں ہم نے اپنی پناہ گاہ سمجھا، انہوں نے اسی امتحان میں غفلت دکھائی۔ انہوں نے ہمارے اس مانوس دل کو اتنی بے رحمی سے توڑا کہ اب لبوں پر چپ کے قفل لگ چکے ہیں۔ یہ سلگتی خاموشی دراصل اسی ٹوٹے ہوئے مان کا مرثیہ ہے، جو اب کسی انسان سے گلہ نہیں کرتی، بلکہ خاموشی سے اس امانت کو اپنے رب کے سپرد کرتی ہے جس نے مخلص دلوں کو پیدا کیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

باب چہارم 

(نیم جاں۔نیم بسمل)


جب زندگی میں آزمائشیں اور اپنوں کی بے پرواہی حد سے گزر جائے، تو انسان کا وجود ایک ایسے مقام پر آ کھڑا ہوتا ہے جہاں نہ جینا راس آتا ہے اور نہ ہی مٹ جانے کا کوئی راستہ ملتا ہے۔ اسی کیفیت کا نام "نیم جاں، نیم بسمل" ہے۔ یہ وہ حالت ہے جہاں روح پر لگے زخم نظر تو نہیں آتے، لیکن ان کی تپش پورے باطن کو جھلسا کر رکھ دیتی ہے۔ انسان روز صبح اٹھتا ہے، مسکراتا ہے، اور دنیا کے سامنے ایک مکمل انسان ہونے کا ڈھونگ رچاتا ہے، مگر اندر سے وہ اس پرندے کی مانند ہوتا ہے جس کے پر کاٹ دیے گئے ہوں اور اسے کھلے آسمان کے نیچے چھوڑ دیا گیا ہو۔
ہم نے اکثر سوچا کہ آخر درد کی آخری حد کیا ہوتی ہے؟ درد کی آخری حد یہ نہیں ہے کہ آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلیں یا آپ دنیا کے سامنے اپنے دکھوں کا واویلا مچائیں۔ سچا کرب تو وہ ہے جب آپ کے آنسو اندر ہی اندر جم جائیں، اور آپ کا مخلص دل—جسے کبھی محبت کا ایک لمس سمجھا جاتا تھا—اب ایک بوجھ بن جائے۔ جب سامنے والے آپ کے خلوص کو اپنی انا کی قربان گاہ پر ذبح کر دیں، تو پیچھے جو وجود بچتا ہے، وہ بس ایک نیم بسمل ذات ہوتی ہے۔ یہ وہ ذبح شدہ پرندہ ہے جو تڑپ تو رہا ہے، مگر اس کی تڑپ پر تالیاں بجانے والی دنیا اس کے زخموں سے بالکل بے خبر ہے۔
معاشرے کی اس سنگدلی کا سب سے بڑا تماشا یہ ہے کہ لوگ آپ کو زخمی بھی خود کرتے ہیں اور پھر آپ سے یہ توقع بھی رکھتے ہیں کہ آپ کے لبوں سے اف تک نہ نکلے۔ ہم نے جن رشتوں کو اپنی پناہ گاہ سمجھا، جن کے سامنے اپنے باطن کی تمام نرمی لا کر رکھ دی، انہوں نے ہی ہمارے اس مان کو ریت کے گھروندے کی طرح بکھیر دیا۔ کسی ذی روح انسان کا خلوص پا کر اسے یوں غفلت کی نذر کر دینا، عشق اور انسانیت کی تاریخ کا سب سے بڑا جرم ہے۔ لیکن اس نیم جانی کے عالم میں بھی، ہم نے اپنے ظرف کو گرنے نہیں دیا۔ ہم ٹوٹے ضرور ہیں، مگر ہم نے اپنے زخموں کی نمائش بازاروں میں نہیں لگائی۔
یہ نیم بسمل ہونا، یہ اداسی کا آخری پڑاؤ دراصل ایک خاموش انقلاب کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔ مٹی کا یہ ڈھیر جب اپنی حدوں سے زیادہ پامال ہو جائے، تو اسے سمجھ آ جاتی ہے کہ اب دنیا کے کانچ کے دائروں سے امید لگانا فضول ہے۔ یہ درد، یہ تنہائی اب ہمیں کسی انسان کے شکوے کی طرف نہیں لے جاتی، بلکہ یہ ہمارے قدموں کو سجدے کی اس مٹی کی طرف موڑ دیتی ہے جہاں ہر زخمی روح کو شفا ملتی ہے۔ ہم نیم جاں سہی، مگر ہمیں یقین ہے کہ جس رب نے اس مخلص دل کو ٹوٹنے کی مہلت دی ہے، وہی اس میں امید کی ایک نئی جان بھی پھونکے گا۔
اس نیم بسمل کیفیت کی سب سے بڑی المیہ یہ ہے کہ دنیا آپ کو باہر سے ایک عام، چلتا پھرتا اور جیتا جاگتا انسان سمجھتی ہے، لیکن کوئی یہ نہیں جان پاتا کہ آپ کے اندر ایک پورا انسان مر چکا ہے۔ انسان جب ٹوٹ کر بکھرتا ہے تو وہ دنیا سے کٹ کر ایک ایسی لاتعلقی کی وادی میں جا گرتا ہے جہاں خوشی اور غم کے احساسات اپنے معنی کھو دیتے ہیں۔ جب کسی کا مخلص دل بار بار بے قدری اور غفلتوں کی سُولی پر چڑھایا جائے، تو دل کے اندر جذبوں کا پھوٹنا بند ہو جاتا ہے۔ پھر نہ تو کسی کے آنے کی خوشی ہوتی ہے اور نہ ہی کسی کے چلے جانے کا ملال۔
ہم نے خود کو ایک ایسی خاموش اوٹ میں سمیٹ لیا ہے جہاں دنیا کا کوئی طعنہ، کوئی بے پرواہی اور کوئی بدگمانی اب اثر نہیں کرتی۔ جب انسان ہزاروں ٹھوکریں کھا کر یہ جان لیتا ہے کہ دنیا کے چمکدار اور کانچ کے دائرے صرف زخم دینے کے لیے ہوتے ہیں، تو وہ اس بھیڑ سے ہمیشہ کے لیے اپنا ہاتھ چھڑا لیتا ہے۔ یہ بھیڑ سے لاتعلقی کوئی تکبر نہیں، بلکہ اپنی روح کی آخری بقا کی جنگ ہے۔ حساس لوگ جب اپنی ذات کی حدود قائم کر لیتے ہیں، تو وہ کسی پر اپنے حالات واضح کرنے کی کوشش بھی چھوڑ دیتے ہیں۔
مگر اس بے حسی اور سناٹے کے اندر بھی ایک ایسا موڑ آتا ہے جہاں روح کا رابطہ اپنے خالق سے قائم ہوتا ہے۔ جب دنیا کی تمام پناہ گاہیں، تمام جھوٹے دلاسے اور تمام محاورے ریت کا ڈھیر ثابت ہوں، تو انسان سجدے کی مٹی میں اپنا سر رکھ کر رو پڑتا ہے۔ رب کے حضور گرنے والا وہ ایک آنسو، اس نیم بسمل ذات کے لیے شفا بن جاتا ہے۔ وہاں نہ کوئی تشریح کرنی پڑتی ہے، نہ اپنے خلوص کی صفائیاں دینی پڑتی ہیں، اور نہ ہی اپنی اہمیت بتانے کے لیے الفاظ ڈھونڈنے پڑتے ہیں۔ وہ ذات بن کہے بھی دل کا حال جانتی ہے اور وہ ٹوٹے ہوئے مان کو دوبارہ جوڑنا بھی جانتی ہے۔
یہ چوتھا باب دراصل ہماری زندگی کے اس پہلے مرحلے کی تکمیل ہے جہاں ہم نے ٹوٹنے کے عمل کو، اس کے پورے کرب کے ساتھ جی لیا ہے۔ خزاں نے اپنا کام کر دیا، زرد پتے بکھر گئے، اور دل نیم بسمل ہو گیا۔ لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ مٹی کا یہ ڈھیر جتنا بھی زخمی ہو، اس کے اندر رب کی رحمت پر یقین کی وہ جوت ابھی بجھی نہیں ہے جو اسے ایک بار پھر جی اٹھنے کا حوصلہ دے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

