باب۔
اور پھر وہ دن بھی آ گیا جب شاہمیر اپنی تمام تر تیاریاں مکمل کر کے، ہسپتال کی مصروف زندگی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے کشمیر کے سفر پر روانہ ہو گیا۔
جہاز کی کھڑکی سے جب اس نے پہلی بار نیچے پھیلی کشمیر کی سفید برف پوش وادیوں اور بادلوں کو چھوتے اونچے پہاڑوں کو دیکھا، تو اس کے دل کو ایک عجیب سا قرار ملا۔ سرینگر ایئرپورٹ پر قدم رکھتے ہی ٹھنڈی اور خنک ہوا نے اس کا استقبال کیا، جس میں مٹی اور چنار کے پتوں کی ایک سحر انگیز مہک رچی ہوئی تھی۔ ہسپتال کے وارڈز کی وہ سسکیاں، دواؤں کی بو اور مشینوں کا شور اب بہت پیچھے چھوٹ چکا تھا۔
شاہمیر نے ایک گہرا اور لمبا سانس لیا، جیسے وہ اس وادی کے سکون کو اپنے اندر اتار لینا چاہتا ہو۔ ابھی اس کے دوستوں زاہد، فارس اور صابر کو پہنچنے میں کچھ وقت باقی تھا، اس لیے اس نے سوچا کہ کیوں نہ اس انجان شہر کی سڑکوں پر تھوڑا پیدل چلا جائے اور یہاں کے ماحول کو اپنے کیمرے کی آنکھ سے محسوس کیا جائے۔
وہ اپنے بھاری سفری بیگ کو کندھے پر لٹکائے، ہاتھ میں مہنگا کیمرہ تھامے، گھومتے گھومتے شہر کے ایک مصروف لیکن پرانے علاقے کی طرف نکل آیا۔ وہ کسی ولاگ کی شوٹنگ کے لیے نہیں، بلکہ سچ مچ اس ہجوم میں اپنے لیے کچھ لمحوں کا سکون ڈھونڈ رہا تھا، اور اسی تلاش میں چلتے چلتے اس کے قدم ایک پرسکون لائبریری کی طرف بڑھ گئے۔۔۔
شہر کی اس مصروف اور پرسکون لائبریری کے ایک کونے میں، جہاں کتابوں کی پرانی خوشبو فضا میں رچی بسی تھی، آیت ہمیشہ کی طرح بیگم شاہانہ کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق سر جھکائے بیٹھی تھی۔
اس کے سامنے کھلی کتاب کے صفحات تو پلٹ رہے تھے، مگر اس کا ذہن ہوسٹل کی ان تنگ دیواروں اور سلطان مرزا کی سخت پابندیوں کے گرد گھوم رہا تھا جن سے وہ تشنہ لب آزادی چاہتی تھی۔ اسے لگتا تھا کہ اس کی زندگی بس اسی خاموشی کا نام ہے۔
اسی پل، لائبریری کا بھاری شیشے کا دروازہ کھلا اور ایک ہلکی سی ہلچل ہوئی۔
آیت نے چونک کر نظریں اٹھائیں تو دیکھا کہ ایک لمبا، پروقار سحر انگیز شخصیت کا مالک نوجوان اندر داخل ہو رہا تھا۔
اس کے ایک ہاتھ میں مہنگا کیمرہ تھا اور کندھے پر ٹریولنگ بیگ۔ اس کے چہرے پر تھکن تو تھی، مگر آنکھوں میں دنیا بھر کے راستوں کو ناپنے کی ایک عجیب سی چمک تھی۔ وہ شاہمیر سکندر تھا، جسے دنیا اسکرین پر دیکھتی تھی، مگر وہاں وہ کسی ولاگ کی شوٹنگ کے لیے نہیں، بلکہ سفر کی اس بھیڑ سے دور چند لمحوں کے سکون کے لیے آیا تھا۔
شاہمیر نے چاروں طرف دیکھا۔ لائبریری میں تقریباً تمام میزیں بھری ہوئی تھیں، سوائے اس ایک میز کے جہاں آیت اکیلی بیٹھی چائے کا مگ تھامے کوئی کتاب پڑھ رہی تھی۔
وہ دھیمے قدموں سے آگے بڑھا اور آیت کی میز کے سامنے رک گیا۔
"Excuse me... کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں؟" شاہمیر کی گہری اور پرسکون آواز آیت کے کانوں سے ٹکرائی۔
آیت نے سہم کر سر اٹھایا۔ ایک اجنبی کو اتنے قریب دیکھ کر بیگم شاہانہ کے خوف کے سائے اس کے ذہن میں لہرائے، مگر شاہمیر کی آنکھوں کی سادگی اور ادب نے اسے منع کرنے نہ دیا۔ اس نے بغیر کچھ کہے، بس دھیرے سے سر ہلا دیا اور اپنی کتاب میں دوبارہ گم ہونے کی ناکام کوشش کرنے لگی۔
