Safar e Raigah - 5 in Urdu Drama by Naheed Anis books and stories PDF | Safar e Raigah - 5

Featured Books
Categories
Share

Safar e Raigah - 5

منظر۔

رات کا اندھیرا گہرا ہوتا جا رہا تھا اور راستہ دشوارگزار. آیت کے ذہین میں ابھی بھی وہی باتے غنج رہی تھی جو اسے گھر چھوڑ نے پر مجبور کر گئی تھی ۔

اُسنے سوچا تھا کے راستے آسان ہونگے ۔ لیکن سرد ہواؤں نے اُسکے حوصلے ازمنہ شروع کر دیے تھے ۔


تب ہی اُسنے دیکھا کے دور ایک پرانی مگر پرسکون عمارت کی روشنی چمک رہی ہے ۔ یہ ایک مُسافر خانہ تھا ۔ جب وہ تھکی حاری وہ پونچی ، تو کاؤنٹر پر ایک شخص کھڑی تھی جو کسی پرانی ڈائری میں کچھ لکھ رہی تھی ۔


اُسنے سر اٹھایا تو آیت کی نظر اُسکی گھڑی اور پُروقار نظر سے ٹکرائی ۔ یہ "مبشرا منان " تھی ۔

"اس موسم میں مُسافروں کو کم ہی دیکھا ہے یہاں"۔ مبشرا نے لہجے میں ہلکی سی مسکراہٹ لیتے ہوئے کہا۔

"آپ کافی تھکی ہوئی لگ رہی ہے "۔


آیت نے صرف سر ہلا دیا ۔ اُسکے پاس الفاظ نہیں تھے ۔ بس ایک خاموشی تھی جو اُسکے اندر شور مچا رہی تھی۔ 


"چائی پیوںگی آپ اس ٹھندی میں سکون دیگی ". مبشرا نے مُسکراتے ہوئے پوچھا ۔

فکر مت کیجئے آپ کو میرے ساتھ ہی کمرہ شیر کرنا پڑھینگا ۔ مبشرا نے چائی کا کپ دیتے ہوئ

 کہا ۔

سلطان میرزا کے گھر سے نکل نے کے بعد ۔ آیت نے اپنی پہچان ، اپنا نام ، اپنی پرانی زندگی کو پیچھے چھوڑ دیا تھا ۔

کشمیر کی اُن پہاڑیوں میں ، جہاں بارش اور برف کے بیچ زندگی بہت مشکل سے چل تی ہے ۔

آیت نے ایک نئی شروعات کی ۔


 اُسنے ایک ہوسٹل کے چھوٹے سے کمرے میں رہنا شروع کیا ۔

نہ کوئی شان و شوکت تھی ، نہ بابا کا کو خوف نک سایہ۔

مگر حقیقت وہاں بھی اُسّے ملنے آئی ۔


وہ وقت بہت مشکل تھا ، جب وہ رات کو اکیلی ٹھندی ہواؤں کے بیچ بیٹھی۔ تو اسے احساس ہوا کے اُسنے دولت تو چھوڑ دی ۔ پر تنہائی اب بھی اُسکے ساتھ تھی ۔


وہ اکثر کسی چھوٹی کی لائبریری یہ کسی پرانے سے مکان کے کونے میں بیٹھ کر کتابیں پڑھا کرتی تھی ۔

اُس اجنبی شہر میں کتابیں ہی اُسکی دوست تھی ، 


لیکن کشمیر کی وہ سرد حقیقت جہاں چولہے میں لگ جلانے کے لیے بھی محنت کرنی پڑتی تھی ، ان چیزوں نے آیت کو بدل کر رکھ دیا تھا ۔ اُسنے محسوس کیا دولت کے بینا زندگی مشکل تو ہوتی ہے پر ایک سکون بھی ہ

وتا ہے ۔


وہاں اُسنے جانا کی زندگی صرف کتابوں میں لکھے الفاظ نہیں ، بلکہ اُنھیں جینے کا حوصلے ہے ۔


ایک دن برف گرّہی تھی اور آیت ، اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس بیٹھ کر چائی پی رہی تھی ۔


اُسنے باہر دیکھا تو اُسّے لگا وہاں کی خاموشی میں بھی ایک ذکر ہے ۔


اُسنے پہلی بر خدا کو محسوس کیا ایک ایسا سکون جو نہ اُسکے بابا کے محل میں تھا اور نہ اُسکے ماضی میں ۔


اُسنے وہاں لوگو کے بیچ رہنا سیکھا ، جہاں نہ کوئی "سلطان میرزا کی بیٹی تھی " نہ کوئی " ناکام لڑکی " وہاں وہ بس آیت تھی ۔


کشمیر کی اُن وادیوں میں آیت کا وجود ایک راز بن کر رہ گیا تھا۔ 

اُسنے اپنی پرانی زندگی کو اتنی گرائی سے دفن کر دیا تھا کے وہاں کے لوگو کے لیے بس وہ ایک " آنے والی " تھی جسکا کوئی ماضی نہیں تھا ۔



اُسنے " سلطان " نام کا استعمال کرنا بند کر دیا تھا وہاں وہ لوگو کے لیے صرف

" آیت" تھی .


محل کی مہنگی اور چمکدار لباس کی جگہ ، اُسنے وہاں کی عام ، سدے اور گرم لباس کو اپنایا ۔


اُسکی شکایت میں پہلے جو ایک غرور تھا ، وہ اب ایک عجیب سی سادگی میں تبدیل ہو گیا تھا ۔


اُسنے لوگو سے گلنا ملنا بہت محدود رکھا ۔جِسّے کوئی اُسکے خاندان یہ background کے بارےمیں سوال نہ کرے .