باب پنجم 
 ( ضبط فغاں )


جب انسان "نیم بسمل" ہو جائے اور دکھ کی تپش روح کو جھلسا ڈالے، تو اس کے پاس دو راستے ہوتے ہیں: یا تو وہ اپنے زخموں کا ڈھنڈورا پیٹ کر دنیا سے ہمدردی کی بھیک مانگے، یا پھر اپنی آہوں اور نالوں کو ضبط کے غلاف میں لپیٹ کر خاموشی کا سنگھار کر لے۔ باکردار اور حساس لوگ ہمیشہ دوسرے راستے کا انتخاب کرتے ہیں۔ اسی کیفیت کا نام "ضبطِ فغاں" ہے—یعنی اپنی آہ کو لبوں تک آنے سے پہلے ہی دل کے نہاں خانے میں پی جانا۔
تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی سچے اور مخلص انسانوں پر دنیا نے غفلت، بے وفائی اور ظلم کے پہاڑ توڑے، تو
ان کا سب سے بڑا ہتھیار شور مچانا نہیں بلکہ
ان کا ضبط بنا۔ حضرت ایوب علیہ السلام کے صبر کا عظیم اور برحق واقعہ یاد کیجیے؛ جب ان کا مال، اولاد اور صحت سب کچھ رخصت ہو گیا اور دنیا نے انہیں تنہا چھوڑ دیا، تو انہوں نے کبھی مخلوق سے شکوہ نہیں کیا۔ ان کا ضبط ایسا تھا کہ انہوں نے اپنی آہ کو بھی دعا کا پیرایہ دے دیا اور نہایت وقار کے ساتھ رب کی رضا کے سامنے سرِ تسلیمِ خم کر دیا۔
اسی طرح، جب ہم کربلا کے صحرا سے شام کے بازاروں اور درباروں تک کے تاریخی و روحانی سفر کو دیکھتے ہیں، تو وہاں ہمیں صبر، تسلیم اور رضا کی وہ بلند ترین معراج نظر آتی ہے جس کی مثال کائنات میں نہیں ملتی۔ تمام اپنوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے قربان ہوتے دیکھنے کے بعد، جب حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے وجود پر صدمات اور مصائب کا پہاڑ ٹوٹا، تو آپ کا مقامِ ضبط اور رضا اتنا آفاقی تھا کہ تاریخ آج بھی اس عظمت کے سامنے سرنگوں ہے۔
اگر ہم جیسے کسی بے صبرے اور کم ظرف انسان پر ان آزمائشوں کا ایک ذرہ بھی گزرتا، تو وہ نالہ و شیون سے آسمان سر پر اٹھا لیتا یا زمین و آسمان کو ہلا کر رکھ دیتا۔ مگر ان مقدس ہستیوں نے اپنے صبر، شکر اور ضبط کی ایسی بلند اور باوقار مثال قائم کی کہ ظالموں کی انا اور غرور ہمیشہ کے لیے خاک میں مل گیا۔
یہ سچے اور پاکیزہ واقعات ہمیں سکھاتے ہیں کہ اپنے غم کو رب کی رضا کے لیے ضبط کرنا کوئی بزدلی نہیں، بلکہ روح کی اعلیٰ ترین عظمت ہے۔ جب انسان یہ جان لیتا ہے کہ دنیا کے پاس اس کے زخموں کا کوئی مرہم نہیں، تو وہ اپنے نالوں کو ضبطِ فغاں اور دعا میں بدل دیتا ہے۔ ہم نے بھی جب اپنے مخلص دل کو کانچ کی طرح ٹوٹتے دیکھا اور اپنوں کو اپنی انا اور غفلتوں میں مست پایا، تو ہم نے بازارِ دنیا میں گلا بنانا مناسب نہ سمجھا۔ ہم نے اپنی آہ کو اپنے ہی اندر اتار لیا۔
ضبطِ فغاں کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ انسان کو درد نہیں ہوتا۔ درد تو ہوتا ہے، اور اتنا شدید ہوتا ہے کہ سانس رکنے لگتی ہے، مگر اس درد کو جب خدا کے سپرد کر دیا جائے تو وہ شکایت نہیں رہتا، بلکہ بارگاہِ الٰہی میں ایک مقبول دعا بن جاتا ہے۔ انسان جب اپنے رب کے سامنے سجدے میں گر کر خاموشی سے روتا ہے، تو اس کا ایک ایک قطرہ آنسو عرشِ الٰہی تک پہنچتا ہے۔ دنیا سمجھتی ہے کہ ہم ہار گئے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ضبطِ فغاں نے ہمیں دنیا کے طعنوں سے آزاد کر کے ایک ایسی روحانی پناہ گاہ میں پہنچا دیا ہے جہاں اب کوئی ہمیں مزید زخمی نہیں کر سکتا۔
اس ضبط کے بعد انسان کے اندر ایک عجیب طرح کا باوقار سکون اترنے لگتا ہے۔ وہ شور جو کبھی اسے بے چین رکھتا تھا، وہ ختم ہو جاتا ہے۔ انسان اب اپنے آپ سے نظریں ملا کر گفتگو کرنے کے قابل ہوتا ہے۔ اسے اندازہ ہوتا ہے کہ دنیا کے طعنے اور اپنوں کی بے پرواہی اس کے باطن کی سچائی کو کم نہیں کر سکی۔ ہم نے اپنے غم کو ضبط کر کے یہ سیکھا ہے کہ رشتوں کے آگے گڑگڑانے سے خلوص نہیں ملتا۔ خلوص تو ایک خوددار احساس ہے جو صرف ان دلوں میں رہتا ہے جو ضبطِ فغاں کے کٹھن راستے سے گزر کر کندن بن چکے ہوتے ہیں۔
ضبطِ فغاں کا راستہ اختیار کرنے کے بعد انسان کا اندرونی موسم بالکل بدل جاتا ہے۔ شروع شروع میں لگتا ہے کہ یہ چپ انسان کو گھوٹ کر مار دے گی، مگر آہستہ آہستہ یہی خاموشی ایک مضبوط قلعہ بن جاتی ہے۔ جب انسان اپنی آہ کو باہر نہیں نکلنے دیتا، تو وہ تپش اس کے باطن کی خام مٹی کو پکا کر کے کندن بنا دیتی ہے۔ جو لوگ بات بات پر رونے اور شکوہ کرنے کے عادی ہوتے ہیں، دنیا اکثر انہیں کمزور سمجھ کر مزید پامال کرتی ہے۔ مگر جو اپنے غم کو مسکرا کر چھپانا سیکھ لیتے ہیں، دنیا ان کے باوقار رویے کے سامنے بے بس ہو جاتی ہے۔
ہم نے جب اپنے مخلص دل کو چکنا چور ہوتے دیکھا، تو ہمارے پاس بھی یہ راستہ موجود تھا کہ ہم جگہ جگہ جا کر اپنی مظلومیت کی داستانیں سناتے۔ ہم بھی لوگوں کے سامنے ان کی غفلتوں، ان کی انا اور ان کی ذاتی دشمنیوں کے کچے چٹھے کھول سکتے تھے۔ مگر ہم نے ایسا نہیں کیا۔ یہ ہمارا ظرف تھا اور ہماری خودداری کا تقاضا تھا کہ ہم نے اپنے زخموں کو دنیا کے لیے تماشہ بننے سے بچا لیا۔ اپنے دکھ کی نمائش کرنا ایک حساس اور خوددار انسان کے شایانِ شان نہیں ہوتا۔
اس ضبط کا ایک سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ انسان کا انحصار دنیاوی دلداریوں سے ختم ہو جاتا ہے۔ جب آپ کو یہ معلوم ہو جائے کہ سامنے والے کی ہمدردی میں بھی ایک حد تک بناوٹ شامل ہے، تو آپ کسی سے توقع رکھنا ہی چھوڑ دیتے ہیں۔ توقعات کا ختم ہو جانا ہی دراصل انسان کی حقیقی آزادی ہے۔ پھر نہ کوئی آپ کو اپنی بے پرواہی سے تڑپا سکتا ہے اور نہ ہی کوئی آپ کی قدر نہ کر کے آپ کو چھوٹا محسوس کروا سکتا ہے۔
یہ ضبطِ فغاں دراصل ایک ایسا پل ہے جو انسان کو مادی دنیا کے دکھوں سے نکال کر روحانی بالیدگی کی طرف لے جاتا ہے۔ جب لبوں پر شکوے کے بجائے خاموشی اور دل میں رب پر کامل یقین ہو، تو انسان کو یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ اس دنیا کی ہر شے فانی ہے، لیکن اس کی اپنی خودداری اور اس کا رب کے ساتھ قائم ہونے والا یہ خاموش تعلق ابدی ہے۔ ہم نے اس ضبط کے ذریعے اپنے وجود کی اس حرمت کو دوبارہ پا لیا ہے جو دنیا والوں کی بے حسی کی وجہ سے کہیں کھو گئی تھی۔
یہ خاموشی کوئی شکست نہیں ہے، یہ تو ہماری فتح کا پہلا قدم ہے۔ ہم نے اپنی فغاں کو ضبط کر کے دنیا سے اپنے حساب بے باق کر لیے ہیں، اور اپنے معاملے کو اس ذاتِ باری تعالیٰ کے سپرد کر دیا ہے جو دلوں کے بھید بھی جانتی ہے اور مخلصین کا اجر بھی ضائع نہیں کرتی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باب ششم 

