".baab . 2 "
منظر ۔
کمرے میں ایک ہلکی سی روشنی تھی اور باہر خاموشی کا راج ۔
میز پر رکھی چای اب تھندھی ہو چکی تھی ۔
مگر اُسکا دھواں ابھی بھی یادو کے طرح ہوا میں
معلق تھا میرے سامنے و پرانی ڈائری کھلی تھی وہی ڈائری جس کے ہر سہ فہے پر وقت کی دھول نے ایک نیا صفحہ لکھ دیا تھا ۔
میںنے قلم اٹھایا پر میرے ہاتھ ٹھٹھک گئے ۔
خود سے گفتگو کرنا ہمیشہ سے ہی مشکل رہا ہے ۔
مگر آج یہ ڈائری مجھ سے سوال کر رہی تھی ۔
" کیا تم تیّار ہو ؟" میرے اندر سے ایک آواز آئی ۔
میںنے پنّ پلٹا ۔ وہ الفاظ جو برسوں پہلے لکھے گئے تھے. يبھی بھی زندہ محسوس ہو رہے تھے۔
وہ راستہ ، و سفر ، وہ لوگ ۔۔۔۔۔
سب کچھ واپس لوٹ رہا تھا لوگ کہتے ہے کی لکھنا آسان ہے، مگر کوئی اُنسے پوچھے کے جب خیال جاگتے ہے تو نیند کہا جاتی ہے ۔
میںنے لکھنا شروع کیا :
"کچھ ٹیسٹ کبھی ختم نہیں ہوتے بس ہم چلنا چھوڑ دیتے ہیں ۔اور کچھ سوال ایسے ہوتے ہیں ک
جنکے جواب صرف تنہائی میں ہی ملتے ہے ۔"
شهمیر نے ٹھٹھرتے ہاتھوں سے اس پرانی ڈائری کا اگلا پنا پلٹا ۔ وہاں کی تحریر تھوڑی دھندلی تھی ،
شاید ورق کی دھول یہ لکھتے وقت گیری ہوئی آنکھوں کی نمی نے الفاظوں کو پہلا دیا تھا ۔
اس صفحے پر شحمیرِ نے اپنی زندگی کا وہ موڑ لکھا تھا
جہاں اسنے سب کچھ پیچھے چھوڑ نے کا فیصلہ کیا تھا۔
" لوگ کہتے ہیں کی پہاڑوں کی بلندیوں پر سکون ملتا ہے ، مگر کوئی مجھے پوچھے ان برف پوش چوٹیوں کے درمیان کھڑے ہو کر بھی میرے اندر کی آگ کیو نہیں
تھمی ؟ وہ شام مجھے آج بھی یاد ہے جب سبز وادیوں پر سورج کی آخری کیرن پڑا رہی تھی اور میںنے اپنی زندگی کہ سب سے مشکل فیصلہ کیا تھا۔ "
شمیر نے قلم میز پر رکھ دیا اور تنڈی ہو چکی چائی
کی پیالی اٹھا لی ۔
اسنے ڈائری میں لکھا تھا کے کیسے اسنے اپنے کی خاموشی اور دوستوں کے طنز کو برداشت کیا ، مگر اپنے خوابوں سے دستبردار نہیں ہوا۔
اس ڈائری میں بس یادیں نہیں تھی ، بلکہ شہمیرِ کی وہ گفتگو تھی جو اسنے کبھی کسی سے نہیں کی تھی ۔ اُسکے ستّر ملک گھومنے کی داستان تھی ۔
شهمیر نے ٹھندی چای کا ایک گھونٹ بھرا اور نظر کھڑکی سے باہر جھنٹی اس پرانی پہاڈی کی طرف ٹیکہ دیں ۔ ذہین کے پردے پر وہی خاص لمحہ کسی پرانی
فیلم کی طرح چلنے لگا ۔
اُسنے ڈائری کے اگلے سفے پر الجھتے ہاتھوں سے لکھنا شروع کیا ۔
" وہ برف باری کی پہلی رات تھی ۔ جب سب اپنے گھروں کی گرمائش میں دبک گئے تھے ، میں اکیلا اُس سبز میدان کے بیچوں بیچ کھڑا تھا جو اب سفید چادر اوڑھ چکا تھا چاروں طرف ایسی خاموشی تھی کے مجھے اپنی سانسوں کی آہٹ صاف سنائی دے رہی تھی ۔
وہاں، اُس تنہائی میں ، میںنے پہلی بار محسوس کیا کے دنیا کا شور میرے اندر کے شور سے چھوٹا ہے ۔
میرے ہاتھوں میں کوئی قلم نہیں تھا ، مگر میرے دل نے اُس رات اپنی پہلی داستان لکھی تھی ۔
میںنے اُس پہاڑیوں سے سیکھا کے خاموش رہے کر بھی بلند کیسے رہا جاتا ہے ۔
لوگو نے کہا کہ میں پاگل ہو جو اس ٹھندی میں باہر کھڑا ہو ۔مگر اُنھیں کیا معلوم تھا کہ اُس ایک لمحے میں میںنے خود کو پا لیا تھا ۔ وہی لمحہ تھا جب میںنے فیصلہ کیا کے میں اب خود کو دوسروں کی نظروں میں تلاشنا چھوڑ دونگا ۔