منظر ۔
شهمیر نے ڈائری بند کی اور اس پر اپنا ہاتھ ہلکا سا ٹھپا ۔
جیسے کسی پرانی دوست کو رُخصت کر رہا ہو ۔
اُس لمحے کی یاد نے اُسے کمزور نہیں بلکہ پُراُمّید کر دیا
تھا ۔اس نے محسوس کیا کے یادوں کے بند کمرے میں رے کر انسان کبھی آگے نہیں بڑھ سکتا ۔
اُسنے کُرسی پیچھے ہٹھائی اور کھڑکی کے پاس جاتا کر کھڑا ہو گیا ، باہر آسمان پر ہلکی ہلکی سپیڈی نمودار ہو رہی تھی فجر کا وقت قریب تھا ۔
شهمیر نے اپنا پُرانا بیگ اٹھایا اور اُس میں صرف ضرورت کا سامان رکھا ۔ اُسنے ڈائری میز کے
دراز ( drawer ) میں نہیں چھپایا ، بلکہ اسے وہی کھولا چھوڑ دیا ۔ جیسے وہ اپنی پرانی زندگی کا ہر حصہ وہی چھوڑ رہا ہو ۔
" نائے راستہ ہمیشہ پرانی دہلیز چھوڑ نے پر ہی ملتے ہے ۔ " اُسنے ہلکی آواز میں خود سے کہا ۔
اُسنے دروازہ کھولا باہر کی ٹھندی ہوا نے اُسکا چہرہ چھوا ، مگر اس بار اُسکی تھیٹروں میں سکون تھا ۔
وہ جانتا تھا کے اب اُسکے پاس کوئی ٹھکانہ نہیں ہے ۔
مگر اُسکے پاس ایک مقصد تھا ۔ وہ اب اُن سبز پہاڑیوں سے بھی آگے جانا چاہتا تھا جہاں کی برف اب پگھلنے لگی تھی
اُسنے اپنے گھر کی چابی نیچے فرش پر پھینک دی اور بیگ کندھے پر ڈالتے ہوئے اُن راستہ کی طرف چل پڑا
جہاں اُسکے قدموں کے نشان پہلے کبھی نہیں پڑے تھے
اُسنے موڑ کر پیچھے نہیں دیکھا ، کیونکہ اب اُسکے نظر سامنے پھیلتے ہوئے اُفق ( horizon ) پر تھی ۔
باب ۔3
منظر ۔
سلطان میرزا کی وہ پرانی عمارت جہاں دولت کی نمائش تو تھی ، مگر رشتوں میں وہ گرمحات نہیں تھی ، آیت سلطان اُس گھر کا وہ حصہ تھا جیسے ہر کوئی نظر انداز کرتا تھا ۔
سلطان میرزا ، جو اپنے مرتبے اور کاروبار میں اتنے مصروف تھے کی اُنھیں اپنی ہی بیٹی کی آنکھوں میں چھپی اُداسی کبھی نظر نہیں آئی ۔ سچ تو یہ تھا کی وہ آیت سے ایک عجیب سی نفرت کرتے تھے ۔
شاید اسلئے کنکی آیت کی خاموشی اُنھیں اُنکے اندر کی کمزوری کا احساس دلاتی تھی ۔
بیگم شاہانہ جو صرف نام کی ماں تھی ۔ اُنکے سرا دھیان اپنی چھوٹی بیٹی ہانیہ سلطان پر ہی رہتا تھا ۔ ہانیہ ، جو اس گھر کی لاڈلی تھی ۔
جسکا ہر خوشی پر حق تھا ، اس گھر میں آیت صرف ایک سایہ بنکر رہ گئی تھی ۔
اُس وقت اُسکے لیئے ' حقیقت ' کا مطلب صرف وہی تھا کامیابی ، رتبہ اور دولت ۔ اُسنے کبھی ' صبر ' یہ 'خدا کے ذکر میں سکون ' جیسے الفاظ کبھی سونے ہی نہیں تھے ۔
آیت کے لیے زندگی کا مطلب صرف اُن دیواروں کے بیچ سمٹا ہوا تھا جہاں دولت کی نمائش نہیں ۔ اُسکی عادل
تھی۔
آیت نے اسی ناکامی اور نفرت سے بچنے کے لیے کتابوں کی دنیا میں پناہ لیے لی تھی ۔
وہ گھنٹوں لائبریری میں بیٹھی رہتی ۔ اُسکی اپنی کوئی دنیا نہیں تھی ۔ وہ ایک ایسی لڑکی تھی جو بس کتابوں میں سکون ڈھونڈتی تھی ۔
کیوں کی اُسکے اپنے گھر میں اسے صرف سارد مہری اور نفرت ملٹی ۔
جب وہ اپنی کتابوں میں گھوم ہوتی تو اسے لگتا یہی اُسکی حقیقت ہے ۔ ایک ایسی حقیقت جو کڑوی تھی ۔ لیکن کم سے کم اسے درد دینے والے چہروں سے دور رکھتی تھی ۔