 ( آئینے سے گفتگو )



جب انسان دنیا کی جھوٹی بھیڑ، ظاہری رشتوں کے شور اور کانچ کے دائروں سے کٹ کر آئینے کے سامنے اکیلا کھڑا ہوتا ہے، تو وہاں کوئی نقاب باقی نہیں رہتا۔ وہاں نہ کوئی صفائی دینی پڑتی ہے اور نہ ہی مظلومیت کا ناٹک رچایا جا سکتا ہے۔ آئینہ محض آپ کے باطن کا سچ اور اس کا عکس دکھاتا ہے۔
یہاں اس بات کی وضاحت اور تصحیح بہت ضروری ہے تاکہ کسی کے ذہن میں یہ مغالطہ یا اشکال نہ رہے کہ ہم اپنی اس خاموشی اور ضبط کے ذریعے خود کو مظلوم ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، یا دنیا سے اپنی خاموشی کا کوئی صلہ چاہتے ہیں۔ ہرگز نہیں! صلہ اور ہمدردی تو انسانوں سے مانگی جاتی ہے، اور ہم نے انسانوں کی بے پرواہی دیکھ کر ان سے توقعات کا باب بہت پہلے بند کر دیا ہے۔ خود کو مظلوم بنا کر پیش کرنا کمزور لوگوں کا کام ہوتا ہے جو دنیا کی ہمدردی کے محتاج ہوتے ہیں۔
ہم نے جو خاموشی اختیار کی اور اپنے نالوں کو ضبط کیا، وہ کسی مجبوری کے تحت نہیں بلکہ اپنی خودداری، ظرف اور خود شناسی کی بنیاد پر کیا۔ اگر ہم چاہتے تو جگہ جگہ جا کر لوگوں کے چہرے بے نقاب کر سکتے تھے، لیکن ہم نے اپنے وقار کو ان کے رویوں سے اوپر رکھا۔ مظلوم وہ ہوتا ہے جو بے بس ہو، جبکہ سچا اور مخلص انسان اپنے ظرف کی وجہ سے خاموش رہتا ہے تاکہ اپنی ذات کی حرمت قائم رکھ سکے۔
تاریخِ عالم پر نظر ڈالیں تو ہمیں بڑے بڑے بادشاہ اور فاتحین نظر آتے ہیں جو دنیا کی نظروں میں اقتدار اور جاہ و جلال کے شاندار مقام پر فائز تھے، لیکن تنہائی میں وہ بھی آئینے کے سامنے اپنی ذات سے گفتگو کرتے تھے۔
سلطان محمود غزنوی کے بارے میں تاریخ میں ایک برحق اور سبق آموز واقعہ آتا ہے کہ بڑی بڑی سلطنتیں فتح کرنے اور دنیا بھر میں اپنا دبدبہ قائم کرنے کے باوجود، وہ اکثر رات کی تنہائی میں اپنے شاہی لباس اور تاج کو اتار کر ایک عام اور سادہ لباس پہن کر آئینے کے سامنے کھڑے ہو جاتے تھے۔ وہ آئینے میں اپنے عکس کو دیکھ کر خود سے کہتے:
"اے محمود! دنیا تجھے بادشاہ سمجھتی ہے اور تیرے سامنے جُھکتی ہے، مگر یاد رکھ کہ تو ایک فانی انسان ہے اور اپنے رب کے سامنے تیرے باطن کے سوا کسی شے کی کوئی حیثیت نہیں۔ تیری اصل طاقت یہ ظاہری حکومت نہیں، بلکہ تیرے باطن کی سچائی اور تیرے رب سے تیرا تعلق ہے۔"
سلطان محمود غزنوی کا یہ عمل اس بات کی دلیل تھا کہ انسان کو اپنی اصل پہچان اور سکون کے لیے دنیا کی داد یا ہمدردی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ایک سچا انسان وہ نہیں جو دنیا کو فتح کرے، بلکہ وہ ہے جو اپنی ذات پر حکمرانی کرے اور اپنے اندر کے طوفانوں کو ضبط کرنا جانتا ہو۔
ہم نے بھی جب دنیا کے کانچ کے دائروں کو ٹوٹتے دیکھا اور اپنوں کی بے پرواہی کو سہا، تو ہم نے دنیا کے دربار میں فریاد لے جانے کے بجائے آئینے کا رخ کیا۔ ہم نے آئینے میں دیکھ کر اپنی ذات سے سوال کیا اور خود کو یہ یقین دلایا کہ ہمارا خلوص کسی انسان کی تصدیق کا محتاج نہیں۔ اگر لوگوں نے ہمارے مخلص دل کو کھو دیا اور اپنی غفلتوں کی نذر کر دیا، تو یہ ان کی بدقسمتی اور محرومی ہے، ہماری نہیں۔
اور اس حقیقت کو ان اوراق پر قلمبند کرنے کی اصل وجہ یہ ہے کہ دنیا میں جب بھی کوئی دوسرا حساس انسان، کوئی دوسرا مخلص دل اس روح فرسا اذیت سے گزرے—جب اپنوں کی بے پرواہی اور غفلت اس کا مان توڑ دے—تو وہ تنہائی کے اندھیروں میں بھٹک نہ جائے۔ یہ اوراق اس کے لیے ایک دلاسا بنیں، ایک ایسا مضبوط کندھا بنیں جس پر سر رکھ کر وہ اپنے آنسو پونچھ سکے اور اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر یہ کہہ سکے: "میں اس طوفان میں اکیلا نہیں ہوں۔"
ہم چاہتے ہیں کہ جب کوئی زخمی روح اس کتاب کو پڑھے، تو اسے اپنے اندر ایک نئی طاقت کا احساس ہو۔ وہ جانے کہ جب مخلص دل کو کانچ کی طرح توڑا جاتا ہے، تو اس بھنور میں ڈوب جانا مقدر نہیں ہوتا۔ اس کا حل یہ نہیں کہ انسان خود کو ختم کر لے یا دوسروں سے ہمدردی کی بھیک مانگے، بلکہ اصل حل یہ ہے کہ وہ آئینے کے سامنے کھڑا ہو، اپنی ذات کی حرمت کو پہچانے، اور ایک نئی ہمت کے ساتھ اپنے رب پر توکل کرتے ہوئے اس بھنور سے باہر نکل آئے।
آئینے سے یہ گفتگو انسان کو مظلومیت کے درجے سے اٹھا کر خود شناسی، شاہانہ خودداری اور مضبوطی کے مرتبے پر فائز کر دیتی ہے۔ یہاں انسان کو اندازہ ہوتا ہے کہ وہ دنیا کی نظروں میں چاہے کتنا ہی تنہا یا زخم خوردہ کیوں نہ لگے، لیکن اپنے رب اور اپنے باطن کی نظر میں وہ ایک فاتح ہے—ایک ایسا فاتح جس نے اپنے ظرف کا سودا کیے بغیر، اپنی خودداری کو قائم رکھا اور اب دوسروں کا ہاتھ تھامنے کے قابل ہو چکا ہے۔

