Safar e Raigah - 16 in Urdu Drama by Naheed Anis books and stories PDF | Safar e Raigah - 16

Featured Books
Categories
Share

Safar e Raigah - 16

منظر ۔


شاہ میر نے آیات کی باتوں میں چھپے اس پرانے درد کو محسوس کیا۔ اس نے دیکھا کہ آیات کی انگلیاں اب بھی ہلکی سی کانپ رہی تھیں، جیسے وہ ان پرانی یادوں کی ٹھنڈ سے اب بھی نکل نہیں پائی تھی۔


شاہ میر نے اپنے لہجے میں وہی ٹھہراؤ اور گرمی پیدا کی جو اس نے دنیا کے مشکل ترین سفروں میں سیکھی تھی۔ اس نے نظریں آیات کی آنکھوں میں جمائے رکھتے ہوئے بہت نرم آواز میں کہا 

"آیات... میری طرف دیکھے شامیر نے اتنے سکون سے کہا کہ آیات نے آہستہ سے سر اٹھایا۔


"میں نے ستر ملک دیکھے ہیں، ہزاروں چہرے پڑھے ہیں، مگر آج پہلی بار کسی کی ہمت نے مجھے حیران کیا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ راستہ ان کے لیے ہوتا ہے جن کے پاس گھر نہیں ہوتا... مگر سچ تو یہ ہے کہ راستہ انہی کو ملتا ہے جن کے اندر 'گھر' بسانے کی ہمت ہوتی ہے۔"


اس نے تھوڑا رک کر تسلی دیتے ہوئے کہا 

"آپ نے جو گھر چھوڑا، وہ صرف ایک عمارت تھی، آیات۔ وہاں دیواریں تھیں، مگر ان میں وہ گرمی نہیں تھی جو آپ کو محفوظ محسوس کروائے۔ سلطان مرزا نے آپ کو پرایا کیا، مگر انہوں نے انجانے میں آپ کو خود مختار بنا دیا۔ آج آپ جو ہیں، وہ اپنی وجہ سے ہیں، کسی کی مہربانی سے نہیں۔"


آیات کی آنکھوں میں ایک چمک آئی۔ شاہ میر نے آگے بڑھ کر میز پر اپنا ہاتھ رکھا چھوا نہیں، مگر اس کی موجودگی کا احساس دلایا۔


"آپ ڈرتی ہیں کہ دو مسافر کبھی ایک جگہ نہیں رک سکتے؟ تو سنیے... مسافر کبھی ٹھکانا نہیں ڈھونڈتا، وہ ہمسفر ڈھونڈتا ہے۔ اگر راستہ خوبصورت ہو اور ساتھ دینے والا سچا، تو منزل کی فکر ختم ہو جاتی ہے۔ آپ اکیلی نہیں ہیں، آیات۔ آپ کا یہ 'سفرِ رائگاں' اب میرا بھی ہے۔ میں آپ کے ماضی کے سایوں کو آپ کے آج پر بھاری نہیں ہونے دوں گا۔"


آیات نے ایک گہری سانس لی۔ برسوں بعد پہلی بار اسے ایسا لگا جیسے کوئی اس کے دکھ کو صرف سن نہیں رہا، بلکہ اسے 'سمجھ' بھی رہا ہے۔ شاہ میر کی باتوں میں وہی یقین تھا جو اس نے سولہ (16) سال کی عمر میں پہلا ویزا لگواتے وقت دکھایا تھا۔


شاہ میر کی یہ بات دکھاتی ہے کہ وہ صرف بڑے بڑے سفر کرنا نہیں جانتا، بلکہ چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے کسی کا دل بہلانا بھی جانتا ہے۔ جب انسان ماضی کے بوجھ سے تھک جائے، تو کبھی کبھی ایک آئس کریم اور ایک سچا دوست ہی کافی ہوتا ہے سکون کے لیے۔


آیات خاموش بیٹھی تھی، اس کی نظریں کہیں دور سڑک پر تھمی ہوئی تھیں، شاید وہ ابھی بھی سلطان مرزا کے اس گھر کی گھٹن میں سانس لے رہی تھی۔ شاہ میر نے اس کے چہرے کی اداسی کو بھانپ لیا۔ وہ جانتا تھا کہ ہر زخم کو صرف باتوں سے نہیں بھرا جا سکتا، کبھی کبھی دھیان بٹانا ضروری ہوتا ہے۔


شاہ میر نے ہلکی سی چٹکی بجائی اور مسکرا کر بولا 

"آیات... اب بہت ہو گئیں گہری باتیں! میں نے ستر ملکوں میں ایک چیز سیکھی ہے جب دل بھاری ہو، تو کچھ ٹھنڈا اور میٹھا کھا لینا چاہیے۔ چلیے، آج آپ کی فیورٹ آئس کریم کھاتے ہیں!"


آیات نے حیرت سے سر اٹھایا، اس کی اداس آنکھوں میں ایک پل کے لیے حیرانی آئی۔ "آئس کریم؟ اس وقت؟"

"ہاں، کیوں نہیں؟ سفر کا کوئی وقت نہیں ہوتا، اور آئس کریم کا تو بالکل نہیں!" 


شاہ میر نے اٹھتے ہوئے کہا۔ "میں نے سنا ہے یہاں کی 'چاکلیٹ آلمنڈ' یا 'وینیلا ود سی سالٹ' بہت مشہور ہے۔ آپ کو جو پسند ہو، آج میری طرف سے دعوت ہے۔"

آیات کے لبوں پر ایک ہلکی سی، سچی مسکراہٹ آ گئی۔ یہ وہی شاہ میر تھا جو کبھی سولہ سال کی عمر میں پہلا ویزا لگنے پر خوش ہوا تھا، اور آج وہ وہی پرانا جوش آیات کی زندگی میں بھر رہا تھا۔


"ٹھیک ہے... مگر ایک شرط پر،" آیات نے شرارت سے کہا، "آپ مجھے اپنے کسی ایسے ملک کا قصہ سنائیں گے جہاں آپ کو سب سے زیادہ ڈر لگا تھا۔"

شاہ میر نے قہقہہ لگایا، "منظور ہے! تو چلیے، آئس کریم اور ڈر کے قصو

ں کا سفر شروع کرتے ہیں۔"