Safar e Raigah - 15 in Urdu Drama by Naheed Anis books and stories PDF | Safar e Raigah - 15

Featured Books
Categories
Share

Safar e Raigah - 15

منظر ۔


کیفے کی خاموشی اب بہت بھاری ہو گئی تھی۔ آیات نے اپنی نظریں نیچے کر لی تھیں، جیسے وہ ان پرانی یادوں کو دوبارہ دیکھ رہی ہو جنہیں وہ بھلانا چاہتی تھی۔ یہ آیات کی زندگی کا وہ زخم تھا جو اس نے برسوں سے اپنے دل میں چھپا رکھا تھا۔ شاہ میر نے دنیا کے ستر (70) ملک دیکھے تھے، مگر آیات نے اپنے ہی گھر میں ایک ایسا سفر کیا تھا جہاں اپنوں کے درمیان رہ کر بھی وہ اجنبی بن گئی تھی۔

"شاہ میر، آپ نے کہا تھا نا کہ سفرِ رائگاں کا مطلب راستے کا فضول ہونا نہیں ہوتا،" آیات نے دھیمی آواز میں کہا، اس کی آنکھوں میں ہلکی سی نمی تھی۔ "مرا سفر تو تبھی شروع ہو گیا تھا جب میں صرف ایک سال کی تھی۔ ایک کار حادثہ... اور میرے اصلی ماں باپ ہمیشہ کے لیے مجھ سے چھن گئے۔"
شاہ میر خاموش ہو گیا، اس کا کپ وہی میز پر دھرا رہ گیا۔

"میرے چچا، سلطان مرزا، نے مجھے گود (adopt) لے لیا۔ تب ان کی اپنی کوئی اولاد نہیں تھی، اس لیے مجھے لگا کہ شاید مجھے نیا گھر مل گیا ہے۔ مگر وقت نے عجیب کھیل کھیلا۔ جب میں تین چار سال کی ہوئی، تو ان کے گھر زوبیا پیدا ہوئی... اور بس، وہی سے سب بدل گیا۔"

آیات نے ایک گہری سانس لی، "سلطان مرزا کا رویہ میرے لیے بالکل بدل گیا۔ میں جو کبھی ان کی لاڈلی تھی، اب صرف ایک 'بوجھ' بن کر رہ گئی تھی۔ اس گھر میں صرف میرے دادا جان تھے جو مجھے ڈھیر سارا پیار کرتے تھے، مگر قسمت دیکھیے... ہانیہ کے پیدا ہونے سے ایک سال پہلے ان کا بھی انتقال ہو گیا۔ میرے پاس ان کی صرف دھندلی سی یادیں ہیں، اور ایک ایسا گھر جہاں میں رہتی تو ہوں، مگر وہاں کی دیواریں مجھے اپنا نہیں مانتیں۔"

شاہ میر نے دیکھا کہ آیات کی انگلیاں میز پر پڑے ٹشو پیپر کو مروڑ رہی تھیں۔ اس نے محسوس کیا کہ ستر ملک گھومنے کے بعد بھی، اس نے کبھی اتنا گہرا دکھ نہیں دیکھا تھا جتنا آیات کی ان چند باتوں میں تھا۔
شاہ میر نے آہستہ سے اپنا ہاتھ میز پر آگے بڑھایا، مگر رک گیا۔ اس نے صرف اتنا کہا:

"آیات... میں نے دنیا دیکھی ہے، مگر آپ نے زندگی دیکھی ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ راستہ بھٹک جانا برا ہوتا ہے، مگر کبھی کبھی بھٹک کر ہی ہم صحیح منزل تک پہنچتے ہیں۔ شاید آپ کا یہ 'سفرِ رائگاں' اب ختم ہونے والا ہے۔"

آیات نے سر اٹھا کر شاہ میر کی طرف دیکھا۔ اس کے لیے یہ صرف ہمدردی نہیں تھی، بلکہ پہلی بار کسی نے اس کے درد کو 'سفر' کا نام دیا تھا۔

کیفے کی خاموشی میں جب آیات نے اپنے ماضی کا پنہ کھولا، تو شاہ میر کو احساس ہوا کہ آیات اس کے سامنے جو بیٹھی ہے، وہ کوئی عام لڑکی نہیں—وہ ایک باغی (rebel) ہے جس نے اپنے سکون کی خاطر ایک آسائشوں بھرا گھر چھوڑ دیا تھا۔

"میں نے جب وہ گھر چھوڑا تھا شاہ میر،" آیات نے اپنی خالی ہتھیلیوں کو دیکھتے ہوئے کہا، "تو میرے پاس صرف دادا جان کی دی ہوئی کچھ یادیں تھیں اور ایک پرانا بیگ۔ سلطان مرزا کو لگا تھا کہ میں دو دن میں تھک کر واپس آ جاؤنگی، مگر انہیں نہیں پتہ تھا کہ جس انسان کا دل گھر میں ہی ٹوٹ جائے، اس کے لیے باہر کی سڑکیں زیادہ سکون دہ ہوتی ہیں۔"

شاہ میر نے گہری نظروں سے آیات کو دیکھا۔ وہ لڑکی جو ایک سال کی عمر میں اناث ہوئی، جسے اپنوں نے ہی پرایا کر دیا، آج وہ اپنے دم پر کھڑی تھی۔

"تو آپ نے اپنا 'سفرِ رائگاں' تبھی شروع کر دیا تھا جب آپ نے اس دروازے سے باہر قدم رکھا،" شاہ میر نے دھیمے سے کہا۔ "میں نے ستر ملک گھوم کر جو آزادی تلاش کی، آپ نے وہ ایک فیصلے میں پا لی۔ لوگ کہتے ہیں گھر چھوڑنا آسان ہے، مگر گھر چھوڑ کر 'خود کو پا لینا' سب سے مشکل کام ہے۔"


آیات نے ایک ہلکی سی، درد بھری مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا، "کیا آپ کو ڈر نہیں لگتا شاہ میر؟ کہ ہم دونوں ہی مسافر ہیں۔ دو مسافر جب ملتے ہیں، تو کیا وہ کبھی ایک جگہ ٹھہر سکتے ہیں؟"
شاہ میر نے کھڑکی سے باہر دیکھتی ہوئی سڑک کی طرف اشارہ کیا۔
"مسافر کا ٹھکانا مکان نہیں ہوتا آیات، مسافر کا ٹھکانا وہ انسان ہوتا ہے جو اس کے سفر کی تھکان سمجھ سکے۔ شاید میرا ستر ملکوں کا سفر صرف اس لیے تھا کہ میں یہاں رک کر آپ کی خاموشی سن سکوں۔"