(نوٹ)

[ حوالہ و تاریخی سند: سلطان محمود غزنویؒ کا خلوت میں شاہی لباس اتار کر اپنے باطن کا احتساب کرنے اور آئینے سے کلام کرنے کا یہ سبق آموز واقعہ تاریخی و اخلاقی ادبیات میں معروف و مستند ہے۔ اس حکایتِ محاسبہ کے بنیادی مراجع میں سدید الدین محمد عوفی کی "جوامع الحکایات و لوامع الروایات"، شیخ فرید الدین عطارؒ کی "منطق الطیر"، محمد قاسم فرشتہ کی "تاریخِ فرشتہ" (جلد اول، احوالِ غزنویان)، اور میر خواند کی "روضة الصفا" شامل ہیں، جہاں سلطان کے تزکیۂ نفس، زہد اور باطنی حقیقتِ حال کے ادراک کو تفصیل سے نقل کیا گیا ہے۔ ]

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باب ہفتم

( توکل کا دیا )

جب انسان دنیا کی جاہ و حشم، ظاہری رشتوں کی بے پرواہی، اور کانچ کے دائروں سے گزر کر آئینے کے سامنے اپنی سچی ذات کو پہچان لیتا ہے، تو اس کے اندر سے خوف اور مایوسی کا اندھیرا چھٹنے لگتا ہے۔ یہ وہ نقطۂ آغاز ہے جہاں روح کے اندھیرے نہاں خانے میں "توکل کا دیا" روشن ہوتا ہے۔
توکل صرف ایک لفظ نہیں، بلکہ ایک ایسا کامل یقین ہے جو انسان کو دنیا کی ہر محتاجی، ہر شکوے اور ہر خوف سے آزاد کر دیتا ہے۔ جب آپ یہ جان لیتے ہیں کہ دنیا کے تمام راستے بند ہو جانے کے بعد بھی ربِ کریم کی رحمت کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا، تو پھر دل کو ایک عجیب و غریب اور دائمی سکون نصیب ہو جاتا ہے۔
ہم نے زندگی کے اس کٹھن سفر میں یہ خوبصورت حقیقت سیکھی ہے کہ جب انسان کے پاس سے ہر سہارا چھوٹ جاتا ہے، تو دراصل وہ وقت رب کے سب سے زیادہ قریب ہونے کا ہوتا ہے۔ انسان جب تک مخلوق کی دلداریوں اور ان کی طرف سے ملنے والی اہمیت کا محتاج رہتا ہے، وہ بار بار ٹوٹتا ہے اور اس کا مان ریت کی طرح بکھرتا رہتا ہے۔ مگر جیسے ہی وہ اپنا معاملہ اپنے خالق کے سپرد کر دیتا ہے، تو اس کا دل ایک نا قابلِ تسخیر قلعہ بن جاتا ہے۔
توکل کا دیا اندھیروں میں وہ روشنی فراہم کرتا ہے جو انسان کو اپنے زخموں کے باوجود آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ یہ دیا انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ اگر اپنوں نے بے پرواہی دکھائی، اگر کسی نے آپ کے سچے جذبات اور خلوص کی قدر نہ کی، تو اس میں آپ کی ذات کا کوئی نقص نہیں تھا۔ جو دل رب کے ساتھ جڑ جاتا ہے، اسے پھر کسی دنیاوی تعریف، صلے یا صفائی کی ضرورت نہیں رہتی۔
رات کا گہرا اندھیرا ہی اس بات کی گواہی ہوتا ہے کہ صبح کی روشنی بہت قریب ہے۔ اسی طرح، زندگی میں دکھوں اور تنہائی کا شدید ترین دور دراصل اس روحانی بیداری کا پیش خیمہ ہوتا ہے جو انسان کو توکل کی معراج پر پہنچاتی ہے۔ ہم نے بھی اپنے تمام زخم، اپنی تمام خاموش آہیں اور اپنا ٹوٹا ہوا مان اس ذاتِ باری تعالیٰ کے حضور رکھ دیا ہے جو بکھرے ہوئے دلوں کو جوڑنا بھی جانتی ہے اور مخلصین کی قدر بھی کرتی ہے۔
یہ توکل کا دیا اب کبھی نہیں بجھے گا، کیونکہ اس کا ایندھن ہمارا سچا خلوص، ہماری خودداری اور ہمارے رب پر ہمارا غیر متزلزل یقین ہے۔
یہ توکل کا دیا صرف ہماری ذات تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ اس کتاب کو پڑھنے والے ہر حساس اور مخلص انسان کے لیے امید کا ایک روشن منارہ ہے۔ جب کوئی انسان دنیاوی آزمائشوں کے طوفان میں گھِرا ہو، جب اپنے ہی اس کا مان توڑ کر بے گانا کر دیں، اور جب اسے چاروں جانب اندھیرا ہی اندھیرا دکھائی دے—تو یہ توکل اس کے قدموں کو لڑکھڑانے سے بچائے گا۔
ہماری اس تحریر کا اصل مقصد یہی ہے کہ انسان دکھوں کے بھنور میں ڈوب کر خود کو ختم نہ کرے، بلکہ اپنے رب پر توکل کر کے ایک نئی امید اور ہمت کے ساتھ جی اٹھے۔ دنیا آپ سے آپ کی مسکراہٹیں، آپ کا مان اور آپ کا ظاہری سکون چھین سکتی ہے، مگر وہ آپ سے آپ کا "رب پر یقین" کبھی نہیں چھین سکتی۔
جب انسان اپنے دکھ، اپنی ناانصافیاں اور اپنے زخم اللہ کے سپرد کر دیتا ہے، تو اس کے اندر کی سلگتی ہوئی خاموشی ایک باوقار اور معطر سکون میں بدل جاتی ہے۔ پھر اسے دنیا کے فیصلوں، اپنوں کی غفلتوں اور انا کی دیواروں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وہ جان جاتا ہے کہ جو رب پرندوں کو بے زبان ہونے کے باوجود رزق اور پناہ دیتا ہے، وہ ایک حساس اور مخلص دل کو کبھی ضائع نہیں ہونے دے گا۔
توکل کا یہ دیا دراصل ہمارے سفر کا ایک نیا موڑ ہے—ایک ایسی شکر گزاری اور روشنی جس کے سہارے اب ہم اپنے بکھرے ہوئے وجود کو سمیٹنے اور اپنی تعمیرِ نو کرنے کے لیے بالکل تیار ہیں۔ یہ دیا اب کبھی نہیں بجھے گا، کیونکہ اس کی لو ہمارے سچے خلوص اور رب پر کامل یقین سے روشن ہے۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