شاہمیر نے اپنا کیمرہ میز پر رکھا۔ اسی دوران، اس کی پاکٹ سے وہی پرانا، ستر ملکوں کی مہروں والا پاسپورٹ نکل کر میز پر آیت کی کتاب کے بالکل پاس گر گیا۔
آیت کی نظر اس جگہ جگہ سے مڑے ہوئے پاسپورٹ پر پڑی۔ تجسس کے مارے اس کے لبوں سے بے اختیار نکل گیا، "یہ۔۔۔ یہ کیا ہے؟"
شاہمیر نے، جو ابھی اپنی ڈائری کھول رہا تھا، آیت کی طرف دیکھا۔ اس نے محسوس کیا کہ اس لڑکی کی آواز میں ایک عجیب سا اکیلاپن اور معصومیت ہے۔ وہ یہ دیکھ کر حیران بھی ہوا کہ یہ لڑکی اسے 'شاہمیر سکندر' کے طور پر نہیں پہچانتی تھی، بلکہ ایک عام انسان سمجھ رہی تھی۔
"یہ میری دنیا کا نقشہ ہے،" شاہمیر نے پاسپورٹ اٹھاتے ہوئے نرمی سے مسکرا کر کہا۔ "ستر ملکوں کی مسافت کا حساب۔"
ستر ملک؟ آیت نے حیرت سے اپنی بڑی بڑی آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا۔ اس کے لیے، جو اس شہر کی سرحدوں سے باہر جانے سے بھی ڈرتی تھی، ستر ملکوں کا سفر کسی دوسری دنیا کا خواب تھا۔
"آپ۔۔۔ آپ اتنے ملک گھوم چکے ہیں؟" آیت کے لہجے میں وہ پہلی بار جاگنے والا تجسس تھا جو شاہمیر کے دل کو چھو گیا۔
"ہاں، مگر سچ کہوں تو، ان ستر ملکوں کی بھیڑ میں بھی اکثر ایسا لگتا ہے جیسے میں کوئی بہت اکیلا سفر کر رہا ہوں،" شاہمیر نے لاشعوری طور پر اپنے دل کی وہ بات کہہ دی جو وہ اپنے لاکھوں مداحوں سے چھپا کر رکھتا تھا۔
آیت نے اسے دیکھا۔ اس کے سامنے ایک ایسا شخص تھا جس کے پاس پوری دنیا کی وسعتیں تھیں، مگر وہ بھی اندر سے اتنا ہی تنہا تھا جتنا وہ اپنے بند کمرے میں تھی۔ اس ایک لمحے میں، دو بالکل مختلف دنیاؤں سے تعلق رکھنے والے انسانوں کے بیچ ایک ان دیکھا، ان کہیا رشتہ قائم ہو گیا تھا احساس کا رشتہ۔
"میں آیت ہوں۔۔۔" اس نے زندگی میں پہلی بار کسی اجنبی کے سامنے اپنے نام کا اعتراف اتنے مان سے کیا تھا۔
شاہمیر کے لبوں پر ایک گہری مسکراہٹ پھیل گئی۔ "اور میں شاہمیر۔ چلیے، اب اس سفر میں کم از کم اس میز تک کی خاموشی تو آدھی آدھی بانٹ ہی سکتے ہیں۔"
"آدھی آدھی خاموشی۔۔۔" آیت نے دھیمی آواز میں شاہمیر کے الفاظ کو دہرایا۔ اس کے لبوں پر بھی ایک ہلکی سی، نامحسوس مسکراہٹ ابھر آئی تھی، جو شاید خود اس کی مرضی کے بغیر ہی وہاں آ سجتی تھی۔
میز پر رکھی چائے کی پیالیوں سے اٹھتا ہوا دھواں ان دونوں کے درمیان موجود اجنبیت کی آخری دھند کو بھی اپنے ساتھ اڑا لے جانا چاہتا تھا۔ شاہمیر نے اپنی چائے کا کپ اٹھایا اور ایک نظر کھڑکی سے باہر پھیلے برفیلے منظر پر ڈالی، جہاں شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے اور دور پہاڑیوں پر جمی برف اب مدہم روشنی میں چمک رہی تھی۔
"سنا ہے سفر میں جب کوئی ہم سفر مل جائے، تو راستے کا خوف اور منزل کی بے چینی دونوں ہی آدھی رہ جاتی ہیں،" شاہمیر نے کپ واپس رکھتے ہوئے کہا، اس کی آواز میں اب وہ پہلے والی جھجک نہیں تھی بلکہ ایک اپنائیت سی گھل گئی تھی۔ "لیکن میں نے ہمیشہ اکیلے ہی سفر کیا ہے۔ اتنے لوگ ساتھ ہوتے ہوئے بھی، یہ پہلی بار ہے کہ کوئی واقعی میرے سامنے بیٹھا ہے جو مجھے 'شاہمیر' کے طور پر دیکھ رہا ہے، نہ کہ کسی اور حیثیت سے۔"
