Safar e Raigah - 4 in Urdu Drama by Naheed Anis books and stories PDF | Safar e Raigah - 4

Featured Books
Categories
Share

Safar e Raigah - 4

اُسنے آگے پڑھنا شروع کیا ۔۔۔۔۔۔۔

بیٹا ، عثمان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میںنے آیت کو کبھی یہ احساس نہیں ہونے دیا کے سلطان میرزا اُسکا اصلی باپ نہیں ہے ۔

پتہ نہیں کیوں پر ي سوچ کر بےچینی ہوتی ہے کے میرے بعد سلطان اور بیگم شاہانہ آیت کا دھیان رکھینگے یہ نہیں۔

مجھے لگتا ہے میں اب اور زدہ دیں تک زندہ نہیں رہونگا میںنے اپنی ساری دولت آیت کے نام کی ہے۔
 تو سلطان ي برداشت نہیں کریگا تم تو اُسکا مزاج جانتے ہو ۔

میں دعا کرونگا کے وہ آیت کے ساتھ بٹسالوکھی نہ کرے 
میرے آنکھوں کی سامنے سے وہ منظر نہیں ہٹتا جب اس کار حادثے کے بعد میںنے ہسپتال ( hospital ) میں تمھیں اور تمہاری بیوی مریم کو دیکھا تھا میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کے وہ کفن میں لپٹا ہوا وجود میرے اپنے بچّے کا ہوگا ۔
سلطان میں جب آیت کو اپنی غود میں تھما تو اُسکے چہرے پر ایک سکون نظر آیا تھا پر اب وہ سکون ،وہ محبت اب نظر نہیں آتی ۔۔۔۔۔۔۔

آیت نے آگے پڑھنا چاہا پر اُس کتاب کے آگے کے پنّے پھٹے ہوئے تھے ۔

آیت ي سب پڑھ کر رونے لگی ۔
اُسنے کپتی آواز میں کہا " میں جو محبت اپنے لیے سوچ رہی تھی اس محبت پر کبھی میرا حق تھا ہی نہیں میں اکثر ہانیہ کو دیکھ کر سوچ کرتی تھی کے بابا اسے اتنا پیار کیو کرتے ہوگئے اور میرے ساتھ ایسا سلوک کیو کرتے ہوگئے آج مجھے اپنا ہر جواب مل گیا " 
جس پیار کے لیے میں ترستی رہی ہو میرے حصے کا کبھی تھا ہی نہیں ۔اُسنے کتاب میز پر رکھی اور اپنے کمرے کی طرف چلنے لگی ۔

اُس رات ، خاموشی سے اپنا چھوٹا سہ بستا اٹھا کر ۔ وہ اُس گھر سے نکل گئی تھی ۔
کوئی سہارا نہیں تھا بس وہ تھی ۔ اُسکی کتاب اور ایک کھولا آسمان ۔ اسے اُسنے پہلی بر اپنا محسوس کیا تھا ۔

سلطان میرزا کے لیے آیت کا گھر چھوڑ نے کوئی صدمہ نہیں ، بلکہ ایک " بوج " کا اتر جانا تھا ۔

جب اگلے صبح ملازم نے بتایا کہ آیت کا کمرہ خالی ہے ،
تو گھر میں ایک عجیب سہ سنّاٹا تھا ۔
سلطان میرزا نے ناشتے کے ٹیبل پر اخبار رکھتے ہوئے ایک بر بھی نظرے نہیں اٹھائی ۔
اُنکے لیے آیت کا گھر سے جانا ایسا ہی تھا جیسے کسی پرانی ناپسند چیز کو گھر سے نکل دینا ۔

اُنکے چهره پتھر کی طرح تھا ۔ اُنہونے بس ایک سرد لہجے میں کہا ۔
" جو اپنی مرضی سے گئی ہے اس سے ڈھونڈ نے کی کی کوشش مت کرنا ۔ جس گھر میں راکر وہ صرف میری نفرت اور اپنے خیالوں میں بیٹھتی رہتی تھی ۔وہاں اُسکی موجودگی سے بہتر اُسکا نہ ہونا ہے ۔

بیگم شاہانہ نے تھوڑا جھکتے ہوئے ہانیہ کی طرف دیکھا جو چپ چاپ اپنا ناشتا کر رہی تھی ۔ ہانیہ کی آنکھوں میں تھوڑی سی حیرانی تھی۔ پر شاید اُسکے دل میں بھی وہی بیُرخی تھی جو اُسکے بابا کے دل میں تھی ۔
 
سلطان میرزا نے اپنی چائی کا کپ اٹھایا اور بینا کسی ریگریٹ کے کہا ۔ " ہانیہ ، تمہارے ایگزیمز ہے ۔ پڑھائی پر تاوجو دو ۔ ایسی چیزوں سے گھر کا ماحول خراب ہوتا ہے ۔"

اُنکے لیے آیت کا ہونا یا نہ ہونا برابر تھا ۔ اُنہونے اُس رات کے بعد آیت کا نام تک نہیں لیا ۔جیسے وہ کبھی اُنکی بیٹی تھی ہی نہیں ۔
اُنکے لیے آیت بس ایک "غلطی " تھی جِسّے اُنہونے بھلا دیا تھا ۔

اس واقعے نے یہ صاف کر دیا تھا کہ آیت کی اُس گھر میں کوئی قدر نہیں تھی ۔ اُسکے جانے پر آنسو بہانے والا کوئی نہیں تھا ۔ بلکہ سننے اسے اپنا " سکون" سمجھ لیا تھا ۔