باب ہشتم 

( بکھرے ہوئے وجود کی سمیٹ )


جب توکل کا دیا باطن میں روشن ہو جائے اور انسان کو یہ یقین حاصل ہو جائے کہ اس کا رب اس کے ساتھ ہے، تو پھر بکھرے ہوئے وجود کو سمیٹنے کا عمل شروع ہوتا ہے۔ یہ سفر کا وہ مرحلہ ہے جہاں انسان اپنے ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں کو اٹھاتا ہے، اپنے زخموں کو دیکھتا ہے، اور انہیں اپنی کمزوری بنانے کے بجائے اپنے لیے ایک مضبوط ڈھال بناتا ہے۔
تکلیف اور صدمے کی سب سے بڑی طاقت یہ ہوتی ہے کہ وہ انسان کے اندر سے تمام فریب اور خام خیالیاں ختم کر دیتی ہے۔ جب مان ٹوٹتا ہے، تو انسان کو یہ حقیقت سمجھ آتی ہے کہ جن لوگوں کو اس نے اپنی دنیا کا مرکز بنا رکھا تھا، وہ دراصل اس کے وجود کا بوجھ بھی نہیں اٹھا سکتے تھے۔ اپنے بکھرے ہوئے وجود کو سمیٹنے کا پہلا قدم ہی یہی ہے کہ انسان دوسروں کے رویوں کی ذمہ داری اپنے سر لینا چھوڑ دے۔
ہم نے بھی جب اپنے بکھرے ہوئے مان اور جذبات کو سمیٹنا شروع کیا، تو ہمیں اندازہ ہوا کہ جو شیشے ٹوٹ چکے ہیں، انہیں دوبارہ جوڑنے کی کوشش میں صرف اپنے ہی ہاتھ زخمی ہوتے ہیں۔ عقلمندی یہ نہیں کہ انسان ٹوٹے ہوئے شیشوں کو چپکانے میں عمر ضائع کرے، بلکہ دانائی یہ ہے کہ ان سے نظر ہٹا کر اپنے اندر کے اصل ہیرے کو تراشنا شروع کرے۔
وجود کو سمیٹنا کسی دوسرے انسان کی مدد کا محتاج نہیں ہوتا۔ یہ ایک باطنی فیصلہ ہے جو انسان اپنے رب کے حضور سجدے میں گر کر کرتا ہے۔ انسان جب سجدے میں اپنے تمام بکھرے ہوئے دکھ اور آہیں رکھ دیتا ہے، تو ربِ کریم کی رحمت اس کے ریزہ ریزہ وجود کو دوبارہ جوڑ کر ایک ایسا مضبوط انسان بنا دیتی ہے جو اب کسی دنیاوی طوفان سے نہیں ڈرتا۔
یہ سمیٹ دراصل خود شناسی کا دوسرا نام ہے۔ یہاں انسان اپنے ماضی کی تلخیوں سے سبق لیتا ہے، اپنے ظرف کو مزید پختہ کرتا ہے، اور آئندہ کے لیے اپنی حدیں (Boundaries) مقرر کر لیتا ہے۔ وہ اب کسی کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ اس کے خلوص اور جذبوں کو اپنی انا کی قربان گاہ پر ذبح کرے۔
اپنے بکھرے ہوئے وجود کو سمیٹنے کے اس عمل کو سمجھنے کے لیے تاریخِ مشرقی کا ایک شاہکار اور سچا فکری استعارہ کس قدر خوبصورت ہے! صدیوں سے ایک روایت چلی آ رہی ہے کہ جب کوئی قیمتی برتن یا پیالہ ٹوٹ کر بکھر جاتا ہے، تو صاحبِ ظرف لوگ اسے بے کار سمجھ کر کچرے میں نہیں پھینکتے اور نہ ہی اس کی دراڑوں کو چھپانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ وہ اس برتن کے تمام بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو بڑی محبت سے سمیٹتے ہیں اور اس کی دراڑوں کو پگھلے ہوئے سونے سے بھر کر دوبارہ جوڑ دیتے ہیں۔ اس فن اور فلسفے کو "کِنتسوگی" کہا جاتا ہے۔
اس کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ سونے کی پیوند کاری کے بعد وہ برتن نہ صرف یہ کہ اپنی اصل حالت سے زیادہ مضبوط ہو جاتا ہے، بلکہ اس کے وہ تمام زخم اور دراڑیں سونے کی طرح چمک کر اس کی قیمت اور خوبصورتی کو پہلے سے بھی ہزار گنا بڑھا دیتی ہیں۔
ہماری ذات اور ہمارا مخلص دل بھی اسی کِنتسوگی کے پیالے کی مانند ہے۔ جب اپنوں کی بے پرواہی اور غفلت ہمارا مان توڑ کر ہمیں ریزہ ریزہ کر دیتی ہے، تو دنیا سمجھتی ہے کہ ہم ختم ہو گئے۔ لیکن جب ہم اپنے اس بکھرے ہوئے وجود کو توکل، خودداری اور رب کے حضور سجدوں کے "سونے" سے سمیٹتے ہیں، تو ہماری ہر دراڑ اور ہر زخم ایک زربفت چمک اختیار کر لیتا ہے۔ انسان ٹوٹنے کے بعد جب خود کو سنبھالتا ہے، تو وہ پہلے سے زیادہ باوقار، پختہ اور نایاب ہو جاتا ہے۔
تاریخ میں انبیاء اور صالحین کا اسوہ بھی ہمیں یہی سکھاتا ہے۔ ایک برحق اور سبق آموز روایت میں آتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی: "اے میرے رب! میں تجھے کہاں تلاش کروں؟" تو ربِ ذوالجلال نے ارشاد فرمایا: "مجھے ان دلوں کے پاس ڈھونڈو جو میری خاطر ٹوٹ چکے ہیں اور بکھر چکے ہیں۔"
یہ روایت اس بات کی بین دلیل ہے کہ ٹوٹا ہوا اور بکھرا ہوا وجود رب کی رحمت کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ جب ہم نے اپنے جذبات کو دنیاوی توقعات سے پاک کر کے رب کی رضا کے سونے سے جوڑنا شروع کیا، تو ہمیں اندازہ ہوا کہ یہ بکھراؤ دراصل ایک نعمت تھا—ایک ایسی نعمت جس نے ہمیں دنیا کے فانی آستانوں سے اٹھا کر رب کی دائمی پناہ گاہ میں پہنچا دیا۔
اب ہم اپنے ماضی کی دراڑوں پر شرمندہ نہیں ہوتے، اور نہ ہی اپنوں کی غفلتوں پر مسکرانا چھوڑتے ہیں۔ ہمارے یہ زخم اب ہماری کمزوری نہیں، بلکہ ہمارے ظرف، ہماری داستانِ صبر اور ہماری پختگی کا وہ روشن تمغہ ہیں جو ہمیں دنیا کی بھیڑ میں سب سے الگ اور خوددار بناتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باب نہم

 ( ذات کا تحفہ )