آیت اپنے کمرے میں بیٹھی ایک گھڑی سوچ میں تھی ۔

کیا ہوا آیت تم پریشان لگ رہی ہو ؟ مبّشرا نے فکر جتاتے ہوئے پوچھا ۔


آیت کے پاس دولت نہیں تھی اور نہ ہی وہ اپنے بابا سے کچھ مانگنے کا ارادہ رکھتی تھی ۔ اُسنے اَپنی ہیمنت سے جینے کا فیصلہ کیا ۔ وہ سوچ رہی تھی اُسکی اپنے خاندان کے بارےمیں میں مبّشرا کو بیٹا نہ چاہیے یہ نہیں ۔


آپ کچھ کہنا چاہتی ہو شاید ؟ مبّشرا میں ایک بر فر پوچھا۔


میں سوچ رہی ہی مجھے کچھ کرنا چاہیئے میرے پاس جو پیسے تھے و اب ختم ہونے کو آئے ہیں ۔ اُسنے اَپنی ہاتھوں کو ملتے ہوئے کہا ۔


تو آپ اپنے گھر والوں سے منگلو نہ مجھے بھی پیسے چاہیے ہوتے ہو تو میں اپنے گھر والوں سے ہی مانگتی ہو۔ اُسنے مکورتے ہوئے کہا ۔


اگر گھر والوں سے ہی کچھ مانگنے ہوتا تو میں گھر چھوڑ کر آتی ہی کیوں ۔ آیت نے اپنے ذہن میں سوچ ۔


نہیں گھر والوں سے نہیں منگ سکتی میں ۔ آیت میں ایک عجیب سے لہجے میں کہا ۔


اچھا تو آپ کوئی کام کرلو اگر آپ کے اختیار میں ہو تو ۔ 


کام ؟ میں کیا کام کرلو سکتی ہو پر ۔ آیت نے اُسکے دیکھتے ہوئے پوچھا ۔


 Bookbinding / Restoration.

آپ کا کتابوں کے لیے جو عشق ہی اُسنے کو اپنا کام بنا لیجئے اسے آپ کو زدہ پریشانی بھی نہیں ہوگی ۔آیت کچھ دیر خاموش ر

ہی ۔ ٹھیک کہہ رہی ہو تم۔


اگلی صبح آیت کشمیر کے کچھ پرانی لائبریری اور چھوٹے book- shops میں وہ پرانی اور پھٹی ہوئی کتابوں کو ٹھیک کرنے کا کام کرنے لگی ۔ 


جب آیت کام ختم کرکے ہوسٹل پہونچی تو مبّشرا کمرے میں بیٹھی کچھ پڑھ رہی تھی ۔ 


 ارے آپ آگئی ؟ مبّشرا نے کتاب سے نظر ہٹا کر آیت کو دیکھتے ہوئے کہا ۔


ہا میں بہت ٹھاک گئی ہو آج ۔ آیت میں میز پر اپنا بیگ رکھتے ہوئے کہا ۔


آپ کے لیے یہ پہلی ہے نہ اس لیے زدہ تھکن محسوس ہو رہی ہوگی ۔ 


آپ نے کچھ کھایا ؟ مبّشرا میں فکر جتاتے ہوا پوچھا ۔


نہیں کچھ کھانے کا بھی وقت نہیں ملا لائبریری میں ۔


تھی ہے چلو باہر کچھ کھانے چلتے ہی ۔ مبّشرا نے دروازے کی طرف چل تے ہوا کہا ۔


نہیں مبّشرا میں ابھی ہی باہر سے آئی ہو اب فر سے باہر جانے کا میرا من نہیں ہے ہوسٹل میں ہی کچھ کھیلتے ہیں۔


جو حکم ملکائیلی ! مبّشرا نے مزاخیہ لہجے میں کہا ۔

  

پاگل ہو مبّشرا تم ، آیت نے ہستی ہوئ

ے کہا ۔


بچوں کو تعلیم دینا وہ وہ کے کچھ غریب بچّو کو شام کے وقت اُنکے گھر جا کر پڑھنے لگے ۔

یہ کام اُسکے لیے صرف پیسے کمانے کا ذریعہ نہیں تھا ۔


بلکہ اُسنے اسی کام میں اپنے خدا کی تلاش ، اور سکون ڈھونڈ لیا تھا ۔


ہاتھوں کی کریگی (local crafts ) کچھ وقت بعد ، اُسنے لوکل کشمیری ڈیزائن کی کڑھائی ۔

  (embroidery) سیکھ لی جِسّے اُسّے اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے تھوڑی بہت آمدنی ہو جاتی تھی ۔


یہ اُسکے لیے بہت چھوٹا کام ہوتا اگر وہ " سلطان میرزا" کی بیٹی ہوتی لیکن " آیت " کے لیے یہ اُسکی آزادی تھی ۔


ہر روز صوبہ جب جو اپنے کمرے کی کھڑکی سے باہر پہاڑوں کو دیکھتی تو اُسّے لگتا تھا کی وہ آزاد ہے ۔

ایک ایسی آزادی جو دولت سے نہیں، بلکہ خود کے 

بال بوتے پر کھڑے ہونے سے ملتی ہے

۔