آیت نے اپنی نظریں جھکا لیں۔ اسے لگا جیسے شاہمیر کے دل کی گہرائیوں سے نکلے یہ لفظ سیدھے اس کے اپنے دل میں اتر رہے ہوں۔ وہ جو ہمیشہ خود کو اس شہر کی سرحدوں میں قید محسوس کرتی تھی، آج ستر ملکوں کا سفر کرنے والے اس شخص کے اتنے قریب بیٹھی تھی کہ دونوں کی تنہائی ایک جیسی لگنے لگی تھی۔
"میں زیادہ باتیں نہیں کرتی،" آیت نے سادگی سے اعتراف کیا۔ "مجھے۔۔۔ مجھے بس خاموشی پسند ہے، اور یہ پہاڑ، یہ برف۔"
شاہمیر نے گہرا سانس لیا اور محبت آمیز نظروں سے اسے دیکھا۔ "پھر تو ہماری خوب جمے گی، آیت۔ کیونکہ مجھے بھی اب باتوں سے زیادہ خاموشی کی زبان سمجھ آنے لگی ہے۔ چلیے، اس سفر کو ایک نئی شروعات دیتے ہیں۔"
کھڑکی کے باہر برفباری تیز ہو رہی تھی، لیکن اس چھوٹی سی جگہ پر، چائے کی خوشبو اور دو اکیلے دلوں کی یہ نئی دوستی، ایک عجیب سی گرمجوشی بکھیر رہی تھی۔
آیت نے اپنے پرس کی زنجیر کو بہت آہستہ سے بند کیا، تاکہ لائبریری کے اس پرسکون اور خاموش ماحول میں کوئی خلل نہ پڑے۔ اس نے سر اٹھا کر ایک بار پھر شاہمیر کو دیکھا، جس کی نظریں اب بھی میز پر رکھی کتاب کے کھلے صفحات پر ٹکی ہوئی تھیں، مگر اس کا دھیان کہیں اور تھا۔
"راستے کو ہی منزل سمجھ لینا۔۔۔" آیت نے شاہمیر کے الفاظ کو اپنے ذہن میں دہرایا۔ "لیکن شاہمیر، جب راستہ ہی منزل بن جائے، تو پھر مسافر کبھی تھکتا نہیں؟ کیا کبھی ایسا موڑ نہیں آتا جہاں پیر خود بخود رک جائیں اور دل کہے کہ بس، اب اور آگے نہیں جانا؟"
شاہمیر نے آہستہ سے مسکرا کر سر اٹھایا۔ لائبریری کی مدہم روشنی میں اس کی آنکھوں کا سکون صاف نظر آ رہا تھا، جیسے کوئی برسوں کی مسافت کے بعد پہلی بار کسی پرسکون سائے میں بیٹھا ہو۔
"آتا ہے، آیت،" شاہمیر نے بہت دھیمی اور سنجیدہ آواز میں جواب دیا، تاکہ لائبریری کی خاموشی برقرار رہے۔ "وہی موڑ تو ڈھونڈنے نکلا ہوں۔ ستر ملکوں کی مٹی میرے پیروں سے لگی ہے، لیکن دل کی زمین ہمیشہ بنجر ہی رہی۔ سفرِ رائگاں تب تک رائگاں رہتا ہے جب تک آپ کو کوئی ایسا انسان نہ مل جائے جو آپ کی آوارگی کو ایک ٹھہراؤ دے دے۔ جو آپ کو یہ احساس دلائے کہ اب مزید بھاگنے کی ضرورت نہیں ہے۔"
لائبریری کی بڑی سی کھڑکی کے باہر سرد ہوا چل رہی تھی، لیکن اندر کتابوں کی خوشبو اور ان دونوں کے اس گہرے مکالمے نے ایک عجیب سا احساس پیدا کر دیا تھا۔
آیت نے محسوس کیا کہ شاہمیر کے ان لفظوں نے اس کے اپنے اندر چھپی تنہائی کو بھی چھو لیا تھا۔ وہ لڑکی جو ہمیشہ اس شہر کی سرحدوں سے باہر کی دنیا سے ڈرتی تھی، آج دنیا گھوم کر آئے اس مسافر کے الفاظ میں خود کو پناہ لیتا ہوا محسوس کر رہی تھی۔
"اور اگر۔۔۔ اگر وہ ٹھہراؤ کبھی نہ ملے تو؟" آیت نے ایک ہلکے سے ڈر کے ساتھ پوچھا۔
شاہمیر نے گہرا سانس لیا، میز پر رکھی کتاب کو آہستہ سے بند کیا اور سیدھا آیت کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا، "مل جاتا ہے، آیت۔ کبھی کبھی وہ ٹھہراؤ کسی بہت بڑے شہر میں نہیں، بلکہ لائبریری کی ایک پرانی میز پر
، دو کتابوں کے بیچ ایک خاموش ہم سفر کے سامنے بیٹھ کر بھی مل جاتا ہے۔"