جب انسان اپنے بکھرے ہوئے وجود کو توکل کی روشنی سے سمیٹ لیتا ہے، تو اس پر ایک شاندار حقیقت منکشف ہوتی ہے—اور وہ حقیقت یہ ہے کہ اس کائنات میں رب کے بعد انسان کا سب سے سچا اور مخلص ساتھی اس کا اپنا وجود ہے۔ زندگی کی تلخیوں اور اپنوں کی بے پرواہی کا ایک بڑا سبب یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنی خوشیوں، اپنے سکون اور اپنی قدر کا اختیار دوسروں کے ہاتھوں میں دے دیتے ہیں۔ لیکن جب مان ٹوٹتا ہے، تو انسان کو اندازہ ہوتا ہے کہ اپنی ذات کی قدروقیمت کو پہچاننا اور اس کی حفاظت کرنا بخل نہیں، بلکہ روح کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
"ذات کا تحفہ" یہی ہے کہ انسان خود کو ان تمام لوگوں کی ذہنی اور جذباتی غلامی سے آزاد کرائے جو اس کے خلوص کو اس کی کمزوری سمجھتے ہیں۔ یہ اس بات کا ادراک ہے کہ ربِ کریم نے آپ کو جو حساس دل، فکر اور وجود عطا کیا ہے، وہ ایک نایاب تحفہ ہے—اور اس تحفہ کی بے توقیری کرنا سراسر ناانصافی ہے۔
تاریخِ حکمت و ادب پر نظر ڈالیں تو فارسی کے عظیم مفکر اور دانشمند شیخ سعدی شیرازیؒ کا ایک برحق اور مشہور واقعہ ہمیں ذات کے احترام کا بہترین درس دیتا ہے۔
روایت میں آتا ہے کہ ایک بار شیخ سعدیؒ کسی پرتعیش مجلس میں تشریف لے گئے، لیکن چونکہ وہ سادہ اور معمولی لباس میں ملبوس تھے، اس لیے مجلس کے میزبانوں اور ظاہری پسند لوگوں نے ان کی طرف کوئی توجہ نہ دی اور انہیں ایک عام سی جگہ پر بٹھا دیا۔ کچھ دیر بعد شیخ سعدیؒ خاموشی سے وہاں سے اٹھے، اپنے گھر گئے اور ایک انتہائی قیمتی اور زرق برق شاہانہ جبہ (عبا) پہن کر دوبارہ اسی مجلس میں لوٹے۔ اس بار جیسے ہی وہ داخل ہوئے، تمام لوگ احترام میں کھڑے ہو گئے، انہیں سب سے اعلیٰ نشست پر بٹھایا اور نفیس ترین کھانے ان کے آگے چن دیے۔
شیخ سعدیؒ نے مسکرا کر اپنے روٹی کا لقمہ سالن میں ڈبویا اور اپنے قیمتی جبے کے دامن پر رکھتے ہوئے فرمایا: "لو صاحب! یہ کھانا کھاؤ، کیونکہ یہ عزت اور تحفہ میری ذات کے لیے نہیں، بلکہ اس ظاہری جبے اور لباس کے لیے ہے۔"
شیخ سعدیؒ کا یہ تاریخی رویہ اس بات کا بین ثبوت تھا کہ جو لوگ صرف ظاہری رکھ رکھاؤ، فائدے اور انا کی بنیاد پر تعلق رکھتے ہیں، ان کی نظر میں انسان کی ذات کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔ سچا انسان وہ ہے جو دنیا کی اس ظاہری اور سطحی عزت کا محتاج نہ بنے، بلکہ اپنے اندر کی سچائی اور اپنی ذات کی حرمت کو پہچانے۔
ہم نے بھی جب اپنوں کی غفلتوں کا سامنا کیا، تو ہمیں یہ بات سمجھ آئی کہ لوگوں کا رویہ ان کے اپنے ظرف کا عکاس ہوتا ہے، ہماری ذات کی قیمت کا نہیں۔ اگر کسی نے ہمارے خلوص کو نظر انداز کیا، تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہم کم تر تھے۔ ہم نے دوسروں کے رویوں سے اپنی قدر کا اندازہ لگانا چھوڑ دیا ہے۔ ہم نے اپنی ذات کو ایک تحفہ سمجھ کر اپنے رب کی بارگاہ میں سنبھال لیا ہے۔
خود سے محبت اور ذات کا احترام یہ نہیں کہ انسان متکبر ہو جائے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے دل کو ان لوگوں کے لیے کوڑا دان نہ بننے دے جو اس میں اپنی نفرت، غفلت اور انا کا کچرا پھینکنا چاہتے ہیں۔ انسان جب اپنی ذات کو رب کا دیا ہوا تحفہ سمجھنے لگتا ہے، تو وہ اپنی حدود متعین کر لیتا ہے۔ پھر وہ مسکرا کر دنیا سے ملتا تو ہے، لیکن کسی کو یہ حق نہیں دیتا کہ وہ اس کے باطنی سکون کو برباد کر سکے۔
آج ہم اپنے اندر ایک نیا اطمینان محسوس کرتے ہیں۔ ہم نے دوسروں سے امیدیں وابستہ کرنے کے بجائے اپنی ذات کو وہ توجہ اور محبت دی ہے جس کی وہ حقدار تھی۔ یہ ذات کا تحفہ دراصل اس روح کی آزادی ہے جو دنیا کے طعنوں اور بے وفائیوں کے قید خانے سے نکل کر اپنے رب کی رضا کے آغوش میں آ چکی ہے۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

باب دہم

( معافی اور لا تعلقی)



جب انسان اپنے بکھرے ہوئے وجود کو سمیٹ کر اپنی ذات کی قدروقیمت کو پہچان لیتا ہے، تو اس کے سامنے ایک بہت بڑا باطنی امتحان آتا ہے—اور وہ امتحان ہے "معافی اور لاتعلقی" کا۔
ہماری زندگی میں جب کوئی اپنا ہمارا مان توڑتا ہے، ہمارے خلوص کی پامالی کرتا ہے یا ہمیں کسی گہری اذیت میں مبتلا کرتا ہے، تو ہمارا باطن انتقام، کینے اور شکوے کی آگ میں جلنے لگتا ہے۔ ہم دن رات اسی کے بارے میں سوچتے ہیں اور یوں اپنی ہی روح کو اس کی اذیت کے قید خانے میں بند کر دیتے ہیں۔ لیکن جب حکمت بیدار ہوتی ہے، تو انسان پر یہ سچائی کھلتی ہے کہ معافی کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ سامنے والے نے جو کیا وہ درست تھا، اور نہ ہی اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان دوبارہ جا کر اسی ڈسنے والے سانپ کے آگے اپنا ہاتھ رکھ دے۔
معافی تو دراصل اپنے اندر کے اس غصے اور کینے کو بیدخل کرنے کا نام ہے ہماری اپنی روح کو اندر سے جلا رہا ہوتا ہے۔ معاف کر دینا دوسرے پر احسان نہیں، بلکہ اپنی ذات پر رحم کرنا ہے۔
تاریخِ انسائیت کا سب سے عظیم اور برحق واقعہ یاد کیجیے—جب فتحِ مکہ کے دن سید الانبیاء حضرت محمد مصطفٰے ﷺ فاتحانہ انداز میں مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔ وہ تمام لوگ جنہوں نے آپ ﷺ اور آپ کے صحابہؓ پر مظالم کے پہاڑ توڑے تھے، آپ کے عزیزوں کا خون بہایا تھا اور انہیں وطن چھوڑنے پر مجبور کیا تھا، وہ سب ڈر کے مارے کٹہرے میں کھڑے تھے۔ آپ ﷺ کے پاس پورا اختیار تھا کہ ان سے ایک ایک مظالم کا بدلہ لیتے اور انہیں سخت ترین سزا دیتے۔
مگر تاریخِ عالم نے وہ منظر دیکھا جو انسانی عقل کو حیران کر دیتا ہے۔ آپ ﷺ نے ان تمام تر تاریخی مظالم اور صدمات کے باوجود ارشاد فرمایا: "آج تم پر کوئی گرفت نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو!"
یہ عظیم ترین عفوِ عام اس بات کا روشن ترین ثبوت تھا کہ معاف کر دینا ایک اعلیٰ ترین ظرف اور شاہانہ طاقت ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ، تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ آپ ﷺ نے ان میں سے کچھ افراد (مثلاً جنہوں نے حضرت حمزہؓ کی شہادت کا گہرا زخم دیا تھا) کو معاف کر دینے کے بعد بھی یہ ہدایت فرمائی کہ وہ آپ کے سامنے نہ آئیں، تاکہ ماضی کے زخم تازہ نہ ہوں۔
یہ عمل ہمیں "باوقار لاتعلقی" کا سب سے بڑا درس دیتا ہے۔ معافی کا مطلب یہ بالکل نہیں کہ آپ دوبارہ اسی زخم دینے والے شخص کے پاس بیٹھ کر خود کو پامال کروائیں۔ معافی دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے ہے، اور لاتعلقی اپنے ظرف کی حفاظت کے لیے!
ہم نے بھی جب اپنے مخلص دل کو ٹوٹتے دیکھا، تو ہم نے بدلہ لینے یا دل میں بغض رکھنے کی روش اختیار نہیں کی۔ بغض اور کینہ انسان کے باطن کو مردار کر دیتے ہیں۔ ہم نے اپنے رب کی رضا کے لیے ان تمام رویوں، غفلتوں اور انا پرست لوگوں کو اپنے دل کے اندر سے معاف کر دیا ہے۔ ہم نے ان کا معاملہ ان کے اور رب کے درمیان چھوڑ دیا ہے۔
مگر اس معافی کے بعد ہم نے "لاتعلقی" کا راستہ منتخب کیا ہے۔ یہ لاتعلقی کسی دشمنی یا نفرت کی بنیاد پر نہیں، بلکہ ایک خاموش اور باوقار فاصلہ ہے۔ یہ وہ نقطہ ہے جہاں انسان نہ کسی کا برا چاہتا ہے، نہ کسی کی برائی کا چرچا کرتا ہے، اور نہ ہی اس سے دوبارہ کسی خیر کی امید رکھتا ہے۔ انسان بس مسکرا کر اپنے راستے پر آگے بڑھ جاتا ہے۔
جب آپ کسی کو معاف کر کے اس سے لاتعلق ہو جاتے ہیں، تو آپ کی روح پر سے منوں بوجھ اتر جاتا ہے۔ پھر نہ اس کی بے پرواہی آپ کو تڑپا سکتی ہے اور نہ ہی اس کی موجودگی یا عدم موجودگی آپ کے باطنی سکون کو برباد کر سکتی ہے۔ یہ وہ آزادی ہے جو انسان کو دنیا کے تمام طعنوں، رشتوں کے بوجھ اور جذباتی بلیک میلنگ سے آزاد کر کے صرف اور صرف اپنے خالق کی بندگی اور اپنے باطنی سکون میں مگن کر دیتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باب یازدہم 

