Safar e Raigah - 22 in Urdu Drama by Naheed Anis books and stories PDF | Safar e Raigah - 22

Featured Books
Categories
Share

Safar e Raigah - 22

    منظر ۔

آیت نے ایک گہری سانس لی اور اپنی نظریں ڈھلتے ہوئے سورج سے ہٹا کر شاہمیر کی آنکھوں میں ڈال دیں۔ اس کے لہجے میں ایک عجیب سی سنجیدگی اور تھوڑا سا درد تھا۔


"شاہمیر۔۔۔ آپ نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میری زندگی کی کتاب میں کوئی ایسا کردار آیا جس نے میری قلم کو رونے پر مجبور کیا؟" آیت تھوڑا رکی، پھر دھیرے سے بولی، "لیکن سچ تو یہ ہے کہ۔۔۔ 'اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا'۔"


شاہمیر نے حیرت سے اسے دیکھا، اس کی شرارت اب ایک گہری توجہ میں بدل گئی تھی۔


آیت نے بات جاری رکھی، "ہم لڑکیوں کے لیے محبت اکثر ایک خواب ہوتی ہے، لیکن ہماری حقیقت ہماری ذمہ داریاں، ہمارے گھر والوں کی امیدیں اور ہماری اپنی پہچان کی لڑائی ہوتی ہے۔ میرے لیے میری لکھاوٹ صرف ایک شوق نہیں، میرا سہارا ہے۔ جب میرے اپنے مجھ سے کہتے ہیں کہ یہ سب وقت کی بربادی ہے، تو وہ دکھ کسی محبت کے ٹوٹنے سے کم نہیں ہوتا۔"


شاہمیر نے محسوس کیا کہ آیت کی باتوں میں کتنی سچائی تھی۔ اس نے دیکھا کہ آیت کی آنکھوں میں ایک چمک تھی وہ چمک جو صرف ان لوگوں میں ہوتی ہے جو اپنے خوابوں کے لیے دنیا سے لڑتے ہیں۔


"آپ صحیح کہہ رہی ہیں،" شاہمیر نے دھیمے لہجے میں کہا۔ "زندگی صرف ایک جذبے کا نام نہیں ہے۔ کبھی کبھی اپنے آپ کو ثابت کرنا ہی سب سے بڑی محبت بن جاتی ہے۔"


آیت نے ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، "بس وہی کوشش کر رہی ہوں۔ اس لیے میرے سفر میں ابھی کسی 'چہرے' کی جگہ نہیں ہے، بس اپنے الفاظ کی منزل ہے۔"

شاہمیر نے کیمرہ بیگ اٹھایا اور کھڑا ہو گیا۔ "تو پھر چلیے، اس سے پہلے کہ رات کا اندھیرا ہمارے راستے مشکل کر دے۔ 


گاڑی کے انجن کی ہلکی گنگناہٹ اور پہاڑوں سے آتی ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں کے بیچ ایک پرسکون خاموشی تھی۔ شاہمیر نے اسٹیرنگ وہیل پر انگلیاں بجاتے ہوئے، تھوڑا سا گردن کو موڑ کر آیت کی طرف دیکھا۔

"ویسے ایک بات کہوں؟" شاہمیر نے تھوڑا رک کر، شرارت سے پوچھا۔


آیت، جو کھڑکی سے باہر گزرتے ہوئے دھندلے پہاڑوں کو دیکھ رہی تھی، ہلکا سا مسکرا دی۔ "ابھی تک آپ نے مجھ سے اجازت کب لی ہے، جو اب پوچھ رہے ہیں؟"

شاہمیر ہلکا سا ہنسا۔ "پوائنٹ ہے۔ بس یہ سوچ رہا تھا کہ اگر ہم تھوڑی دیر اور اوپر رکتے، تو شاید اگلا ولاگ آپ کو میرے ہاسٹل کے بجائے پولیس چوکی سے بنانا پڑتا۔ وارڈن صاحبہ نے تو اب تک 'مسنگ پرسن' کی رپورٹ لکھوا دی ہوگی۔"


"آپ نا۔۔۔ بس بات کو مذاق میں اڑا دیتے ہیں،" آیت نے سر جھٹک کر کہا، مگر اس کی آنکھوں میں اب وہ پرانی جھجک نہیں تھی۔ ایک عجیب سا سکون تھا، جیسے وہ اس شخص پر بھروسہ کر سکتی ہو۔


"مذاق نہیں، آیت۔ سچ ہے۔ زندگی میں کبھی کبھی 'آؤٹ آف کوریج ایریا' ہونا ضروری ہوتا ہے، تاکہ خود کی آواز سنائی دے سکے۔" شاہمیر کا لہجہ اچانک سنجیدہ ہوا، تو آیت نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔


ہاسٹل کے گیٹ پر جب گاڑی آ کر رکی، تو دونوں کے درمیان ایک پُرسکون خاموشی چھا گئی۔ شاہمیر نے اسٹیرنگ وہیل سے ہاتھ ہٹائے اور کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ اس نے دھیرے سے گردن موڑ کر آیت کی طرف دیکھا، اس کی گہری آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی۔


"آیت۔۔۔ ایک بات پوچھنی تھی،" شاہمیر نے بہت دھیمے لہجے میں کہا۔


آیت، جو اپنا بیگ سنبھال رہی تھی، ایک پل کے لیے رک گئی۔ "جی، پوچھیے؟"


"کل کا کیا ارادہ ہے؟ مطلب۔۔۔ اگر آپ کل فری ہوں، تو کیا میں آپ کو اپنی ایک پسندیدہ جگہ لے جا سکتا ہوں؟" 


شاہمیر نے کافی سنجیدگی سے پوچھا، مگر اس کے لہجے میں ایک انجانی سی امید جھلک رہی تھی۔

آیت نے تھوڑی حیرت سے اسے دیکھا۔ "پسندیدہ جگہ؟ کوئی نیا پوائنٹ یا پہاڑی؟"


شاہمیر ہلکا سا مسکرا دیا۔ "نہیں۔۔۔ وہاں شور کم ہے اور سکون زیادہ۔ میں سوچ رہا تھا کہ ہم پرانی سٹی کی اس پرانی 'سینٹرل لائبریری' چلیں۔ وہاں کی عمارت پرانی ضرور ہے، مگر کتابیں بالکل نئی دنیا کی سیر کرواتی ہیں۔ آپ کو پسند آئے گا۔"


لائبریری کا نام سنتے ہی آیت کی آنکھوں میں ایک چمک سی آ گئی۔ اسے ہمیشہ سے کتابوں کے ڈھیر میں کھونا اور لفظوں کی دنیا میں جینا پسند تھا، اور شاہمیر کا یہ انتخاب اسے حیران کر گیا۔


"لائبریری؟" آیت نے مسکرا کر پوچھا۔ "آپ کو کیسے پتہ چلا کہ مجھے ایسی جگہیں پسند ہیں؟"


"بس۔۔۔ اندازہ ہو جاتا ہے کبھی کبھی،" شاہمیر نے شوخی سے کہا۔ "تو پھر۔۔۔ کل صبح دس بجے؟ میں یہیں گیٹ پر انتظار کروں گا۔"


آیت نے سر ہلا کر حامی بھر دی۔ "ٹھیک ہے۔ دس بجے۔"

وہ گاڑی سے اتری اور ہاسٹل کے اندر جانے لگی، مگر اس کے قدموں میں ایک عجب سی چستی تھی۔ شاہمیر

نے گاڑی پرک کی اور ہوسٹل کے اندر چلا گیا ۔