وہ رات ابھی بھی آیت کے ذہین میں تازہ تھی گھر کا وہ بڑا سا ڈرائنگ روم ، جہاں سلطان میرزا کی گونجتی ہوئی آواز اکثر اسے کرچیوں میں طور دیتی تھی
بیگم شاہانہ کا چہرے جو ہانیہ کے لیے محبت سے بھرا تھا ، وہی آیت کے لیے پتہ نہیں پتھر کیوں
بنجاتا تھا ۔
" تمھیں کتابیں ہی پسند ہے نہ ، آیت ؟ تو جاؤ انہی کتابوں میں اپنی دنیا ڈھونڈو ۔ کیونکہ اس گھر میں تمہارے لیے کوئی جگہ نہیں ہے ۔ " سلطان میرزا کے ي الفاظ کسی خنجر کی طرح اُسکے سینے میں اترے تھے ۔
ہانیہ ، جو اپنی ما ں کے غود میں سر رکھ کر لیٹی تھی اُسنے ایک بار بھی اپنی بڑی بہن کو موڑ کر نہیں دیکھا ۔ اُسکی خاموشی ، آیت کے لیے اُس نفرت سے کہیں زدہ دردناک تھی جو اُسکے بابا کی آنکھوں میں صاف دکھائی دیتی تھی ۔
آیت ، نے کوئی جواب نہیں دیا ، وہ بینا کچھ کہے اپنے کمرے میں چلی آئی ۔
اُس دِن اُسنے پہلی بر محسوس کیا کے اُسکی حقیقت کتنی کڑوی ہے ۔ اس گھر کی دولت ، یہ بڑی بڑی عمارتیں ، ي شان وشوکت بس ایک کھولا تماشا تھا ، وہ کُرسی پر بیٹھ کر سوچ نے لگی ۔
اُسنے اپنے کمرے میں رکھی ہر چیز پر نظر گھمائی ۔
" یہ جگہ میری ہے پر مجھے اپنی محسوس کیوں نہیں ہوتی" ، وہ خود سے کہہ رہی تھی ۔
وہ اٹھی اور کمرے سے باہر آئی وہ کچھ دیر اپنے کمرے کے دروازے پر ہی کھڑی رہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُسنے لائبریری میں جانے کا فیصلہ کیا جو اُسکے ہی گھر میں بنائی گئی تھی جو آیت کے ہی لیے اُسکے دادا جان نے بنائی تھی ۔
وہ خود سے کہنے لگی ۔۔۔۔ کیسے دادا جان مجھے لائبریری میں بیٹھ کر کتابیں پڑھ کر سناتے تھے ۔ اُسکے آنکھوں میں آنسو چمکے ۔۔۔
وہ لائبریری میں داخل ہوئی اسے ہاوا کے ساتھ کتابوں کی ہلکی ہلکی خوشبو محسوس ہونے لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُن کتابوں میں اُس کتاب کو ڈھونڈ نے لگی جو اُسکے دادا جان لکھا کرتے تھے اُسنے وہ کتاب کو آخری بار اپنے دادا جان کی وفات سے پہلے دیکھی تھی ۔
" میں اتنے سالو سے اس گھر میں رہے رہی ہو پر آج اس گھر کی ہوا ، یہاں کے لوگ ، اس گھر کی دیوار ، سب کچھ گیرو جیسے محسوس ہو رہی ہے " ۔ وہ ہلکی آواز میں بڑبڑانے لگی ۔
اسے ایک کونے میں رکھی ہوئی اُس کتاب پر نظر گئی جِسّے وہ ڈھونڈ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُسنے وہ کتاب اپنے ہاتھ میں پکڑی اُسنے اپنے ہاتھ سے اُس کتاب پر جمی دھول صاف کرنے لگی ۔ "اتنی دیر سے دھن رہی ہوں شُکر ہے اب جا کر ملی ہے ۔ " اُسنے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ خود سے کہا ۔
وہ کہنے لگی دادا جان اکثر مُجھسے ي کتاب چھپاتے تھے آج تو مجھے دیکھنا ہی ہے کے کیا ہے اس کتاب میں ۔
اُسنے کتاب کا پنّا پلٹا اُس میں کسی ' عثمان مظہر ' کے بارےمیں لکھا ھوا تھا ۔
عثمان مظہر ؟ "ي کون ہے میںنے تو کبھی اس گھر میں ایسا کوئی نام نہیں سنا "۔ اُسنے حیرانی سے خود سے سوال کیا ۔