 ( بیدار باطن)

جب انسان معافی اور باوقار لاتعلقی کی وادی سے گزر جاتا ہے، تو اس کے اندر کی تمام دھند چھٹ جاتی ہے۔ اب وہ بکھرا ہوا، ڈرا ہوا یا اپنے زخموں کا ڈھنڈورا پیٹنے والا انسان نہیں رہتا، بلکہ اس کے اندر سے ایک نیا، مضبوط اور بیدار باطن جنم لیتا ہے۔
"بیدارِ باطن" کا مطلب یہ ہے کہ انسان دنیا اور اس کے رشتوں کی حقیقت کو ان کے اصل رنگ میں دیکھنا شروع کر دے۔ انسان جب تک غفلت میں رہتا ہے، وہ ہر چمکتی ہوئی شے کو سونا سمجھتا ہے اور ہر ظاہری محبت کے دعوے پر اپنا سب کچھ لٹا دیتا ہے۔ لیکن جب دکھ کا طوفان اس کے تمام خام خیالی کے محلوں کو مسمار کر دیتا ہے، تو اس کی اندرونی آنکھ کھل جاتی ہے۔ یہ باطنی بیداری انسان کو دنیا کے سامنے بے بس نہیں بناتی، بلکہ اسے ایک ایسی روحانی بصیرت (Wisdom) عطا کرتی ہے جس کے بعد دنیا کا کوئی فریب، کوئی انا اور کوئی بے وفائی اسے دھوکا نہیں دے سکتی۔
تاریخِ اسلام اور علم و حکمت کے افق پر نظر ڈالیں تو امام محمد غزالیؒ کی زندگی کا واقعہ بیداریٔ باطن کی سب سے بڑی اور برحق مثال ہے۔
امام غزالیؒ اپنے وقت کے سب سے بڑے بغداد کے مدرسہ نظامیہ کے سربراہ تھے، جہاں ہزاروں علماء ان کے سامنے زانوے تلمذ طے کرتے تھے اور دنیا بھر میں ان کے علم اور جاہ و جلال کا طوطی بولتا تھا۔ لیکن ان تمام ظاہری عزتوں اور رتبوں کے باوجود، ان کے باطن میں ایک عجیب بے چینی تھی۔ انہیں احساس ہوا کہ یہ ظاہری شہرت، دنیاوی پذیرائی اور لوگوں کی داد ان کے باطن کو وہ سچا سکون نہیں دے رہی جس کی روح کو تلاش ہے۔
ایک دن انہوں نے وہ تمام شاہانی منصب، عہدے اور ظاہری دنیاوی رشتے چھوڑ دیے اور خاموشی سے دمشق کی جامع مسجد کے مینار میں خلوت اختیار کر لی۔ سالہا سال کی اس خاموشی، تپش اور ذات کے احتساب کے بعد جب ان کا باطن بیدار ہوا، تو انہوں نے "احیاء علوم الدین" جیسی لازوال کتاب تحریر کی جس نے امت کے مردہ دلوں کو دوبارہ زندہ کر دیا۔ امام غزالیؒ نے ثابت کیا کہ دنیا کا چھوٹ جانا یا ظاہری تعلقات کا ٹوٹ جانا انسان کی تباہی نہیں، بلکہ اس کے باطن کی حقیقی بیداری کا شاندار آغاز ہوتا ہے۔
ہم نے بھی جب اپنے مخلص دل کو کانچ کی طرح ٹوٹتے دیکھا اور اپنوں کی غفلتوں کا سامنا کیا، تو شروع میں ہمیں لگا کہ شاید ہم ختم ہو گئے۔ لیکن جب ہم نے توکل، خودداری اور لاتعلقی کے راستے کو اپنایا، تو ہمیں اندازہ ہوا کہ وہ صدمہ دراصل ہماری باطنی بیداری کا ذریعہ تھا۔ اگر وہ مان نہ ٹوٹتا، تو ہم کبھی اپنے اندر موجود اس خوددار اور مضبوط انسان سے نہ مل پاتے جو آج دنیا کی ہر بے پرواہی کے سامنے مسکرا کر کھڑا ہے۔
بیدارِ باطن کا انسان کبھی ماضی کے پچھتاووں میں نہیں جلتا اور نہ ہی ان لوگوں سے نالاں ہوتا ہے جنہوں نے اس کا دل دکھایا۔ وہ سمجھ جاتا ہے کہ ہر شخص اپنے ظرف کے مطابق رویہ اختیار کرتا ہے۔ بیدار باطن انسان کے اندر ایک ایسی خاموش دانائی آ جاتی ہے کہ وہ ہر انسان کو اس کی حقیقت کے ساتھ قبول کرتا ہے، مگر اپنی روح کی باگ ڈور کسی کے ہاتھ میں نہیں دیتا۔
آج ہمارا باطن بیدار ہو چکا ہے۔ ہمارے اندر سے خوف، شکوہ اور کسی سے صلہ پانے کی خواہش ہمیشہ کے لیے رخصت ہو چکی ہے۔ ہم نے اپنے رب کی رضا اور اپنی ذات کی سچائی کے ساتھ وہ خاموش اور باوقار تعلق قائم کر لیا ہے جو اب دنیا کی کسی بے حسی سے متزلزل نہیں ہو سکتا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


باب دوازدہم 

 ( نوید سحر )

ہر تاریک اور طویل رات کے بعد سحر کا طلوع ہونا کائنات کا ایک اٹل قانون ہے۔ انسان جب دکھوں کے طوفان، مان کے ٹوٹنے، اور سلگتی خاموشی کے صحراؤں سے گزرتا ہے، تو ایک وقت ایسا آتا ہے کہ اس کے باطن میں شفا کا وہ سورج طلوع ہوتا ہے جس کی روشنی ماضی کے تمام اندھیروں کو کافور کر دیتی ہے۔ "نویدِ سحر" اسی نئی صبح کا پیغام ہے—ایک ایسا مکتوبِ شفا جو ہر اس حساس دل کے نام ہے جو سچائی اور خلوص کی پامالی کے بعد بکھر چکا تھا۔
یہاں پہنچ کر انسان کو یہ ادراک ہوتا ہے کہ اس کی زندگی میں آنے والے تمام زخم، تمام دھوکے اور تمام بے پرواہیاں دراصل اس کو تباہ کرنے کے لیے نہیں آئی تھیں، بلکہ اس کی روح کو بیدار کرنے کے لیے آئی تھیں۔
مشرق کے عظیم عارف اور شاعر مولانا جلال الدین رومیؒ کا ایک تاریخی اور آبِ زر سے لکھنے کے قابل قول ہے، وہ فرماتے ہیں:
"زخم وہ جگہ ہے جہاں سے روشنی تمہارے اندر داخل ہوتی ہے۔"
مولانا رومیؒ کا یہ سبق آموز فلسفہ اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ اگر انسان کا دل ٹوٹتا نہ اور اس کی ذات میں دراڑیں نہ پڑتیں، تو توکل، خودداری اور رب کے قرب کی وہ روشنی کبھی اس کے باطن میں داخل نہ ہو پاتی جو آج اس کے وجود کو منور کر رہی ہے۔ زخم دراصل روح کے وہ کھلے ہوئے دربان ہیں جن کے ذریعے انسان دنیا کی فانی محبتوں سے آزاد ہو کر رب کی ابدی محبت کا ذائقہ چکھتا ہے۔
ہم نے اس کتاب کے تمام اوراق پر جو سفر طے کیا ہے—مان کے ٹوٹنے سے لے کر، آئینے سے گفتگو، توکل کا دیا، بکھرے وجود کی سمیٹ، اور باوقار معافی و لاتعلقی تک—یہ سب اس بات کی گواہی ہیں کہ انسان کو کبھی اپنے مخلص ہونے پر شرمندہ نہیں ہونا چاہیے۔ اگر دنیا نے آپ کی قدر نہ کی، تو یہ ان کی محرومی تھی۔ آپ کا ظرف اور آپ کی خودداری آج بھی قائم و دائم ہے۔
یہ مکتوبِ شفا قاری کے لیے ایک پیمان ہے کہ:
اپنے ماضی کے زخموں کو اپنی کمزوری نہ بننے دیں، بلکہ انہیں اپنے باطن کا زیور بنائیں۔
دنیا سے توقعات کا باب ہمیشہ کے لیے بند کر دیں اور اپنے معاملے کو اپنے رب کے سپرد کر کے پرسکون ہو جائیں۔
کسی کے ساتھ بغض یا کینہ نہ رکھیں، مگر اپنی خودداری کا سودا بھی نہ کریں۔ معاف کریں، خاموش رہیں اور باوقار فاصلہ قائم کر کے آگے بڑھ جائیں۔
آج ہماری روح پر سے ہر قسم کا بوجھ اتر چکا ہے۔ سحر کی ٹھنڈی اور معطر ہوا ہمارے وجود کو چھو رہی ہے۔ ہم نے اپنے رب کی رضا میں اپنی خوشی تلاش کر لی ہے، اور یہی ہماری سب سے بڑی فتح اور شفا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(اختتامیہ)
یہ سفر جو ایک ٹوٹے ہوئے مان، سلگتی خاموشی اور گہرے باطنی کرب سے شروع ہوا تھا، الحمدللہ! آج توکل، بیداریٔ باطن اور خودداری کی شاندار منزل پر پہنچ کر مکمل ہو رہا ہے۔
یہ اوراق صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں ہیں، بلکہ ایک حساس دل کی وہ سچی دھڑکنیں ہیں جنہیں ضبطِ فغاں کی کٹھالی میں تپا کر شفا کی صورت میں ڈھالا گیا ہے۔ ہمارا مقصد کبھی دنیا کی داد سمیٹنا، اپنے غم کا اشتہار بنانا یا خود کو مظلوم ثابت کرنا نہیں تھا۔ ہم نے صرف اس لیے قلم اٹھایا تاکہ اس دنیا میں جب بھی کوئی دوسرا مخلص اور باظرف انسان اپنوں کی بے وفائی اور غفلت سے ٹوٹ کر بکھرنے لگے، تو یہ کتاب اس کی تنہائی کا باوقار ساتھی بن سکے اور اسے اس بھنور سے نکال کر رب کے قریب کر دے۔
اگر اس تحریر نے کسی ایک بھی زخمی روح کے دل پر مرہم رکھا، کسی ایک بکھرتے ہوئے انسان کو توکل اور خودداری سے جینا سکھایا، تو ہم سمجھیں گے کہ ہمارے اس ضبط اور قلم کی حرمت کا حق ادا ہو گیا۔
ہم اپنے تمام زخموں، اپنے صبر اور اپنی اس تحریر کو ربِ کریم کی بارگاہ میں نذر کرتے ہیں—اس کامل یقین کے ساتھ کہ سچائی اور خلوص کبھی ضائع نہیں ہوتے۔

(دعائیہ کلمات)
اللہ جی ان لفظوں کو لکھنے کا واحد مقصد کسی مومن کے دل کی اصلاح ہے ۔ تاکہ کوئی ٹوٹا دل تیری بارگاہ کی طرف لوٹ آئے کوئی سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل پیرا ہو کر اپنی زندگی کے دن گزارے ۔ تیرے نیک و مقبول بندوں کا فیضان پا سکے ۔ یااللہ میری اس ادنی کاوش کو قبول فرما ۔ گناہوں سے ریاکاری، بغض و کینہ اور حسد جیسی مہلک بیماریوں سے محفوظ فرما ۔ دلی اطمینان عطا فرما ۔ یااللہ اتنے سیاہ کار ہیں کہ تیری بارگاہ ایزدی میں منہ دکھانے کے قابل بھی نہیں لیکن یا اللہ ہیں تو تیرے ہی بندے تیرے در کے علاؤہ کوئی اور در نہیں جہاں سے معافی کا پروانہ مل سکے یا اللہ اپنے بندوں میں شامل فرما ۔ غرور و تکبر سے محفوظ فرما گناہوں سے معافی عطا فرما اور آئندہ بچنے کی توفیق عطا 
آمین بجاہ النبی الامین 


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[ اہم نوٹس و قانونی تنبیہ ]
اس کتاب "نیم بسمل" کے تمام جملہ حقوق (بشمولِ تحریر، مفہوم، اسلوب اور عناوین) بحقِ مصنف (محمد رضوان رضیؔ) محفوظ ہیں۔
مصنف کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر اس کتاب کے کسی بھی حصے، باب، یا اقتباس کو کسی بھی شکل میں (بشمولِ نقل، کاپی، ری ٹائپ، سوشل میڈیا پر اشاعت، آڈیو/ویڈیو ریکارڈنگ، یا کسی بھی تجارتی و غیر تجارتی پلیٹ فارم پر) استعمال کرنا، شائع کرنا یا تقسیم کرنا سخت ممنوع اور قانوناً جرم ہے۔ کسی بھی قسم کی اقتباس نگاری یا استعمال کے لیے مصنف سے باقاعدہ تحریری اجازت نامہ حاصل کرنا لازمی ہے۔
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